جو قتل ہوا، وہ زندہ ہے
ذوالفقار علی بھٹو برصغیر کی تاریخ میں مخلوق خدا، مسلمانوں اور پھر ان دونوں میں موجود اکثریتی تعداد یعنی غریب، کمزور، بے بس، مقہور، مظلوم، بدبختیوں کے شکار انسانوں کے مایوس صحرا میں ان کے لئے صدائے ایمان و یقین، صدائے عزم و جہد، صدائے وقار و احترام بن کے ابھرا، گونجا، چمکا، تھرتھرایا، لوگوں نے اسے جئے بھٹو کے جھنکار آمیز نعروں کی یلغار میں کندھوں پہ اٹھا کے اعلان کیا، ہم ذلت کے مارے لوگوں کی صف میں سے نکلنے کے لئے تمہارے شانہ بشانہ ہیں، تمہارا بے حد شکریہ تم نے ہمیں جگایا، حوصلہ دلایا، آس بندھائی۔
ذوالفقار علی بھٹو کے ارتقائے انسانی کے اس سفر کو پاکستان میں موجود جس طبقے اور اس کے نمائندے نے ویران اور بنجر سرزمین میں بدل دیا۔ اس کی تاریخ ظلم اور شقاوت سے انسانی لہو پیتی، آبادیاں اجاڑتی، رونقیں کھا جاتی، شامیں برباد سے عبارت ہے۔ اس طبقے میں شامل پاکستان کے جاگیردار، سرمایہ دار، بڑے تاجر، عالم اسلام کی شہنشاہتوں اور عالمی سامراج کے ٹارگٹڈ مقاصد نے، جن کے آخری سرے پر مسلم دنیا کے تمام سر اٹھا کر جینے کے آرزو مند رہنماؤں کے سر جھکانا یا قلم کرنا لکھا تھا، عالمی سامراج اس طبقے کے ساتھ مل کر اس میں سو فیصد کامیاب رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت اس وقت تک انصاف کا قتل شمار ہو گا جب تک پاکستان کے عدالتی نظام کے ریکارڈ میں اس فوجداری مقدمے کو بطور مشکوک اور متنازع حوالے سے خارج نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ اس غیرمعمولی شخصیت کے اس عدالتی قتل پر نوحہ خوانی، ایک فرد کی موت پر آہ و فغاں کی نوعیت نہیں، اسے آپ دنیا بھر کے ان تمام مظلوموں کی آہوں کا سندیسہ سمجھیں جنہیں انصاف نہ مل سکا۔ شہید بھٹو نے کہا تھا۔
”سازشیوں نے افلاطون کے فلسفی بادشاہ کو ہٹا دیا۔ اس ٹولے نے ارسطو کے سیاسی حیوان کو ہٹایا۔ شکاری کتوں نے کار لائل کے ہیرو کو ہٹایا۔ انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کی تلوار کو ہٹایا اور سٹیج کو مسخروں اور بھانڈوں سے بھر دیا اور ابھی تک وہ بڑی ڈھٹائی سے پاکستان کی سلامتی کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ چکر صرف اقتدار کی ہوس پوری کرنے کے لئے چلایا گیا ہے۔ دستور کو عجائب گھر میں ڈال دیا گیا ہے اور کوڑوں کو پارلیمنٹ کا متبادل بنا دیا گیا ہے۔ معیشت کو رہزن، وڈیروں اور چھوٹے مڈل مین کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے“ ۔
”میرا خدا جانتا ہے کہ میں نے اس آدمی کا خون نہیں کیا۔ اگر میں نے اس کا ارتکاب کیا ہوتا تو مجھ میں اتنا حوصلہ ہے کہ میں اس کا اقبال کر لیتا۔ یہ اقبال جرم اس وحشیانہ مقدمے کی کارروائی سے کہیں کم اذیت اور بے عزتی کا باعث ہوتا۔ میں مسلمان ہوں اور ایک مسلمان کی تقدیر کا فیصلہ قادرِ مطلق کے ہاتھ ہی ہوتا ہے۔ میں صاف ضمیر کے ساتھ اس کے حضور پیش ہو سکتا ہوں اور اس سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس کی مملکت اسلامیہ پاکستان کو راکھ کے ڈھیر سے دوبارہ ایک باعزت قوم میں تعمیر کر دیا ہے۔ میں آج کوٹ لکھپت کے اس بلیک ہول میں اپنے ضمیر کے ساتھ پرسکون ہوں!“
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بیانئے کی یہ چند جھلکیاں کیا ہیں؟ ان میں اس سازش اور منصوبے کی ہمہ گیریت سامنے آتی ہے جس نے پاکستان کی سلامتی اور بقا کو تیندوے کی طرح جکڑ لیا اور اس کی دھرتی انسانی لہو کے لئے ارزاں کردی۔ اصل بحران ترقی پسند جماعتوں کے اندر موجود سیاسی شطونگڑے ہیں جو کہیں گینگ آف فور کی صورت میں اور کہیں اصلاح پسندی کے نام پر اپنے نفس پرستانہ مفادات کے لئے جماعتوں کی قیادت اور سادہ لوح عوام سے فریب کارانہ کھیل کھیلتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں 4 اپریل کا دن یومِ سیاہ ہے اس دن 1979 میں عظیم عوامی رہنما شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل درحقیقت انسانیت اور عوامی آواز کا قتل تھا۔ تاریخ کبھی ایسے رہنما کا قتل معاف کرے گی اور نہ بھولے گی جو ہمیں مسلم دنیا کی پہلی جوہری طاقت بنا کر ایک عظیم، ترقی یافتہ، پرامن اور طاقتور قوم بنانا چاہتا تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ ”ہم گھاس کھائیں گے، بھوکے بھی رہیں گے لیکن ہم اپنا ایٹم بم بنائیں گے، ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے“ ۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسا لیڈر تھا جس نے سویت یونین کے خاتمے اور ایشیا کے مستقبل کو بھانپ لیا تھا۔ اس نے بین الاقوامی دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کیا اور پاکستان کا جوہری پروگرام ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دل میں عوام، ملک اور مسلم امہ کے لئے درد تھا جس نے 1974 میں لاہور میں ہونے والی اسلامک کانفرنس میں مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے تاریخ رقم کردی۔ وہ نہ صرف ایک ممتاز قومی رہنما بلکہ ایک ایسا بے مثال سیاستدان تھا جس نے ڈھاکا کی علیحدگی کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار قوم کو متحد کیا اور 90 ہزار جنگی قیدیوں کو واپس لایا۔ کئی دہائیوں تک ملک آئین سے محروم رہا لیکن اس نے ایک ایسا آئین دیا جسے تمام سیاسی جماعتوں نے قبول کیا۔
پاکستان میں جتنے بھی رہنما آئے، بھٹو ان میں سب سے زیادہ کرشماتی رہنما تھا۔ آج بھی مسلمان بھائی پاکستان کو بھٹو کا پاکستان کہہ کر پکارتے ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں نے بھٹو کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا تھا، سی آئی اے نے جنرل ضیا کے ذریعے اسلام کو استعمال کرتے ہوئے کمیونزم کو روکنے کا منصوبہ تیار کیا۔ جس نے جہاد کے نام پر اپنی طرز کا اسلام پھیلایا، شدت پسندی، دہشتگردی اور ہر قسم کے جرائم کو فروغ دیا۔ پاکستان میں یہ انتہا پسند اور جرائم پیشہ عناصر امریکا نے پیدا کیے اور انھیں فروغ دیا تاکہ انھیں افغانستان میں بھیجا جائے۔ اپنے آقا کا حکم نافذ کرنے سے پہلے ان کے غلام جنرل ضیا نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو یقینی بنایا۔ قدرت نے جنرل ضیا اور اس کے ان ساتھیوں سے کس طرح انتقام لیا۔ عوام نے سی ون تھرٹی ہرکولیس کا حادثہ بھی دیکھا جس میں ضیا کا جسم بھی نہ مل سکا۔ جسٹس مولوی مشتاق بھی خدا کے قہر کا شکار ہوا اس کے جنازے پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا جس کے بعد جنازے میں شریک افراد کو قبرستان سے بھاگنا پڑا۔
جنرل ضیا نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کر کے بھٹوازم کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن تاحال وہ دلوں پر حکمرانی کرتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا کھیلا گیا خونی کھیل ابھی تک ہمارے ملک کی گردن نہیں چھوڑ رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خون کے اندر کے چھپے ہوئے خطرے ابھی بھی ہماری سلامتی اور بقا کو جکڑے ہوئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو ہر طرف سے دشمنوں نے گھیرا ہوا ہے۔ درحقیقت شہید ذوالفقار علی بھٹو کا قتل بین الا اقوامی طور پر ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھا۔ میکسم گورکی کا قول ہے : ”اگر مقدس حق دنیا کی متجسس نگاہوں سے اوجھل کر دیا جائے تو رحمت ہو اس دیوانے پر جو انسانی دماغ پہ یہ سنہرا خواب طاری کر دے۔“ ذوالفقار علی بھٹو کے تختہ دار پر سرفراز کیے جانے اور بی بی کے مرتبہ شہادت پر فائز ہونے کے بعد اس آئین اور اس مقدس حق کی یاد تک لوگوں سے اپنے باپ کی وراثت سمجھ کر ہتھیا لی گئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے برسوں قبل پاکستان کے عام آدمی کی اسی عزت نفس کے آدرش کا پیغام دیا تھا، اس کی صحیح معنوں میں جانشین صاحبزادی بینظیر بھٹو شہید نے لوگوں کی زندگیوں کے لئے اپنے باپ کے اس سربر آوردہ پیغام کی روایت کا علم بلند کر کے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اپنے لہو سے گواہی ثبت کی۔ بھٹو کے نظریات پوری دنیا میں مقبول ہیں، جس نے اپنی زندگی کی قربانی دے دی لیکن پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام ختم کیا اور نہ ہی اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ کیا۔ وہ اپنی زندگی بچا سکتا تھا اگر وہ ایک آمر کے ساتھ ڈیل کر لیتا، جو ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنما کے لئے ایک ناممکن کام تھا۔
حیرت میں ہے مقتل بھی اور خنجر بھی شرمندہ ہے
قاتل کی تو موت ہوئی، جو قتل ہوا وہ زندہ ہے۔


