ہم سب کے مسیحا: ڈاکٹر سید ہارون احمد


یہ 1962 کا ذکر ہے، میں نے لائلپور کے کوہ نور اسکول سے درجہ ہفتم کا امتحان پاس کیا تھا کہ خاندان میں آنے والی ایک سونامی کی وجہ سے ہمیں کراچی منتقل ہونا پڑا۔ ایک مڈل کلاس گھرانا جس کے واحد کفیل ابی تھے۔ انہیں کراچی آتے ہی نوکری تو مل گئی تھی لیکن ”خاندانی سونامی“ کے ’اثرات مابعد‘ کی وجہ سے امی انہیں جناح ہسپتال کے شعبہ ء نفسیات میں لے گئیں جہاں ڈاکٹر ذکی اور ڈاکٹر ہارون نے ان کا کیس سننے کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کر لیا۔ آج کوئی اس بات کا یقین نہیں کرے گا کہ اس زمانے میں جناح ہسپتال کتنا صاف ستھرا ہوتا تھا، مریضوں کو مفت ادویات ملتی تھیں، کھانے کی مقدار بھی وافر ہوتی تھی اور ڈاکٹر ذکی اور ڈاکٹر ہارون جیسے معالج کس دلجمعی اور شفقت سے مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ یہ میرا ڈاکٹر ہارون سے پہلا غائبانہ تعارف تھا۔

فرسٹ ائر میں سراج الدولہ کالج میں داخلہ لیا تو مجتبیٰ حسین، عتیق احمد اور آغا مسعود حسین جیسے ترقی پسند اساتذہ کی بدولت کراچی بدر کیے جانے والے طلبہ سے غائبانہ تعارف ہوا۔ جو اب طلبہ لیڈر اور ان میں سے کئی سیاسی لیڈر بن چکے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ان میں سے ایک مشہور لیڈر علی مختار رضوی اپنی چھوٹی بہن قمر النساء کو ہمارے کالج میں داخل کرانے آئے تو ہمارا خوشی کے مارے برا حال تھا۔ ان کو تو ہم نے دور سے ہی دیکھا لیکن قمر سے اگلے دن ہی دوستی کر لی۔

ان لوگوں نے 1950 کے عشرے کے اوائل میں ڈی ایس ایف، ڈیمو کریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے طلبہ کے مطالبات کے حق میں ملک گیر تحریک چلائی تھی۔ اس وقت ڈاکٹر سرور اس تنظیم کے صدر اور ڈاکٹر ہارون ان کے سرگرم ساتھی تھے۔ آگے چل کر ان لوگوں نے اپنے اپنے شعبوں میں بہت نام کمایا۔ ان ہی سے متاثر ہو کر این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے معراج محمد خان جیسے طلبہ لیڈر سامنے آئے اور طلبہ کی تحریک کے دوران پولی ٹیکنیک کے ایک طالب علم کی شہادت کے نتیجے میں 1968 میں ایوب خان کو حکومت چھوڑنا پڑی اور یحییٰ خان کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرانے پڑے۔

ڈی ایس ایف اور این ایس ایف کے ان طلبہ نے عملی زندگی میں آنے کے بعد بھی ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور اس کے سنہرے مستقبل کے لئے کام کیا اور انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مشن بنائے رکھا۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی ہوں، ڈاکٹر ہارون ہوں، ڈاکٹر رشید حسن خان ہوں یا ڈاکٹر شیرشاہ اور دیگر سب نے عام پاکستانیوں کی بے لوث خدمت کی ہے۔

ہمارے ہاں ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں بہت کم جانکاری پائی جاتی ہے۔ اگر آپ جسمانی بیماری یا تکلیف کا شکار ہیں تو ہر کوئی آپ سے ہمدردی کرے گا لیکن میں نے اچھے پڑھے لکھے اور دانشور لوگوں کو دیکھا ہے کہ اگر انہیں بتایا جائے کہ فلاں شخص کسی ذہنی تکلیف یا نفسیاتی ڈس آرڈر کا شکار ہے تو وہ اسے چھوٹتے ہی پاگل قرار دے دیتے ہیں۔ ایسے ہی رویوں کو بدلنے اور ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لئے ڈاکٹر ہارون اور ان کے ساتھیوں نے پاکستان سائیکیٹرک سوسائٹی کی داغ بیل ڈالی۔ اس کے لئے وہ پی ایم اے (پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن) کو سراہتے تھے کیونکہ اس کی کانفرنسوں میں انہیں اور دیگر ماہرین نفسیات کو پاکستان میں ذہنی صحت کی صورتحال اور سائیکیٹرک پروفیشن کے بارے میں اپنی فرسٹریشن سے ایک دوسرے کو آگاہ کرنے کا موقع ملتا تھا۔

اس وقت جب سارے ماہرین نفسیات مایوسی کا شکار تھے، پی ایم اے اور برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک بڑے پروگرام میں انہیں خود کو منظم کرنے کا موقع مل گیا۔ جرنل آف پاکستان سائیکیٹرک سوسائٹی میں اپنے ایک مضمون میں ڈاکٹر ہارون نے لکھا ہے کہ 1966 کے دسمبر کی ایک ٹھنڈی سہ پہر میں بوٹ کلب کے لان میں ڈاکٹر افضل حبیب کی میزبانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر جی اے اصغر، ڈاکٹر ذکی حسن، ڈاکٹر ایچ اے جی قاضی، ڈاکٹر افتخار، ڈاکٹر ریحانہ بیگ، ڈاکٹر ہارون اور یو کے سے ڈاکٹر فرخ ہاشمی نے اس میٹنگ میں شرکت کی تھی۔ ان ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں متعدد جان لیوا بیماریاں پھیلتی رہتی ہیں، وہاں ذہنی بیماریوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ ماہرین نفسیات کی تعداد کم ہے اور مسائل بہت زیادہ ہیں۔ خود ہم بھی ذہنی امراض کا حوالہ دیتے ہوئے گھبراتے ہیں اور نیورو سائیکیٹری جیسی اصطلاحات کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔

چنانچہ اس میٹنگ کے نتیجے میں ان لوگوں نے خود کو سائیکیٹرسٹ کی حیثیت سے منظم کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کیا۔ سید ہارون احمد اس سوسائٹی کے روح رواں تھے۔ آنے والے سالوں میں انہوں نے ذہنی مریضوں کو مجرم قرار دینے کے خلاف لابنگ کی اور 2018 میں مینٹل ہیلتھ آرڈیننس میں لیجسلیٹرز سے ترمیم کرانے میں کامیابی حاصل کی۔ وہ چاہتے تھے کہ سوچ سمجھ کر جرم کرنے اور ذہنی بیماری کے زیر اثر کیے جانے والے افعال میں فرق روا رکھا جائے اور اس کا فیصلہ ماہرین نفسیات ہی کر سکتے ہیں کہ ان کا علاج ذہنی امراض کے اسپتال میں ہو گا یا انہیں جیل بھیجا جائے گا۔

ڈاکٹر ہارون پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کے بھی سرگرم کارکن تھے اور دونوں ممالک کے درمیان امن کے خواہشمند تھے۔ 1983 میں جب میں اور احفاظ صحافی کالونی گلشن اقبال میں منتقل ہوئے تو خواتین صحافیوں میں وہاں صرف شین فرخ ہی بچی تھیں، اس لئے ہم دونوں کی گاڑھی چھننے لگی۔ انیس اور ہارون دونوں میاں بیوی ان کے گہرے دوست تھے اور اکثر ان سے ملنے آتے تھے اور شین کے توسط سے ہماری ملاقاتوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ انیس اور ہارون کی ’مشہور کراچی‘ دعوتوں میں اکثر میں اور شین اکٹھے ہی جاتے تھے۔ دونوں میاں بیوی کراچی کی مشہور اور نمائندہ شخصیات رہے ہیں۔ ہارون صاحب کی وفات پر صرف انیس اور ان کے بچے سوگوار نہیں بلکہ سارے کراچی والے اور پاکستان اور ہندوستان اور دنیا بھر کے انسانیت اور امن پسند لوگ سوگوار ہیں۔ ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے۔

Facebook Comments HS