بھایا دل پہ لینے کا نہیں
آخری افطاری میں ابھی ڈھائی گھنٹے باقی تھے اور ہم سوشل میڈیا کی ورق گردانی کرتے ہوئے اپنا روزہ بہلا رہے تھے کہ اچانک ایک پوسٹ نظر سے گزری۔ صاحب پوسٹ خاصے دل اور قلم برداشتہ تھے۔ آخری سحری کے بعد ایسا ہونا عین مُمکن ہے۔ ہمیں تو عمر عزیز کے ماہ و سال نے سکھلا دیا کہ آخری سوئیاں نکلنے سے پہلے بہت تکلیف ہوتی ہے کیوں کہ برداشت بھی آخری دموں پہ ہوتی ہے لیکن ہر کوئی ہماری طرح آثار قدیمہ نہیں ہوتا، ہماری عمر کو پہنچیں گے تو بہت کچھ جان جائیں گے۔ برداشت کا کیا ذکر کریں کہ لغت کے پنے پہ پایا جانے والا یہ لفظ عملی زندگی میں عنقا ہو چکا ہے۔ روزہ بیچارا تو خواہ مخواہ ہی موردِ الزام ٹھہرتا ہے۔ اس بے چارے کا جو مقصود تھا اُسے ہم کب کا بھلا چکے۔ اب بات بے بات غصے کی عینک ہر وقت ہماری آنکھ اور ناک کے درمیان دھری رہتی ہے۔
کارن کیا ہے؟ بہت کچھ ہے جسے مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ بہت سی نا انصافیاں ہیں جو نظر آتی ہیں مگر ان سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ معاشی مسائل کا انبار ہے۔ سیاسی مسائل کے دھاگے تو اس بری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ سردست سلجھن کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ یہ سچ ہے کہ معاشرتی تار و پوہ ٹوٹ رہا ہے اور اس شکست و ریخت سے نبرد آزما ہونا عام آدمی کے لیے خاصا مشکل ہے۔ ان تمام مسائل نے آدم زاد کو گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ تشدد اور عدم برداشت جب سے زندگی کا چلن ٹھہرا ہے دلیل کمزور پڑ گئی۔ اب آدم زاد نے اونچی آواز کو ہی اپنا وتیرہ بنا لیا ہے۔ وہ بزعم خود سمجھنے لگا ہے گالم گلوچ اور اونچی آواز موقف کو بھاری بھرکم بنا دیتی ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کتے بھی اونچی آواز میں بھونکتے ہیں پر توجہ کتنی دیر بھونکنے پہ مذکور رہتی ہے؟ ارے بھئی ہمیں علم ہے کہ کتے کٹکھنے بھی ہوتے ہیں۔ اب باولے کتوں کا کیا حشر ہوتا ہے یہ بھی کوئی بتانے کی بات کی بات ہے۔
ارے صاحب ہم کہ مسمی نہ سیاسی لیڈر نہ دانشور اور نہ ہی سوشیالوجسٹ یا سائیکالوجسٹ کہ ان گتھیوں کو سلجھا سکیں اور نہ ہی بھاشن مطمحِ نظر ہے۔ ایک سادھارن آدمی کی طرح نیک دلی سے سمجھتے ہیں کہ جس کا کام اُسی کو ساجھے۔ سچی بات یہ ہے ہم علم کے اُس پست درجے پہ ہیں کہ بہت سی باتوں کو دل سے برا سمجھتے ہیں۔ حتی الامکان ان تضادات اور برائیوں سے پرہیز بھی جاری ہے اور بے آواز ان کو رد بھی کرتے ہیں مگر کیا کریں کہ چاہنے کے باوجود یہ آواز اندر ہی رہتی ہے باہر نہیں آتی۔ مُتعدد قدغنوں کے اس دور میں یہ باہر نکلنے سے ڈرتی ہے کیوں کہ پہلے آوازیں اُٹھا کرتی تھیں اب اُٹھا لی جاتی ہیں۔ کسی انجانی گُپھا کی یاترا کا اپنا کوئی ارادہ نہیں کہ ایک عدد مسکین سا شوہر ہمیں کہاں ڈھونڈتا پھرے گا؟
جب یہ پوسٹ نظر سے گزری تو سوچا ہم بھی کچھ جلتی پہ تیل ڈالیں پر وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں، پر کتھوں؟ تیل تو بہت مہنگا ہو چکا ہے اور یہ عیاشی سرِ دست ممکن نہیں تو سوچا کہ لفظوں کے ہی تیر چلا لیں مگر ہمارے یہ تیر بھی کُند ہیں۔ اول تو نشانہ ہی چُوک جاتا ہے اور اگر کبھی غلطی سے کسی کو لگ بھی جائے تو وہ شرمندہ کرنے کو واپس ہماری ہی جانب اُچھال دیتا ہے۔ اس سے یاد آیا کہ ایک مُلک کی یاترا پہ ہم نے ائرپورٹ پہ ہزاروں پرانے جہاز کھڑے دیکھے جو کسی کام کے نہ تھے کیوں کہ اس مُلک کے پاس نہ تو اُن کے کُل پرزے تھے اور نہ ہی ٹکنالوجی سے واقفیت یعنی کہ یہ محض دکھانے کے دانت تھے۔ نکتہ دان جانتے ہیں کہ انکل سام کچا کام نہیں کرتے۔ پُرانے جہاز اور پرانا اسلحہ جب اپنی مدت پوری کر لے تو کسی کام کا نہیں رہتا۔ ہمارے تیر بھی ایسے ہی ہیں۔
تفنُّن برطرف پر فلمی زبان میں بات یہ ہے بھایا کہ یہ سوشل میڈیا کی دُنیا بھی حقیقی دُنیا کی مانند ایک گورکھ دھندا ہے، سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ ہم اس نتیجے پر بہت پہلے پہنچ چُکے ہیں کہ نفسا نفسی کے اس دور میں غیر تو کیا اپنوں سے سے بھی توقعات باندھنا عبث ہے۔ بقول ہمارے چچا
جب توقع ہی اُٹھ گئی غالب
کیا کسی سے گلہ کرے کوئی۔
پرانے وقتوں کے لوگ کہتے تھے سمدھیانے اور پاخانے سے دوری بھلی۔ یہ بھی ایک طرح کا سمدھیانا ہی ہے جس سے جتنا دور رہیں بہتر ہے۔ مگر یہ ایک طرح نشہ بھی ہے سو حیوان ناطق لاکھ روئے پیٹے پر محبوب کی گلیوں میں بھٹکنے کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ قدم بے اختیار اسی کوچۂ ملامت کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ بقول شاعر گالیاں کھا کے بھی بے مزہ نہ ہوا۔ یعنی کہ نا جائے ماندن نا پائے رفتن، کہاں کو چلیں بی بی کُدّن؟ ایسا ہماری دادی اماں کہتی تھیں پر مطلب ہم نہیں بتانے والے کوشش کر کے خود ہی سمجھیں۔
اب کچھ ذکر ہو جائے پاخانے کا تو آج کی نسل یہ نہیں جانتی کہ پرانے وقتوں میں پاخانے گھر کے دور افتادہ کونے میں یا چھوٹے گھروں میں چھت پہ بنائے جاتے تھے تاکہ بدبو گھر کے اندر نہ بس جائے۔ اب آپ کا حُسن کرشمہ ساز اس ضرب المثل سے جو سمجھنا چاہے سمجھ لے۔
ان گلیوں میں کیا صحیح ہے کیا غلط ہے اُس کا حساب بقول شاعر ایسا ہے کہ
جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے
باغ تو سارا جانے ہے
یعنی کہ دیگر الفاظ میں وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ ہو وہی اُن کو ناگوار گزرتی ہے۔ آپ لاکھ صفائی دیں مگر پڑھنے والے کے مُرغے کی ایک ہی ٹانگ ہو اور وہ اُسی پہ کھڑے ہو کر بانگ دیتا ہو تو کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا ماسوا کرب میں مبتلا ہونے کے۔ جب یہ سمجھ لیا تو جان لیا کہ اک میں ہی غلط ہوں یارو باقی سب لوگ اچھے ہیں۔ اس کے بعد سے راوی قسمت میں چین ہی چین لکھتا ہے۔ فلمی بھائی تو یہی کہتا ہے کہ، دکھ لینے کا نہیں دینے کا پر ہم میں تو یہ وصف بھی نہیں مگر دلِ ناتواں نے اتنا ضرور سیکھ لیا ہے کہ، بھایا دل پہ نہیں لینے کا! مشورہ یہی ہے کہ جو کرنا ہے خاموشی سے کر گزرو۔ اعلانات سے سر پھٹول اور بڑھے گی مگر ہمیں یہ بھی علم ہے کہ ہمارا مشورہ صدا بصحرا ہی ٹھہرے گا تو جو پنچوں کی مرضی۔
پسِ تحریر یہ کہ اگر کوئی اُڑتا تیر حقیقی دنیا میں ٹکر جائے اور اس سے پہلے کہ شکایتوں کا دفتر کھولے تو کہو او مائی گاڈ، لونگ ٹائم نو سی! سوری یار اس وقت بہت ضروری کام سے کہیں جانا ہے، وی وِل کیچ اپ لیٹر۔ سوشل میڈیا کی گلیوں میں ارنے بھینسے دندناتے پھرتے ہیں ان سے سینگ نہیں پھنسانے کا۔ یہاں تو جان چھڑانے کے بہت سے راستے موجود ہیں۔ ہمارے خیال میں بھُس میں ڈالنے کو اتنی ہی چنگاری کافی ہے باقی بھایا خود سمجھدار ہے۔ فلموں کے بھائی یا بھایا نے زندگی آسان کر دی ہے۔ اب یہ الفاظ لکھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ”بھائی“ کون ہے؟ ہمیں بھایا زیادہ پسند ہے کہ کثیر المعنی ہے۔ ابھی یہ آخری سطریں لکھ ہی رہے تھے کہ خادم حسین نے خبر دی کہ باجی چاند نکل آیا۔ خدا کرے کہ عید کا یہ چاند سب کے لیے باعث راحت ہو۔


