سی پیک کے خلاف دشمنوں کی سازشیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب پاکستان اور چین نے سی پیک کے معاہدے کا اعلان کیا اور اس کے تحت 46 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری کی خبر عام ہوئی تو پاکستان کے دشمنوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ دنیائے اسلام کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک جو سب سے زیادہ طاقتور فوج بھی رکھتا ہے، اتنی بڑی رقم کے ساتھ کیا قیامت لائے گا، یہ سوچتے ہی ہندوستان، اسرائیل اور ایلومیناٹی کی نیند حرام ہو گئی۔

اس اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لئے دو محاذوں پر کام شروع کیا گیا۔ پہلا تو یہ تھا کہ پاکستان کے اندر مشرقی مغربی روٹوں کی بحث چھیڑ دی جائے۔ یہ معاملہ بہت زیادہ گرم ہوا لیکن اس وقت ٹھنڈا پڑ گیا جب اس وقت چینی سفیر کے طور پر ذمہ داریوں سرانجام دینے والے لیجیان ژاؤ صاحب نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے سینیٹر ثنا بلوچ سے مذاکرات کرتے ہوئے باقاعدہ وضاحت پیش کی کہ سی پیک کی مخالفت کرنے والے پاکستانیوں کے بلڈ گروپ میں طبی مسئلہ ہے۔ انہوں نے صحافی سیریل المیڈا کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خلل دماغ کا شکار ہیں کیونکہ وہ احمقانہ باتیں کرتے ہیں اور المیڈا صاحب دل کی خرابی میں بھی مبتلا ہیں۔ واقعی، چینیوں نے طب میں بڑا کمال حاصل کیا ہے۔ اگر چینی بھائی ہمارا مشورہ مانیں تو چینی طب کے دوا خانے بھی سی پیک میں شامل کر لیں۔ اس سے ملک بھر کی دیواروں پر چین کی مفت میں پبلسٹی بھی ہو جائے گی۔

لیجیان ژاؤ صاحب کی بروقت مداخلت سے اس محاذ پر پاکستان دشمن ممالک اور تنظیموں کی یہ سازش ناکام ہو گئی اور وہ وار کرنے کے لئے نیا پہلو تلاش کرنے لگے اور اس میں ان کو دیر نہ لگی۔

اچانک 2014 سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں خبریں آنے لگیں کہ گلگت بلتستان سے ملحقہ چین کے سنکیانگ صوبے میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہو رہے ہیں۔ وہاں ان کو روزے رکھنے سے روکا جا رہا ہے۔ طلبہ، اساتذہ اور سرکاری ملازمین پر حکم لگایا گیا ہے کہ روزہ نہ رکھیں۔ ماہ صیام میں راہ چلتے لوگوں کو روک روک کر کھانا کھلایا جاتا ہے۔ ایسا تاثر دیا گیا کہ سنکیانگ میں یہ سب کچھ مذہبی پہلو سے کیا جا رہا ہے۔

اس ماہ سے میڈیا میں شور مچایا جا رہا ہے کہ سنکیانگ میں برقعے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ائیرپورٹ اور سرکاری عمارتوں میں حیا دار برقع پوش خواتین کے داخلے پر ان کا برقع اتروا کر ان کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ مردوں کی لمبی داڑھیاں غیر قانونی قرار پائی ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ باقی اشیا میں حرام حلال کی تمیز کرنے والے کو قید کیا جائے گا یعنی شیونگ برش، چمڑے اور نیل پالش وغیرہ ایسی اشیا جو کہ آپ آسانی سے کھا نہ سکیں، کو حرام حلال قرار دینے پر سزا ہو گی۔ بچوں کو سکول بھیج کر پڑھایا لکھایا جائے گا۔ ریڈیو ٹی وی وغیرہ کی نشریات سے عوام کو محروم کرنے پر سزا ہو گی۔ سائنس سے عقیدت پیدا کی جائے گی۔ جہاد کو برا سمجھا جائے گا۔

اس مغربی پروپیگنڈے کو اچھال کر پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو للکارا جا رہا ہے کہ تم فرانس کے بیچ پر حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف جلسے کرتے ہو۔ امریکہ میں داڑھی والوں کے ساتھ ائیرپورٹ پر بہیمانہ سلوک کے خلاف جلوس نکالتے ہو۔ سوئٹزر لینڈ میں مسجد کے مینارے بنانے پر پابندی کے خلاف ہلڑ مچاتے ہو۔ مگر چین میں تو روزے، نقاب، داڑھی وغیرہ ہر شے پر ہی پابندی ہے، اس کے خلاف کیوں نہیں جلسے جلوس نکالتے؟

شکر ہے کہ ہماری مذہبی جماعتوں کی قیادت ان دانشمند مدبرین کے ہاتھ میں ہے جو کہ اسرائیل، ہندوستان اور ایلومیناٹی کی سازشوں کو سمجھتے ہیں۔ آئیے آپ پر بات واضح کرتے ہیں کہ اس معاملے کی حقیقت کیا ہے اور ہمارے یہ مدبرین کس وجہ سے خاموش ہیں۔

سنکیانگ کے صوبے کی حکومت بھی مسلمانوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔ وہاں ایغور، ہوئی اور قزاق نسل پر مشتمل 58 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ ہماری رائے میں سنکیانگ کی مسلم حکومت گرمی کی شدت کی کو دیکھتے ہوئے محض جان بچانے کی خاطر لوگوں کو کھانے پینے پر مجبور کرتی ہو گی۔ یہ تو محض روزہ توڑنے کا معاملہ ہے ورنہ جان کی حرمت تو ایسی بیان ہوئی ہے کہ اس کو بچانے کی خاطر حرام بھی حلال قرار پایا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ سال دو سال پہلے کراچی میں گرمی کی ایسی شدت ہوئی تھی کہ سینکڑوں لوگ ماہ صیام میں بھوک پیاس کی وجہ سے سن سٹروک کا شکار ہو کر چل بسے تھے۔ ساحلی شہر کراچی کا موسم تو معتدل ہے، سنکیانگ تو ایک صحرا ہے۔ محض ان مسلمانوں کی جان بچانے کی خاطر سنکیانگ کی حکومت ان کو کھلاتی پلاتی ہو گی۔

سنکیانگ میں مقامی برقع پہنے ہوئے دو بھارتی جاسوسائیں

اسی طرح نقاب اور بے ہنگم حد تک بڑھی ہوئی داڑھی پر پابندی کا معاملہ بھی ایک حکمت کی وجہ سے ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے بڑی تعداد میں بھارتی جاسوس سنکیانگ بھیجے گئے ہیں۔ یہ جاسوس بھاریت پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں تاکہ ان کو لہجے کی وجہ سے پنجابی طالبان سمجھا جائے۔ سنکیانگ میں ایک ایسی ہی برقع پوش عورت واضح طور پر نہ دیکھ سکنے کے سبب ٹھوکر کھا کر گری تو اس کے سر پر ایسی شدید چوٹ آئی کہ وہ بے ہوش ہو گئی۔ ہسپتال میں اس کو طبی امداد دینے کی خاطر اس کا نقاب الٹا گیا تو ڈاکٹر یہ دیکھ کر حیرت سے گنگ ہو گئے کہ اس کے ماتھے پر بندیا جگمگا رہی ہے جسے چھپانے کی خاطر وہ برقع پہنے ہوئے تھی۔ اس خوفناک انکشاف کو فوراً حکام کے علم میں لایا گیا جنہوں نے چند مزید برقع پوش خواتین کے نقاب الٹ کر دیکھے تو ان میں سے بیشتر بندیا لگائے ہوئے تھیں۔ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ بے ہنگم داڑھیوں والے مردوں کا طبی معائنہ کیا گیا تو علم ہوا کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ سکھ تھے۔ ان کے موبائل سے بھی مہدی حسن کی غزلوں کی بجائے دلیر مہندی کے بھنگڑا گیت برآمد ہوئے۔

اس کے بعد سنکیانگ کی حکومت نے قانون بنا دیا کہ نقاب والی عورت اور بے ہنگم داڑھی والے مرد کو دیکھتے ہی پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔ ان مرد و زن کو صرف بھارتی جاسوس ہونے کی وجہ سے قانون کے شکنجے میں لایا جا رہا ہے۔ یہ ملکی سالمیت سے متعلق سیاسی معاملہ ہے اور اسے مذہبی رنگ دینا غلط ہو گا۔ پاکستانی مذہبی تنظیمیں یہ معاملہ بخوبی سمجھتی ہیں۔ ۔ ورنہ خدانخواستہ شعائر اسلام پر پابندی کا معاملہ ہوتا اور برقعے یا داڑھی پر ناروا روک لگائی جاتی تو ویسا ہی احتجاج ہوتا جیسا کہ کفار کے ملکوں کے خلاف کرنے کا حق ہے۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے عقائد بھی فریق مخالف کو دیکھ کر طے کرتے ہیں وہ بالکل غلط بات کہہ رہے ہیں اور وہ دل اور دماغ کے طبی مسائل کا شکار ہیں۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ سی پیک کی برکت اور چین کے تعاون سے وطن عزیز میں مذہبی رواداری کا نیا دور شروع ہو رہا ہے اور دوسرے ممالک کے معاملات میں بلا سوچے سمجھے دخل اندازی کرنے کی جنونیت میں کمی آ رہی ہے۔

یوں چینی کی حکومت کی دانشمندی کے سبب سی پیک کے خلاف یہ بھیانک بھارتی اسرائیلی ایلومیناٹی سازش ناکام ہو گئی۔ اب دیکھیں وہ نیا وار کہاں کرتے ہیں کیونکہ سی پیک تو ان کی نگاہوں میں بے طرح کھٹک رہا ہے اور وہ پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنے کے روادار نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1225 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar