ہم بھی وہاں موجود تھے
ہم جس شہر میں رہتے ہیں وہ سمندر کے کنارے آباد ہے اور آپ سمندر سے گھڑوں پانی بھر لیجیے وہ کم نہیں ہوتا۔ کچھ ایسی ہی شخصی خصوصیات ڈاکٹر حنا خان کی ذات میں نمایاں ہیں وہ ان مضبوط ستونوں میں سے ایک ہیں جس پر جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ کی عمارت قائم ہے۔
ڈاکٹر صاحبہ گزشتہ کئی برسوں سے طلبہ کی شخصیت سازی اور تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ شعبہ تاریخ کی چیئرپرسن بھی رہیں یہ اضافی ذمہ داریاں جس خوش اسلوبی سے آپ نے ادا کیں وہ الگ موضوع ہے۔ مگر گزشتہ ماہ وہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئیں، مگر ذمہ داریوں سے یقینی طور پر نہیں کیوں کہ وہ ہمہ گیر شخصیت کی مالک ہیں۔ شعبہ تاریخ نے اسی سلسلے میں ایک پر وقار تقریب منعقد کی جس میں ڈاکٹر صاحبہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا اس چھوٹی سی نشست میں شعبہ تاریخ سے تعلق رکھنے والے دیگر اساتذہ، ایڈمنسٹریشن کا عملہ، اور کچھ طلبہ و طالبات بھی مدعو تھے اس کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے اساتذہ اور ساتھی پروفیسرز اور کچھ نمایاں شخصیات نے بھی شرکت کی۔
ڈاکٹر صاحبہ بذات خود شرکاء کو ویلکم کرتی رہیں اس بات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کی ذات میں اپنی بڑائی اور تکبر کا شائبہ تک نہیں۔ یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر حنا کس قدر قابل، فن تحریر تقریر و تدریس میں ماہر ہیں، بے شمار نیشنل اور انٹرنیشنل کانفرنسز میں آپ کے پڑھے گئے ریسرچ پیپر نہایت سراہے گئے آپ نے خود بھی کئی ایک کامیاب کانفرنسز منعقد کروائیں بے شمار سیمینار، بحث و مباحثے، معلوماتی پروگرام، ملکی اور غیر ملکی تاریخ دانوں کے ساتھ طلبہ کی ملاقاتیں کروانا جو کہ طلبہ کے وژن کو بڑھانے اور کئی ایک حوالوں سے طلبہ کی ذہن سازی کردار سازی مثبت خطوط پر کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی رہیں۔
ڈاکٹر حنا خان کا طویل تدریسی کیریئر ادارہ جاتی بدعنوانیوں کے خلاف جدوجہد، طلبہ اور اساتذہ کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے غلط کو غلط کہنے اور سچ کی طاقت اور آواز ہونے سے عبارت ہے۔ ڈر اور خوف جیسے لفظوں کے لیے ڈاکٹر حنا خان کی ڈکشنری میں کوئی جگہ نہیں۔ مگر آپ ساتھی اساتذہ اور طلباء کے ساتھ اتنی شفیق اور مددگار ہیں کہ جس کی مثال ملنا مشکل ہے ہم طلباء نے کبھی آپ کے ماتھے پر شکن نہیں دیکھی اور شعبے کے در و دیوار نے کبھی آپ کی اونچی آواز نہیں سنی اس کے باوجود پڑھانے کا اندازہ ایسا کے جو کہا وہ دل میں اتر گیا۔
میڈم کے ساتھی اساتذہ اور پروگرام کے شرکاء نے اس اندازہ میں آپ کی شخصیت اور اپنے کام کے ساتھ خلوص ایمانداری اور لگن کو بیان کیا جس نے آپ کی ہمہ جہت شخصیت کو مزید معتبر بنا دیا اور پھر جب ڈاکٹر معیز نے ہمیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا تو سچی بات ہے میرے تو سارے الفاظ ہی کہیں گم ہو گئے جو کچھ کہنا تھا اور جتنا احسان میڈم کا ہماری زندگیوں میں ہے اس کی شکرگزاری کا شاید لفظوں میں احاطہ کرنا ممکن بھی نہیں بس ہم مجسم احسان تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کسی کو عہدے سے ریٹائر ہونے پر مبارکباد دی جانی چاہیے یا نہیں، مگر جس شخص کا کیرئیر نہایت شاندار، فعال اور بے داغ رہا ہو ان شخصیات کو ایک تو یہ کہ بھلایا نہیں جاسکتا اور وہ تمام تر مبارکباد اور خراج تحسین کے حق دار ہوتے ہیں۔
میں اس تحریر میں آپ کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں آپ کا جو احسان ہم تمام طلباء پر ہے وہ تو کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا، شکریہ جیسے الفاظ اس شکرگزاری کو کبھی احاطہ تحریر میں نہیں لا سکتے بس آخر میں ایک شعر ڈاکٹر حنا خان کے لیے جو شاید شاعر نے آپ کے لیے ہی کہا ہے۔
ہم خود تراشتے ہیں منزل کے سنگ راہ
ہم وہ نہیں کہ جنہیں زمانہ بنا گیا۔

