خادم اعلیٰ : مجھے میرا راحیل راؤ واپس چاہئے!

3 اپریل کو رات آٹھ بجے پولیس نے حسب روایت اس گھر پر پھر چھاپہ مارا اور ہمیشہ کی طرح منشیات فروش جن میں مرد و خواتین شامل ہیں نے دوڑ کر چھتیں پھلانگنا شروع کیں۔ دو گھر چھوڑ کر راحیل راؤ اکا گھر ہے۔ راحیل راؤ بنک آف پنجاب میں اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔ فلسفہ اور سماجی علوم کے طالبعلم ہیں ۔ سیاحت جنون ہے اور پاکستان سے محبت کے شدید پرچارک ہیں۔
راحیل راؤ دفتر سے تھکے ہوئے گھر آئے اور تھوڑی دیر کے لیے سو گئے۔ منشیات فروشوں میں سے ایک خاتون نے ان کی چھت پر چھلانگ لگائی ۔ ممٹی کا دروازہ کھلا ہوا تھا جس کے ذریعے وہ گھر نیچے پہنچ گئی۔ اسی اثنا میں گھر کا دروازہ پیٹا جانے لگا۔ راحیل راؤ ہڑ بڑا کر اٹھے ۔ ان کی بیوی اور بچے سہمے ہوئے اس خاتون کو دیکھ رہے تھے اور باہر دروازہ اس طرح پیٹا جا رہا تھا جیسے کوئی توڑ دے گا۔ سچویشن مکمل طور پر سمجھ سے باہر تھی۔

راحیل راؤ نے دروازہ کھولنے کے لیے قدم اٹھائے اور آواز دی کہ آ رہا ہوں کیوں دروازہ توڑ رہے ہو ۔ دروازے کو لاتیں اور لاٹھیاں ماری جا رہیں تھیں۔ راحیل راؤ نے ایک بنیان اور برمودہ پہناہوا تھا۔ کانپتے کانپتے دروازہ کھولا تو شلوار قمیض میں ملبوس دس غنڈے نما لوگ گھر میں گھس آئے۔ راحیل راؤ کو بری طرح دھکا دیا جس سے وہ لڑکھڑا کر گر پڑے۔ وہ سنبھل کر اٹھ ہی رہے تھے کہ انہوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا کہ چھت سے نیچے کون اترا ہے۔
یہاں کہانی میں ایک انتہائی تکلیف دہ موڑ آتا ہے۔ وہ عورت جو چھلانگ لگا کر گھر میں داخل ہوئی تھی نے شور مچا یا کہ یہی بنیان پہنے جو شخص ہے یہی اوپر سے "ہمارے” گھر میں کودا ہے۔
پنجاب پولیس کی شہرت دنیا بھر میں بتائی جاتی ہے۔ بہت سے لطیفے گھڑے جاتے ہیں اور اس شہرت کے حوالے ایسے ہیں کہ اس محکمے
میں اس طرح کے افراد کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔لیکن بجائے ڈوب مرنے کے یہ انہی لطیفوں اور اسی شہرت پر فخر کرتے ہیں۔

یہ وہ لمحے تھے کہ جس ملک کی محبت میرے خون میں ہمیشہ رواں رہی آج اسی دھرتی کے لیے میرے دل سے بدعا نکلی ۔ یہ میرے دل سے بد دعا نہیں نکلی بلکہ ایک بچوں کے سامنے پٹتے ایک باپ کے دل سے بد دعا نکلی۔
میں نے چیختے ہوئے پولیس والوں کو واسطے دیے کہ خدا کے لیے ایک منٹ صبر کر جاؤ میری بات سن لو۔ یہ میرا گھر ہے ۔ وہ میری بیوی ہے اور کمبختو وہ میرے بچے ہیں۔ میرا آ ئی ڈی کارڈ دیکھو ۔ اس پر ایڈریس دیکھو۔ خدا کے لیے میری بات سن لو۔
لیکن انہوں نے راحیل راؤ کو اٹھا لیا اور اٹھائے ہوئے گھر سے باہر لے آئے۔ راحیل راؤ تڑپ رہے تھے ۔ ہاتھ پاؤں مار رہے تھے لیکن پولیس والوں نے اٹھا کر گاڑی میں ڈال دیا۔ اتنے میں سارا محلہ اکھٹا ہو گیا ۔ محلے کے لوگوں نے پولیس والوں کو گالیاں دینا شروع کیں اور کہا کہ تم کو شرم نہیں آتی یہ راحیل راؤ صاحب ہیں ۔ انتہائی شریف النفس انسان ہیں ۔ یہ ان کا گھر ہے اور وہ عورت جو چیخ رہی تھی وہ چھلانگ لگا کر ان کے گھر میں داخل ہوئی۔اس پر پولیس والوں کا ماتھا ٹھنکا۔ اور اس عورت کو پکڑ کر گاڑی میں بٹھا لیا جبکہ راحیل راؤ کو چھوڑ دیا گیا۔
راحیل راؤ کو محلے والے تھام کر گھر لے آئے۔ ان کو کافی دیر تک ہوش نہیں آیا۔ حواس بحال ہوئے تو ایک دفعہ پھر آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔ بچوں کو گلے لگا کر خوب روئے۔
رات گیارہ بجے مجھے فون کیا۔ روتے رہے ۔ ہچکیاں رکیں تو کچھ بولیں بھی۔ داستان سنائی۔ مجھے داستان سے زیادہ ان آخری فقروں نے جھنجوڑا جب انہوں نے کہا کہ بتاؤ ان بد بختو کو جو ہمارے حکمران ہیں ۔ بتاؤ اس خادم اعلیٰ کا ٹائٹل سجانے والے کو ۔۔۔میں تمھاری بجلی کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔ میں تمھاری پکی پکائی روٹیوں پر آسرا نہیں کرتا۔ مزدور آدمی ہوں کچھ نہ کچھ کر کے بچوں کا پیٹ پال لوں گا۔ مجھے صرف ایک عزت نفس عزیز تھی ۔ میرے بچے سمجھتے تھے کہ ان کا باپ بڑا افسر ہے اور پڑھا لکھا آدمی ہے صاحب عزت ہے اور ہر کوئی تکریم سے پیش آتا ہے ۔ میرا کل اثاثہ تو یہی تھا۔ وقار بھائی آج یہ بھی گیا۔ اب آپ کے ملک پر جو عذاب آئے سو آئے میرا کیا جاتا ہے۔ میرا جو جانا تھا چلا گیا۔

عمران خان کی نیک نیتی اپنی جگہ لیکن سوچ رہا ہوں کچھ ایسا ہو جائے کہ مجھے میرا وہ راحیل راؤ واپس مل جائے جو گلگت بلتستان میں ٹور کے دوران ہرآبشار کے پاس جا کر کہتا ہے ۔۔ دیکھو استاد جی یہ پاکستان کے پاس ہے ، ہے کوئی ایسی آبشار دنیا کے پاس۔۔۔وہ دیکھو استاد جی نانگا پربت ۔۔یہ دیکھو استاد جی درویش صفت سندھو دریا ۔۔وہ دیکھیں استاد جی راکا پوشی ۔۔۔ استاد جی مان لیں میری بات یہ سب پاکستان کے پاس ہی ہے ۔
میرے راحیل راؤ کو پاکستان پر بڑے مان تھے "خادم اعلیٰ”
مجھے میرا راحیل راؤ واپس چاہیے!
تازہ ترین اپ ڈیٹ
”شہباز شریف کا شکریہ جنہوں نے ہم سب کا یہ کالم پڑھا اور احکامات صادر کیے۔ آئی جی اور ڈی آئی جی سمیت تمام اعلی افسران کا شکریہ جو ان تمام اہلکاروں کو جنہوں نے راحیل راؤ سے زیادتی کی راحیل کے گھر لے کر گئے۔ تمام اہلکاروں کو کہا گیا راحیل صاحب اور ان کے بچوں سے فردا فردا ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں۔ تمام اہلکار معطل کر دیے گئے ہیں۔ اعلی افسران نے راحیل راؤ صاحب کو یقین دلایا کہ آئندہ پولیس کسی شریف شہری کے ساتھ ایسی گھٹیا حرکت نہیں کرے گی۔ راحیل راؤ نے اہلکاروں کو کہا کہ میرے بچے جہاں کوئی فوجی یا پولیس اہلکار نظر آتا اس کو سیلیوٹ کرتے ہیں آپ کی وردی کا احترام کرتے ہیں آپ کب اپنی پولیس وردی کا احترام کریں گے۔ عدنان کاکڑ اور ایکسپریس کے نیوز اینکر عمران خان کا خصوصی شکریہ جن کی کوششوں سے یہ سب کچھ ہوا“۔


Comments are closed.