جلالی پیر بابا سے اب کون کون جن نکلوانا چاہتا ہے؟

دراصل کمزور ایمان اور جہالت کا روزانہ کی عبادات اور ڈگریوں کی تعداد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ گھریلو ناچاقی کو بیٹھ کر بات چیت اور صبر و برداشت سے سلجھانے کی بجائے ایک ایسے فرد سے امید لگانا جس کا گھر سے کوئی لینا دینا ہی نہیں وہ گھر کا بھلا کیوں چاہے گا؟ اگر تمام گھروں میں امن ہو جائے تو اس کی دکان تو بند ہو جائے۔ اس لئے وہ مزید غلط فہمیاں ذہن میں ڈال کر انسانی نفسیات سے کھیل کر اپنا بزنس جاری رکھتا ہے۔ اولاد کا ہونا وہ بھی نرینہ کسی عامل کے ہاتھ نہیں۔ خود اللہ نے قرآن میں فرما دیا کہ جس کو چاہے بیٹی دوں جس کو چاہے بیٹے، تو پھر شک کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے ہیں سب صبح شام، جب اللہ نے انہیں اولاد نرینہ نہ دی ،پھر بھی وہ بیٹیوں کو لاڈ کرتے تھے تو پھر ہم اس چیز کو سنت کے طور پہ کیوں نہیں لیتے؟ جو کام سائنس و ٹیکنالوجی آج تک نہ کرواسکی بابا جی کیسے کروائیں گے؟
کاروبار میں مندہ یا بالکل ٹھپ ہو جانا ایک قدرتی عمل ہے۔ سدا تو کنواں بھی پانی نہیں دیتا پھر تدبیر کی بجائے دھاگے کیا سدھار لا سکتے ہیں؟ ساس…. یااللہ ایک میری ماں ایک اس کی ماں۔ اپنی ماں کیلئے دعا۔ اس کی ماں کیلئے بددعا۔ اپنی ماں کو سبق کہ بھابھی کو سر مت چڑھانا۔ اس کی ماں سے امید کہ میرے نخرے اٹھائے۔ بڑھاپا اکثر بیماریاں لاتا ہے اور فراغت دماغ کو شیطانی وسوسے دیتی ہے۔ جب ہر گھر میں یہ دو عوامل موجود ہیں تو یہ سفوف، دھاگے، تعویذ صرف بگاڑ ہی لائیں گے۔
اب آتے ہیں جن، جنات، سایہ کی جانب۔ بیماری بالخصوص ڈپریشن کی تمام علامات کو جن کا سایہ سمجھنا نہ صرف صریح جہالت بلکہ ایک انسانی جان کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے۔ بچے کے زیادہ رونے کا سبب بیماری ہے جن نہیں۔ جب ہر رات سونے سے پہلے بجائے اسے ہنسانے کے ڈرایا جائے گا تو وہ اپنے لاشعور میں ایسے خاکے بنائے گا کہ اپنے سائے کو بھی جن کا سایہ کہے گا۔ کاروباری نقصان، لڑکیوں کی شادی نہ ہونا یا تاخیر سے ہونے پر شدید معاشرتی دباﺅ اور توجہ حاصل کرنے کیلئے آواز بدلنا، اپنا آپ چھوڑ دینا یا آپے سے باہر ہوجانا ڈپریشن کی نشانیاں ہیں جس کا علاج ماہر نفسیات کرتا ہے پیر صاحب نہیں۔
ان سب چیزوں کا تعلق ہمارے دماغ اور اطراف میں نسل در نسل گردش کرتی من گھڑت کہانیاں ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب مذہب کے نام پر ہوتا ہے جبکہ مذہب کا دور دور تک ان چیزوں سے واسطہ نہیں۔ نام لے کر تعویز گنڈوں جیسی جہالت کی نفی کی گئی ہے مگر ہمارا معاشرہ جہالت کو اپنا انتخاب بنا کر خوش ہے۔ ایسے متعدد واقعات ہوئے اور مزید ہوں گے۔ 20 افراد کو ڈنڈوں اور خنجروں سے مارنے والے یہی پیر صاحب ہوں گے، جب جب پیشی پہ جائیں گے لوگ ان کے ہاتھ چومیں گے اور جب سرخرو ہوکر ‘باعزت‘ رہا ہوں گے تو لوگ ان کو سر سے پیر تک چومیں گے۔ پھر سے ڈیرا لگے گا۔ پھر سے عورتیں آئیں گی۔ اپنے بچے ان کے حوالے کر کے ڈنڈے سے پٹتا دیکھ کر شکر کریں گی کہ ’پیر صاب جن کڈ رئے نے۔ وڈی کرامات نے اینا دی ویکھو جن کس راں چیکاں مار دا اے‘۔
جب جہالت ایک قوم کا مقدر بن جائے تو ذلالت اس کے حصے میں لکھ دی جاتی ہے۔

