اقبال کا شکوہ اور تاریخ کا جواب شکوہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکیم الامت نے اپنی طویل ترین نظم ”شکوہ“ میں خدا سے سوال تو کیا تھا ملت اسلامیہ کی طرف سے لیکن در حقیقت وہ ترجمانی کر رہے تھے انڈیا کے معاشی اور سیاسی طور پر پس ماندہ مسلمانوں کی۔ تہذیب اور تاریخ کی گواہی کا بہ نظر غائر جائزہ لینے کے بعد ان کا اس نتیجہ پر پہنچنا ناگزیر تھا کہ اس کا واحد سبب ان کی ذہنی پس ماندگی ہے۔ آج بھی وہ اپنے ماضی کی شان و شوکت اور عظمت رفتہ کے خوابوں میں گم ہیں اوران کی نظر کسی مستقبل پر نہیں۔

مذاہب عالم میں جدید ترین اسلام ہے جس کی تاریخ کا آغاز صرف پندرہ سو سال پہلے کی بات ہے۔ اس میں خلافت راشدہ کا دور زریں اس سے بھی مختصر ہے جتنی آج پاکستان کی تاریخ اور وہ بلا شبہ ہمارا سرمایہ افتخار ہونا چاہیے لیکن اس ملک پر جس کا نام تاریخ کی کتابوں میں ہندُستان آتا ہے اسلامی حکومت کی بنیاد بابر نے سولھویں صدی میں رکھی یعنی صرف 500 سال قبل۔ (اس سے قبل کچھ عرصہ محمد بن صرف سندھ پر حکومت کرچکا تھا) آج کے جیسا متعین جغرافیائی حد بندی والا نقشہ تو شاید کہیں نہیں جس سے نشان دہی ہوتی کہ 2500 سال قبل سکندر اعظم اور اس کے بعد آنے والے کسی حملہ آور کے دور میں ہندُستان کہاں سے کہاں تک تھا لیکن یہاں ایک باقاعدہ حکومت کرنے والے صرف انگریز حملہ آور تھے، جنھوں نے یہ حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔ ظاہر ہے اس نے مسمانوں کی کم زوری ہی سے فائدہ اٹھایا تھا اور بعد میں ہر شکست خوردہ غنیم کی طرح سب سے زیادہ نقصان بھی ہم نے اٹھایا۔ امریکی ریڈ انڈین یا آسٹریلیا کے ”ابوریجنز“ کی طرح ہندو کو احساس ضرور رہا کہ 5000 سال کی روایات والا بھارت اس کا ہے اور اسے ان ”حملہ آوروں“ کو نکالنا ضرور ہے، جس پر ان کا قبضہ صرف 500 سال کی بات ہے۔

ملاحظہ کیجیے فرق مقاصد کا۔ آزادی دونوں نے حاصل کی۔ ہندو نے دونوں کو نکال باہر کیا اور اکھنڈ بھارت حاصل کر لیا۔ ایک اسلامی مملکت خداداد بنانے کے لیے مسلمان شان و شوکت رفتہ کے خواب کی تعبیر کے پیچھے بھاگے جس کا کوئی واضح نقشہ یا مقصد تھا ہی نہیں۔ یہ سمجھے بغیر کہ آدمی کھلی آنکھوں سے صرف آگے سفر کر سکتا ہے پیچھے نہیں جا سکتا۔ دور خلافت راشدہ کا عدل و انصاف امن و امان یا خوش حالی کوئی الہامی صفات نہیں تھیں۔ یہ آج بھی پیدا کی جاسکتی ہیں لیکن آج کے ہندُستان میں دس کروڑ مسلمان ہیں۔ ان سب تک اس مثالی نظام کے فیوض و برکات پہنچانا فقط آرزو کی بات کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے صرف وسائل ہی نہیں ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ خلافت راشدہ کی درویشی کا عہد اور شاہان مغلیہ کی شان و شوکت اور جاہ وجلال کی سب داستانیں ایک عام مسلمان حقیقی مانتا تھا اور اس نے اسلامی حکومت کا جو نقشہ اپنے تصور میں مرتب کر لیا تھا وہ متعین نہ تھا۔ ہمارے لیڈروں سے پہلے متعدد اسباب اور عوامل جہالت کے علاوہ بھی موجود تھے جنھوں نے عام مسلمان کو کنفیوژ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کواصل واقعاتی تاریخ کی معروضی رپورٹ نہیں دی گئی کہ کیا ہوا کیوں ہوا کیسے ہوا۔ کہا جاتا ہے اور غلط نہیں کہا جاتا کہ تاریخ سب سے مظلوم مضمون ہے، جس کے ساتھ ایمان داری کوئی مورخ نہیں برت سکا۔ کہیں نہ کہیں اس کے جذبات کا رنگ واقعات میں آ جاتا ہے۔ پھرجہاں تاریخ زور یا زر سے لکھوائی جائے اس میں صداقت اتنی ہی ہو سکتی جتنی کی اجازت ملے۔ لالچ اور جان کے خوف کی پروا نہ کرتے ہئے سچ لکھنا آج بھی اتنا ہی ناممکن ہے۔ تمام انسانی خامیوں سے پاک تصویر میں دل کشی تو بہت ہوسکتی ہے، حقیقت کی بد صورتی نہیں اور زندگی نام ہے نیکی بدی اور دکھ سکھ کے دو رنگوں کا۔ جیسے ایک دن اندھیرے اجالے کا۔

شاہان مغلیہ نے بھی اپنے عہد حکومت کو انسانی خامیوں سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے اپنا لقب ”ظل اللہ“ رکھا یعنی اللہ کا سایہ۔ مطلب یہ کہ ان کا کوئی قول و فعل انسانی عمل نہیں بل کہ منجانب اللہ ہے چناں چہ تنقید سے بالا تر۔ رعایا صبح دم اس کا دیدار باعث فیض و برکت جانتی تھی۔ سر راہ اس کے چہرے کو دیکھنے کی بھی ممانعت۔ اس کا رہن سہن عام آدمی کے لیے ویسا ہی تھا جیسے کا اس سے اچھے اعمال کی صورت میں وعدہ کیا گیا تھا مگر دوسری دنیا کی جنت میں۔ حوران خلد، باغ بہشت۔ طائران خوش نوا، دودھ شہد کی نہریں۔ میوہ ہائے انواع و اقسام۔ فواکہات ماکولات اور مشروبات۔ کوثر و تسنیم کی نہریں اور تمام علائق دنیاوی کے خوف سے تحفظ۔ ظل الؑہی کو یہ سب اسی دنیا میں حاصل تھا تو اسباب الہامی تھے۔

رہی سہی کسر پوری کی داستاں طرازوں نے۔ انسان کا تخیل تو الف لیلٰے کو بھی حقیقت کی طرح دیکھتا ہے۔اسے کہانی چاہیے جو دل خوش کرے اورحقیقی لگے، ان تفصیلات کے ساتھ جو تصور کو تصویر بنا دیں۔ یہ کام ہمیشہ کی طرح داستان گو اور پھر قلم کاروں نے یوں کیا کہ تاریخ کو افسانہ بنادیا۔ دل چسپ رنگین اوردل کش۔ اس مہارت سے کہ سب حقیقی لگے۔ جیسے آج کی فلم میں کنگ کانگ کمپیوٹر گرافکس، اینی میٹد فلم۔ کیا بچہ کیا بڑا سب جاننے کے باوجود سینما ہال میں حقیقی مان ہی کے ری ایکٹ کرتا ہے۔ امیر حمزہ اورقصہ حاتم طائی جیسی داستانوں نےاسلامی جوش ایمان کی حرارت سے مسلمانوں میں اس خیال کا بیج بویا کہ وہ کسی حد تک اللہ کی حمایت یافتہ مخلوق ہیں۔ اسی سے یہ سوچ بھی جاگی کہ وہ رب العالمین نہیں رب المسلمین ہے۔ نعوذ باللہ۔

اس کے بعد والے دور میں ادیب اٹھے تب تک سرسید نے شور مچادیا تھا کہ پڑھو جاہلو۔ اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی۔ موصوف خود تو تعلیم نسواں کے پر جوش حامی نہ تھے۔ تاہم ان کی وفات کے بیس برس بعد خواتین کے پڑھنے کے لیے ایک ضخیم اسلامی سلیبس ”بہشتی زیور“ کی صورت میں مرتب کر دیا گیا تھا، جو رخصتی کے وقت ہر لڑکی کے ساتھ جانا لازم تھا، خواتین نے از خود ہی جوش مسابقت میں پڑھنا شروع کیا۔ کچھ تعلیم پھیلی تو الف لیلوی داستانوں کا اگلا دور ادب کا تھا، جس میں عوامی پسند کے جاسوسی ادب کے پیشوا تیرتھ رام فیروزپوری ہوئے تو دوسری مقبولیت علامہ راشد الخیری کے تاریخی ناولوں نے حاصل کی۔ سب سے پسندیدہ موضوع ٹھیرا صلیبی جنگیں۔غازی صلاح الدین ایوبی بمقابلہ شیر دل رچرڈ جس میں سب تھا۔ ایکشن، رومانس اور اسلامی شجاعت کی داستانیں۔ اس کے بعد سومنات سمیت ہندووں کے 17 مندر ڈھانے والے محمود غزنوی (میں بت شکن ہوں بت فروش نہیں ڈائیلاگ فیم) اس کا غلام ایاز۔ فتح اندلس۔ دنیا کے سب سے کم سن لبیک فیم سپہ سالار سب کی تاریخ کا افسانہ بنتا گیا۔ اللہ معاف کرے! ایسے خوش عقیدہ بھی ملتے ہیں جن کے نزدیک سکندر اعظم، چنگیز خاں اور ہلاکو خان بھی مسلمان ہی تھے۔

صاحبو، بات شیطان کی آنت ہوگئی لیکن کیا کروں آزادی ملنے کے بعد عام مسلمان سے جس ”اسلامی مملکت خداداد“ کا وعدہ اکابرین ملت نے کیا تھا، اس کا کہیں کوئی واضح خاکہ یا تصور نہ تھا۔ ایک خیالی تصویر مقلدین کے ذہن میں تھی اور قائدین اس کا کوئی ٹھوس نقشہ پیش کر نہیں سکتے تھے۔ اس سے زیادہ کہتے ہوئے میرے ہونٹ جلتے ہیں۔

نتیجہ؟ روز اول سے اب تک کا انتشار۔۔۔ اور آنکھوں والوں کے لیے اس میں بڑی عبرت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 17 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal