زبان، لہجہ اور الفاظ: ہم کہاں کھڑے ہیں؟


ہم لوگ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود کتنے مہذب ہیں وہ ایک جملے ”وڑ گیا“ کی قبولیت اور مقبولیت نے ہمیں بتا دیا ہے۔

ہم لوگ من حیث القوم کم اخلاق بد زبان لوگ ہیں۔ (غصہ مت ہوں، میں نے خود کو الگ نہیں کیا) ہمیں بد اخلاقی، بد زبانی پسند ہے، ہم اس کی طرف راغب ہوتے ہیں جن اور سراہتے بھی ہیں۔ (ملک میں چیخنے دھاڑنے والے مرکزی کردار والے ڈرامے ایسے ہی مقبول نہیں ہو رہے ) اچھا وہی لگتا ہے جس سے ذہن یا دل کا کوئی کنارہ جڑتا ہے یا جس جیسا بننے کی آرزو ہوتی ہے۔ ہمارا کوئی انتخاب بلا وجہ نہیں ہوتا، ذہن کا کوئی ایک نہ ایک پوشیدہ تعلق اس سے ہوتا ہے ) ہماری زبان (بالخصوص پنجابی اسپیکنگ) کی ادائیگی اتنی تلخ ہے کہ نرم لفظ کو بھی سخت بنا دیتے ہیں۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ ہمارے اس خطے کی اکثریت انگریزی اور عربی زبان کو ایک عرصہ تک پڑھنے اور سمجھنے کے باوجود اچھے انداز سے بول نہیں پاتی۔ وجہ کیا ہے؟ پنجابیوں نے گلا پھاڑ کر بولنا سیکھا ہے اور ان کے ”ووکل کورڈز“ کو کھلنے کی اتنی عادت پڑ چکی ہوتی ہے کہ وہ ایک مخصوص حد تک نہیں کھلتے وہ جب بھی کھلتے ہیں پورا کھلتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پنجابی دوسرا جنم لے کر بھی عربی اور انگریزی کو مقامیوں کے لہجے میں نہیں بول پاتے۔ ہر فونیم (صوت) پر بے ضرورت دباؤ ڈالنے کی عادت سے وہ دوسری کوئی بھی زبان خوب صورت لب و لہجے میں نہیں بول سکتے، حتیٰ کہ اُردو بھی نہیں۔

جس طرح زبان اور لہجے میں نرمی ضروری ہے، ویسے ہی ہماری گفتگو میں دوسروں کے انتخاب اور ظاہری حلیے کے احترام کا عنصر بھی ہونا چاہیے۔

ایک بری عادت جو ہماری معاشرت کا زہر ہے وہ ہے دوسروں کے ظاہری حلیہ اور لباس پر رائے زنی اور تنقید کی عادت۔ آپ کو نہیں لگتا کہ یہ ایک ناشائستہ اور بے عقلی کا کام ہے؟ کیوں؟ کیوں کہ کسے کس طرح کا لباس پہننا ہے یہ اختیار اس کے پاس ہونا چاہیے۔ اسے مت بتائیں کہ اس رنگ میں وہ کم صورت لگتا ہے۔ کم صورت وہ آپ کی آنکھوں میں ہو گا، اگر کوئی ایک لباس اور رنگ کسی چاؤ سے خرید لایا ہے تو اپنا استیھیٹک سینس اپنے تک رکھیں، دوسروں کی خوشی برباد نہ کریں۔ عام دنوں اور بالخصوص تہواروں پر دوسروں کے کپڑوں پر کسی قسم کی تنقید نہ کریں۔ اگر کوئی پوچھے کہ یہ لباس کیسا ہے تو بہتر ممکن جواب یہی ہے : ”آپ نے پسند کیا ہے، آپ کو اسے لینے سے خوشی ہوئی ہے تو یہ اچھا ہے۔“ اس کی خامیاں اٹھانے سے پرہیز کریں۔ اصل چیز خوبصورت دکھائی دینا نہیں ہوتا، خوش ہونا ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کی لغت کے مطابق جوکر دکھائی دے رہا ہے تو بھی آپ کو چپ رہنا چاہیے۔ اگر دوسرا شخص اس حلیے سے خوش اور آرام میں ہے تو آپ کا کیا جائے گا؟

یہ بات کرنے کا مقصد؟ مقصد یہ ہے کہ ہم تسلیم کر لیں کہ ہماری زبان سوچ، الفاظ اور خیالات سب تیسرے درجے کا ہو چکا ہے۔ ہمیں اپنے لہجے اور الفاظ کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر کام کر کے انہیں ٹھیک کرنا چاہیے۔ اردو والے اپنا لہجہ اردو کے اساتذہ کو سن کر ٹھیک کریں، شعراء اور ادیبوں کی ویڈیوز دھیان سے دیکھیں، خاص طور پر ضیاء محی الدین کو سنیں، احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر جمیل جالبی کے لہجے پر توجہ دیں (دھیان رہے کہ خلیل قمر کو دانش ور، ادیب سمجھ کر اس سے اُردو سیکھنے نہ لگ جائیں )

دوم، اپنے ذخیرہ الفاظ میں مہذب الفاظ کو جگہ دیں۔ ہم لوگ عام معاملات زندگی میں بات کرتے ہوئے انتہائی غیر حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی عادت ہمیں بین الاقوامی سطح پر بھی بے نقاب اور شرمندہ کرتی ہے (پاکستانی وکٹ کیپر سرفراز احمد نے جنوبی افریقہ کے گہرے رنگ کے باؤلر کو ”اوئے کالے“ کہہ دیا تھا، جس پر انہیں پینالٹی بھی بھگتنا پڑی۔ یہ یقینی بات ہے کہ اس نے بطور تذلیل یا تعصب یہ الفاظ ادا نہیں کیے تھے، بس غیر حساس ذہنیت کی وجہ سے اس کی زبان سے پھسلے تھے )

ہمارے خاندان میں کوئی گہرے رنگ کا ہو تو ہر شخص کے پاس جیسے حق آ جاتا ہے کہ اسے برے القاب سے بلائے، اسے کم تر سمجھے۔ بلیک ریس، سیاہ فام افراد کے لیے آج تک دنیا سخت رہی ہے، ان کے لیے ڈکشنری میں بہتر لفظ تک نہیں۔ انہیں سیاہ فام، بلیک پیپل کہنا بند کریں، پیپل آف کلر (پی او سی) لکھا اور بولا کریں، تہذیب یافتہ لوگوں میں یہی مروج ہے۔

ہم لوگ کسی کی جسمانی کمی کو ”معذوری“ کہتے اور بلاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ”ڈس ایبل“ کہتے ہیں۔ کتنا سخت لفظ ہے، دھیان کریں ذرا۔ اسے ”پرسن ود ڈس ابلٹی“ کہنا بہتر ہے۔

یونی لیور کی بیوٹی پروڈکٹس پر ان حوالوں سے کہ ان کی مارکیٹنگ گہری رنگت والوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہی ہے، اتنا دباؤ پڑا کہ بالآخر انہیں فیئر اینڈ لولی کا نام گلو اینڈ لولی کرنا پڑا۔

الفاظ کا انتخاب محض زبان دانی کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی رویے کو بھی سامنے لاتا ہے۔ بہتر اصطلاحات کو اپنانے سے ہم زیادہ شائستہ اور حساس معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سست رفتاری سے ہی سہی دنیا اپنے آپ کو بہتر کر رہی ہے۔ ہمیں اپنی زبان اور رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ ہم زیادہ حساس اور شائستہ معاشرے کا حصہ بن سکیں۔

Facebook Comments HS