کیا مجھے موت سے خوف آتا ہے؟
یہ سوال مجھ سے ابھی کچھ دیر پہلے کسی نے ان۔ باکس میں پوچھا، میں لمحے بھر کو خاموش رہا۔ پھر گہری سانس لی اور کہا ”نہیں، مجھے موت سے نہیں ڈر لگتا۔ مگر موت کے تکلیف دہ عمل سے، مہینوں بسترِ علالت پر پڑے رہنے سے، اسپتال کے ناقابلِ برداشت بِلوں سے، اور بے بسی کی اس کیفیت سے خوف محسوس ہوتا ہے، جہاں زندگی اور موت کے درمیان انسان محض ایک تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔“
اچانک موت سے زیادہ خوشگوار شاید ہی کوئی چیز ہو۔ نہ کسی درد کا احساس، نہ کسی جدائی کا کرب، بس ایک پل میں سب کچھ ختم۔ مگر ہاں، ایک خیال ضرور ستاتا ہے وہ جو پیچھے رہ جائیں گے، ان کی بے بسی، ان کی آنکھوں میں سمٹی اداسی، وہ سوال جو ان کے دل میں رہ جائیں گے، وہ آنسو جو شاید کبھی خشک نہ ہوں۔ لیکن اچانک موت تو اس سوچ کی بھی مہلت نہیں دیتی۔ تو خوف کیسا؟ شکست کیسی؟ موت کیسی؟
ارنسٹ ہیمنگوے کے شہرہ آفاق ناول ”The Old Man and the Sea“ میں بوڑھا سانتیاگو جب کافی محنت کے بعد جب مچھلی کو پکڑتا ہے تو راستے میں شارک مچھلیاں اس کا شکار نوچ کھاتی ہیں، اور ساحل پر پہنچنے تک اس کے پاس صرف ایک خالی ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ مگر سانتیاگو اس شکست کو یوں نہیں دیکھتا جیسے عام لوگ دیکھتے ہیں۔ اس کے لیے اصل جیت خود کو آزمانا اور لڑنا تھا، نہ کہ مچھلی کو ساحل تک سلامت پہنچانا۔ ہماری زندگی کا اصل مقصد بھی کسی انجام یا انجام کے خوف میں الجھنے کے بجائے، لڑنا اور اپنی ذات کو مکمل طور پر آزمانا ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو زندگی کو پوری شدت سے جیتے ہیں، چاہے انجام کچھ بھی ہو۔ اور جان ڈن کے مطابق تو ہر موت کو زوال ہے جسے وہ دلیری سے ”Death، thou shalt die“ سطر میں لکھتے ہیں۔
موت ایک اٹل حقیقت ہے، ایک ایسی سچائی جس سے فرار ممکن نہیں۔ اگر ڈرنا ہی ہے، تو اس سے کیوں ڈریں جو ہر حال میں آ کر رہے گی؟ کیوں نہ اس وقت کو بہتر بنایا جائے جو ہمارے پاس ہے؟ کیوں نہ زندگی کو اس خوبصورتی سے گزارا جائے کہ جب موت آئے تو ہم اس کا استقبال یوں کریں (شاید اس کا بھی وقت نہ ملے ) جیسے کوئی مسافر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو رہا ہو، ایک مکمل یا ادھوری کہانی لکھنے کے بعد ۔
اب میں یہ نہیں رائے دوں گا کہ قدرتی موت کے لئے دعا کرنی چاہیے، یا خواہش کرنی چاہیے، کیونکہ کائنات کے قدرتی قوانین یا غیر یقینی اصول ہماری خواہشات کے تابع نہیں ہیں۔ یہ دنیا کروڑوں سالوں سے بے ہنگم طریقے سے چل رہی ہے، اور ہزاروں سال بعد بھی شاید چلتی رہے گی اگر موسمیات تبدیلی یا قدرتی آفت نے اسے نہ آ لیا۔ ہم سے پہلے نہ جانے کتنے بادشاہ خاک میں مل گئے، کتنے سپہ سالار، کتنے شاعر، کتنے درویش، کتنے عاشق ہم سے کہیں بہتر لوگ، ہم سے زیادہ بہادر، ہم سے زیادہ ذہین اور خوبصورت لوگ پھانسی گھاٹ چڑھ گئے ہوں گے ، نجانے کتنے لوگ ایسے ہی دنیا سے جا چکے ہوں گے ۔ ایک اندازے کے مطابق، زمین پر بسنے والی 95 فیصد سے زیادہ انواع ہمیشہ کے لیے ناپید ہو چکی ہیں۔ ان میں سے کچھ کے صرف فوسلز باقی ہیں، جبکہ کئی کا تو نام و نشان بھی نہیں رہا۔ ایسے میں، اپنے وجود کو لے کر حد سے زیادہ فکرمند ہونا شاید بے معنی ہے۔ جب پوری نوعیں فنا کے گھاٹ اتر گئیں، تو فرد کی بقا کی کشمکش بھی کسی کائناتی سکیم میں معمولی سی لہر کے سوا کچھ نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کب تک رہیں گے، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیسے جی رہے ہیں؟
جو زندگی کو جی بھر کے جیتے ہیں، جو خطرے مول لیتے ہیں، جو اپنے نظریات پر مر مٹتے ہیں، وہی تعریف کے مستحق ہوتے ہیں۔ تاریخ ان ہی کو یاد رکھتی ہے جو جینے کا ہنر جانتے ہیں، جو موت سے خوفزدہ نہیں ہوتے بلکہ زندگی کو اس طرح برتتے ہیں کہ ان کی موت بھی ایک کہانی بن جاتی ہے۔
تو زندگی کا لطف اسی میں ہے کہ اس لمحے کو بھرپور طریقے سے جیا جائے، بغیر کسی خوف کے، بغیر کسی پچھتاوے کے، بغیر کسی لالچ کے، اچھے انسان کی طرح، جس میں قدرت سے محبت کا جذبہ اور انسانیت سے حسن سلوک کا درد موجود ہو۔


