نئی نہروں کے سوال پر بڑھتا تنازع
’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے تحت چولستان میں نہر نکالنے کے سوال پر سندھ میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے بعد اب پیپلز پارٹی بھی ’سندھو پر دریا نامنظور‘ کا نعرہ لگا کر نہروں کے نئے منصوبے کے خلاف اعلان جنگ کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ وفاق کے حامی ہیں لیکن سندھ کو اس کے حق سے محروم نہیں ہونے دیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرجوش طریقے سے سندھ واٹر سسٹم کا پانی نئی نہروں کے لیے استعمال کرنے کے سوال پر سخت موقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کی جنگ جس میں پانی کی منصفانہ تقسیم شامل ہے، میں عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں۔ جب وزیر خارجہ تھا تو دنیا کو اس بات پر منایا کہ ہمارے دریائے سندھ کو بچانا ہے، ان کو کہا کہ آئیں پاکستان کا ساتھ دیں۔ ان کا دعوی تھا کہ ’ہزاروں سال سے نسل در نسل ہمیں ایک ہی کام آتا ہے کہ دریاؤں کے ساتھ رہنا ہے اور فصل کاشت کرنا ہے‘ ۔ ان الفاظ کے ساتھ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے وفاقی حکومت کے نہری منصوبہ کے خلاف دو ٹوک اور واضح اختلاف کا اعلان کیا۔
اس معاملہ میں البتہ دو پہلو حیران کن حد تک ناقابل فہم ہیں۔ ’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے لیے نہروں کا منصوبہ کئی ماہ پرانا ہو چکا اور اس کے خلاف سندھ میں ہونے والا احتجاج بھی بہت عرصے سے جاری ہے تاہم مارچ سے پہلے پیپلز پارٹی کو اس بارے میں کوئی ’پریشانی‘ لاحق نہیں تھی۔ سندھ میں ماحولیات و کسانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے متعدد گروہ و تنظیمیں اس منصوبے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کر رہی تھیں۔ تاہم نہ تو قومی میڈیا میں یہ معاملہ کوئی اہمیت حاصل کر سکا اور نہ ہی پیپلز پارٹی نے اس پر کسی خاص تشویش کا اظہار کیا۔ البتہ جب پارٹی کو یہ احساس ہونے لگا کہ اس معاملہ پر خاموش رہ کر سندھ میں سیاسی مقبولیت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے تو اس منصوبے کے بارے میں تحفظات کا اظہار ہونے لگا۔ سب سے پہلے صدر آصف علی زرداری نے 10 مارچ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں نئی نہروں کے منصوبے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور وفاقی حکومت سے کہا کہ اس معاملہ میں اتفاق رائے سے کام کیا جائے۔ اس کے بعد 14 مارچ کو سندھ اسمبلی میں مشترکہ طور سے منظور کی گئی قرار داد میں ان نہروں کی مخالفت دیکھنے میں آئی۔ اور اب بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملہ کو سندھ کی ثقافت و ضرورت کے ساتھ ملا کر کسی بھی قیمت پر نئی نہروں کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ البتہ یہ بھی حیران کن ہے کہ پیپلز پارٹی نے جو وفاقی حکومت کی حمایت کرتی ہے، ابھی تک یہ معاملہ باقاعدہ طور سے وزیر اعظم کے ساتھ اٹھا کر اسے حل کرنے کی بات نہیں کی ہے۔ لیکن بیان بازی کی حد تک میدان گرم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں دھیرے دھیرے صوبہ سندھ کے حکومتی نمائندوں کے بعد اب پارٹی چیئرمین بھی شامل ہوچکے ہیں۔
اس حوالے سے دوسرا ناقابل فہم نکتہ وفاقی حکومت کا اطمینان اور سرد مہری ہے۔ اس بحث میں پیپلز پارٹی کی طرف سے بیان بازی کے بعد پہلے تو یہ واضح کیا گیا کہ صدر زرداری گزشتہ سال جولائی میں اس نہری منصوبہ کی منظوری دے چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس دعوے کو مسترد کرتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کی قیادت مصر ہے کہ صدر زرداری نے ایک اجلاس میں اس منصوبہ سے اتفاق کیا تھا۔ تاہم معاملہ کا یہ پہلو بدستور ناقابل فہم ہے کہ ملک کا صدر ایک آئینی عہدہ ہے۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے سوال پر پیدا ہونے والے تنازعہ میں ان کی کسی رائے کو حتمی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اگر کسی اجلاس میں بالواسطہ طور سے یہ منصوبہ پیش کیا گیا اور صدر زرداری نے اس کی تائید کی تو بھی اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی جسے تسلیم کرنا سندھ حکومت کے لیے لازمی ہو۔
اسی حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے نسبتاً خاموشی اور سرد مہری بھی حیران کن ہے کہ کیسے ملک کا وزیر اعظم ایک ایسی پارٹی کی طرف سے اٹھائے جانے والے اہم معاملہ کو نظر انداز کر رہا ہے، جس کے سہارے وہ اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔ حتی کہ آج وزیر اعظم شہباز شریف نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اور ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی۔ اس موقع پر نہروں سے متعلق فیصلے کے بارے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے کسی مشاورت کا عندیہ دینے یا اس بیان بازی کو ختم کرانے کے لیے کوئی اقدام تجویز کرنے کی بجائے نہایت اطمینان سے محض یہ فرمایا کہ ’حکومت کا خاصا ہے کہ تمام فیصلے اتحادیوں کی باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ اتحادی حکومت میں باہمی مثالی اعتماد سازی کی فضا خوش آئند ہے۔ اتحادی حکومت ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے مکمل یکسوئی سے کام کر رہی ہے‘ ۔ حالانکہ اگر حکومت اپنا سہارا بننے والی سب سے بڑی پارٹی کی طرف سے سامنے آنے والی ایک سنگین تشویش پر کوئی رائے دینے یا پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ دوسری طرف سندھ اسمبلی سے لے کر بلاول بھٹو زرداری تک سندھ کے پانی کے ناجائز تصرف پر سراپا احتجاج ہیں تو اسے کیسے ’مثالی اعتماد سازی‘ مان لیا جائے؟
بظاہر اس کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ نہروں کا منصوبہ درحقیقت ’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس نام کی ایک کمپنی فوج کے زیر انتظام قائم کی گئی ہے تاکہ ملک کی 48 لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو آباد کیا جا سکے۔ تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کے اس منصوبہ کی مکمل ملکیت فوج کے پاس ہے اور پنجاب حکومت نے اس مقصد کے لیے چولستان میں ساڑھے سات لاکھ ایکڑ زمین تیس سالہ لیز پر گرین پاکستان انیشیٹو (جی پی آئی) کو دی ہے۔ اسی منصوبہ کی آبپاشی کے لیے چولستان نہر کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ چولستان میں اس منصوبے کا افتتاح پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ 16 فروری کو کیا تھا۔ اسی کے بعد سے اس نہری منصوبہ کے بارے میں تشویش کا زیادہ واضح اظہار کیا جا رہا ہے۔ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت یوں تو 6 نہریں نکالی جائیں گی جن میں دو پنجاب، دو سندھ اور دو بلوچستان میں ہوں گی۔ البتہ سب سے زیادہ تشویش جی پی آئی کے چولستان میں منصوبے کے لیے نکالی جانے والی نہر کے بارے میں پائی جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نہر کے لیے دریائے سندھ سے پانی نہیں لیا جائے گا بلکہ دریائے ستلج میں طغیانی سے شامل ہونے والے فالتو پانی سے یہ نہر بھری جائے گی۔ تاہم ناقدین اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہیں اور اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیلاب کے پانی سے کوئی نہر نہیں بھری جا سکتی۔ اس نہر میں دریائے سندھ کا پانی شامل ہو گا جس سے سندھ کے کاشتکار متاثر ہوں گے اور وہاں زمینیں بنجر ہوجائیں گی۔
اس نہری منصوبہ کے لیے گزشتہ ماہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) سے منظوری حاصل کرلی گئی ہے لیکن اس موقع پر سندھ کے نمائندے احسان لغاری نے مخالفت کی۔ اپنے اختلافی نوٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’چولستان نہر کو شاید دریائے سندھ کا پانی دیا جائے جو سندھ کے ساتھ نا انصافی ہوگی‘ ۔ البتہ دیگر ارکان یا وفاقی و پنجاب حکومتوں کی طرف سے اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ یا تو وزیروں کی سطح پر ناقدانہ بیانات جاری ہوئے ہیں یا وزیر اعظم نے اتحادیوں کے ساتھ مثالی تعاون کا دعویٰ کرتے ہوئے اس مسئلہ کو نظر انداز کیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ آسانی سے ختم نہیں ہو گا۔ شہباز شریف شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ چونکہ پاک فوج کی نگرانی میں کام کر رہا ہے تو فوجی قیادت خود ہی پیپلز پارٹی کو ’مطمئن‘ کر لے گی، اس لیے انہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے شروع میں شاید فوج کی مداخلت ہی کی وجہ سے اس بارے میں واضح موقف اختیار نہیں کیا تھا تاہم سندھ میں گراس روٹ پر سامنے آنے والے احتجاج اور پیپلز پارٹی کی سیاسی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے اب پیپلز پارٹی اس معاملہ پر ضمانت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی یہ تجویز صائب ہے کہ بین الصوبائی معاملات طے کرنے کے لیے قائم مشترکہ مفادات کونسل میں اس منصوبہ پر بات کر کے اتفاق رائے پیدا کر لیا جائے تاکہ اس تنازعہ سے نکلا جا سکے۔ تاہم وفاقی حکومت نے اس تجویز پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ایک جائزے کے مطابق ملکی جی ڈی پی کا 25 فیصد زراعت سے حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ کل ورک فورس کا 37 فیصد زرعی شعبہ میں کام کرتا ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ سال پاکستان نے غذائی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے 9 ارب ڈالر کی خوراک درآمد کی تھی۔ حالانکہ پاکستان زرمبادلہ کی شدید مشکلات کی وجہ سے سخت درآمدی پالیسی پر کاربند ہے اور اسے معاشی طور سے آگے بڑھنے کے لیے بدستور آئی ایم ایف سے قرض لینے کی ضرورت ہے۔ ’گرین پاکستان انیشیٹو‘ بظاہر زرعی شعبہ کی اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت کاشتکاری کے جدید طریقے متعارف ہوں گے، کھاد اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے گا اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین فارمنگ سسٹم متعارف ہو گا۔ قیاس ہے کہ اس طرح ملک خوراک میں خود کفیل ہو سکے گا۔ تاہم یہ سوال بدستور موجود رہے گا کہ اس اہم منصوبہ کی ملکیت فوج کے زیر انتظام ایک ادارے کو کیوں دی گئی ہے۔ یہ کمپنی سول شعبہ میں کیوں قائم نہیں ہو سکی۔ ملکی تجارت و صنعت اور پراپرٹی کے شعبوں میں فوجی ادارے فعال ہیں اور ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ فوج کے براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول میں ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان معاشی مفادات کی وجہ سے بھی فوج ملکی سیاسی معاملات میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوتی ہے تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ کرسکے۔ اب زرعی شعبہ میں لاکھوں ایکڑ اراضی فوج کو لیز پر دے کر اس کی معاشی طاقت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
حیرت انگیز طور پر دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم پر تو بے چینی اور سیاسی احتجاج دیکھنے میں آیا ہے لیکن جولائی 2023 میں قائم کی گئی فوجی کمپنی ’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے کردار اور ملکی سیاست و معیشت پر اس کے اثر و رسوخ کے بارے میں کوئی مباحثہ سننے میں نہیں آیا۔ حالانکہ پانی کی تقسیم کے علاوہ زراعت پر فوج کی اجارہ داری سے بھی پیچیدہ اور گنجلک سیاسی و انتظامی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔



آپ کے سوالات پر میرا تبصرہ
–
” تاہم یہ سوال بدستور موجود رہے گا کہ اس اہم منصوبہ کی ملکیت فوج کے زیر انتظام ایک ادارے کو کیوں دی گئی ہے۔ یہ کمپنی سول شعبہ میں کیوں قائم نہیں ہو سکی۔
ٓ
ملکی تجارت و صنعت اور پراپرٹی کے شعبوں میں فوجی ادارے فعال ہیں اور ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ فوج کے براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول میں ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ان معاشی مفادات کی وجہ سے بھی فوج ملکی سیاسی معاملات میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوتی ہے تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ کرسکے۔ اب زرعی شعبہ میں لاکھوں ایکڑ اراضی فوج کو لیز پر دے کر اس کی معاشی طاقت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔”
–
کچھ دیر کے لئے فوج کو اس سے الگ سمجھیں یہ حکومت پاکستان اور فوج کا مشترکہ منصوبہ ہے اور چونکہ فوج بھی ایک ریاستی ادارہ ہے تو کچھ دیر کے لئے ہم اسے ریاست پاکستان کا منصوبہ سمجھ لیتے ہیں۔
–
یہ کمپنی سول شعبہ میں کیوں قائم نہیں ہو سکی
فی الواقعہ یہ کمپنی ایس ای سی پی میں ایک نجی ادارے کی طرح ہی رجسٹرڈ ہے اور اسے فیصلہ سازی میں حکومت پاکستان اور فوج دونوں کی رضامندی حاصل ہے۔ کیا بھٹو صاحب کے صنعتوں کو قومیانے کی حماقت کے بعد کوئی فرد ادارہ یا غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں اپنا پیسہ پھنسانا چاہتا ہے۔
مشرف دور میں اسٹیل مل کراچی کی فروخت پر جو ذلت غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اٹھائی وہ ایک طرف بعد میں بن قاسم کراچی میں ہی مشرف اور سعودی سرمایہ کار ہلال طوارقی نے ایک جدید اسٹیل مل طوارقی اسٹیل مل لگائی۔
بدقسمتی سے جب اسٹیل مل مکمل ہوئی مشرف جاچکا تھا اور نئی حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مل کو گیس فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ طوارقی روتا پیٹتا رہا مگر اسے کہا جاتا ہے مجبور کیا جاتا رہا کہ اونے پونے ہمیں فروخت کردو (یا ڈیل کرلو)۔ اس نے جدید مشینری اسکریپ میں بیچ دی مگر جھکا نہیں۔۔
یہ کہانیاں اسری دنیا کے سرمایہ کاروں کے علم میں ہیں بالخصوص سعودی۔
تو گوادر میں ریفائنری لگانی ہو یا کہیں اور اگر کسی سعودی نے پاکستان میں سرمایہ لگانا ہو تو کیا وہ محض حکومت وقت کے معاہدوں پر اعتبار کرلے گا ؟ کم از کم میں تو نہیں کروں گا۔
–
2023 میں بھی جب آرمی چیف دوسرے ممالک بالخصوص سعودیہ امداد یا سرمایہ کاری کے لئے گئے ۔ انہیں یہی سننے کو ملا کہ کیا کوئی بھی سیاسی حکومت (ریاست نہیں) اس قابل ہے کہ اس پر اعتبار کیا جاسکے۔ اسی مد میں ایران انڈیا پاکستان گیس پائپ لائن کی حماقت بھی شامل کرلیں۔ جو عمران خان کی نام نہاد بارودی سرنگوں سے زیادہ خطرناک لینڈ مائن تھی اور ہے۔
–
بہرحال اماراتی اور سعودی حکومت / سرمایہ کاروں نے پاک فوج کو یہی مشورہ دیا کہ اگر ہم کسی ریاستی ادارے پر بھروسہ کرسکتے ہیں تو وہ کون ہے۔ اگر آپ بڑھ کربیچ میں اتے ہیں تو ہم اعتبار کرنے کو تیار ہیں۔
اور یوں یہ بیل منڈیر چڑھ گئی۔
اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فصل پاکستان میں استعمال ہوئی تو زرمبادلہ بچے گا اور اگر برآمد ہوگئی تو زرمبادلہ آئے گا اور دونوں صورتوں میں ایک ون ون صورت ہے۔
–
ملکی تجارت و صنعت اور پراپرٹی کے شعبوں میں فوجی ادارے فعال ہیں
پہلے تو اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ یہ براہ راست فوجی ادارے نہیں بلکہ زیادہ تر ریٹائرڈ فوجیوں کو نوکری دینے کے لئے قائم کئے فاؤنڈیشنز کا حصہ ہیں جو اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ نجی کمپنیاں ہیں ان کی کمائی اور ٹیکس پاکستان میں ہی رہتی ہے اور یہ سارا منفع یا سرمایہ پاکستان میں ہی رہتا اور استعمال ہوتا ہے۔ ان میں سوائے شاید ایک آدھ کہ ان کی کسی بھی شعبے میں مناپلی نہیں ہے
ٖایف ڈبلیو او ممکن ہے ایک ایسا ادارہ ہو جس کی فی الوقت مناپلی ہو لیکن کسی نجی شعبہ کا ہاتھ فوج نے نہیں روکا کہ وہ کام نہ کرے۔ ہماری تاریخ کے متعدد ایسے شاندار کام ہیں جو خفیہ یا حساس تھے اور اسی ادارے کے ہاتھوں اس لئے مکمل ہوپائے کیوں کہ حساس تھے۔
لیکن ایسا نہیں کہ نجی شعبہ ترقی نہیں کرسکتا یا سویلین کام نہیں کرسکتے۔
اگر فوجی فاؤنڈیشن ایک عسکری بنک چلاتی ہے تو دوسرے بیسیوں بنک بھی چل رہے ہیں اور پھل پھول رہے ہیں۔
اگر فوجی فاؤنڈیشن فرٹیلائزر کمپنی میں کھاد بنارہی ہے تو متعدد دوسری کھاد فیکٹریاں اس سے بدستور بہتر کام کررہی ہیں۔
اگر فوجی اور عسکری سیمنٹ ہیں تو دسیوں دوسرے برانڈ بھی پھل پھول رہے ہیں۔ کیا یہ فوجی ادارے اگر نہ ہوں تو نجی شعبہ فوج کے ریٹائرڈ افسروں اور سپاہیوں کو نوکری دے گا جن میں ایک بڑی تعداد معذور یا بیماریوں کا شکار بھی ہوچکی ہوتی ہے۔
ڈی ایچ اے محض ایک رئیل اسٹیٹ کا ادارہ ہے کیا اس کی موجودگی میں دیکھتے ہی دیکھتے بحریہ ٹاؤن پھل پھول نہیں پایا ۔ اسی طرح ایئر فورس ایروناٹیکل کمپلیکس میں کئی طرح کے طیارے بنارہا ہے کیا آپ چاہتے ہین کہ اسے نجی شعبے کہ حوالے کردیا جائے۔ فضائیہ سے بھی جو پائلٹ یا انجینئرز 50 سے 52 سال کی عمر میں ریتائر ہوجاتے ہیں ان کی بہترین صلاحیتوں کو کہاں استعمال کیا جاسکتا ہے ؟
لیکن بات یہیں نہیں رکتی بلکہ اب آہستہ آہستہ نجی شعبہ بھی ڈرون اور دوسری ایوی ایشن پراڈکٹس بنارہا ہے جو ہم خود بھی استعمال کررہے ہیں اور برآمد بھی کررہے ہیں۔
–
ماہرین کا خیال ہے کہ ان معاشی مفادات کی وجہ سے بھی فوج ملکی سیاسی معاملات میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوتی ہے تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ کرسکے۔
میرے خیال میں اس ماہر کا نام سید مجاہد علی ہوگا۔ میرے علم میں نہیں کہ پچھلے بیس پچیس سالوں میں فوج نے کون سا بڑا مفاد سیاسی حکومتوں سے حاصل کیا (انفرادی شخصیتوں کا فائدہ یا مفاد دوسری بات ہے)۔ اگر آپ کے علم میں ہے تو ضرور بتائیں۔ بے پرکی ہانکنا فضول کام ہے۔
–
اب زرعی شعبہ میں لاکھوں ایکڑ اراضی فوج کو لیز پر دے کر اس کی معاشی طاقت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
سرکار پہلے تحقیق کرلیں۔ یہ زمینیں فوج کو نہیں دی گئیں بلکہ ایک کمپنی کو 30 سال کی لیز پر دی گئی ہیں جو ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ ہے۔
یہ کمپنی ان زمینوں کو ان سرمایہ کاروں کو دے رہی ہے جو اس پر فارمنگ کرنا چاہتے ہیں یہ غیرملکی بھی ہوسکتے ہیں اور مقامی بھی اور اس کے لئے ان کی آفر کم از کم 250 ڈالر فی ایکڑ (کم از کم 1000 ایکڑ کے لئے) ہے جو بعض زمینوں کے لئے 1000 سے 2000 ڈالر فی ایکڑ ہے
یعنی 1 سے 2 ملین ڈالر کی بنیادی سرمایہ کاری۔
اس کے بدلے یہ کمپنی جو ون ونڈو آپریشن پر کام کررہی ہے ساری سہولتیں فراہم کرنی کی پابند ہے۔ کھاد پانی زمین پر قبضہ مشینری اسٹوریج اچھا بیج اور سب سے بڑھ کر فصل کی خرید کی گارنٹی۔
قیاس یہی ہے کہ سالانہ منافع 20 فی صد ہوگا جس زیادہ سے زیادہ سے 6 سال میں سرمایہ کاری وصول ہوجائے گی۔ زرمبادلہ بچنا اس کے علاوہ ہوگا۔
–
یہ منصوبہ سبز باغ ثابت ہوتا ہے یا واقعی سرسبز و شاداب کردیتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا فی الوقت تو ہر دوسرا شخص ایک ہاتھ میں کشکول اور دوسرے میں فوج کے لئے نفرت کا کوئی بہانہ لئے گھوم رہا ہے۔
–
پانی کی 6 نہروں کی کہانی الگ معاملہ ہے اس پر پھر کبھی۔
آپ حیران ہونگے کہ یہ پاگل فوجی ادارے ہی ہیں کہ ایک سال میں چولستان کے مختلف مقامات پر دو فصلیں حاصل ہوچکی ہیں۔ اور ان علاقوں میں زیر زمین پانی کو استعمال کیا جارہا ہے۔
کھاد بیس فی صد تک سستی مل رہی ہے ۔ بیج اصلی ہے۔ مشینری بے حد سستی۔ مختلف مشینری خود کار ہیں۔
ان سابقہ بنجر زمینوں پر ڈھائی لاکھ ایکڑ تک کا رقبہ اب تک فصل دے چکا ہے اور یہ تمام کاشت کاری پاکستانی کاشت کاروں نے کی ہے۔
کسی نے ایک یونٹ زمین لی اور کسی نے 4 یونٹ ۔ ہر یونٹ 1000 ایکڑ ہے۔
اس کے بعد گرین پاکستان نے ان کو زمین قابل کاشت بنانے کے لئے تمام سہولتیں فراہم کردیں۔ اس میں بجلی پانی پٹرول مشینری سڑک سب شامل ہے۔ اس میں دل چسپ بات یہ ہے کہ حکومت کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا۔ سرمایہ کاروں نے یونٹ کی لیز کے لئے جو رقم دی وہی ان سب کاموں میں استعمال ہو رہی ہے۔
ون ونڈو آپریشن کا فائدہ ہی یہی ہے کہ کسان یا کاشت کار کو کچھ نہیں کرنا پڑرہا ۔
بعض جگہ تو لوگوں نے 1000 ایکڑ لے کر آگے دس دس ایکڑ دوسرے کسانوں کو دے دی ہے۔ جو اپنے اپنے رقبہ کو کاشت کرکے روٹی روزی کمانا شروع ہوچکے ہیں۔
–
برسبیل تذکرہ ایک بات اور یاد آگئی۔
پاکستانی فوج کے حصے فضائیہ نے اسی اضافی متنازعہ کام یعنی جہاز بنانے سے کچھ عرصے پہلے ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر پاکستان کو کما کر دیئے۔ فضائیہ نے اپنے لئے تیار جے ایف 17 کا نیا ماڈل خود استعمال کرنے کی بجائے ایک مسلمان ملک کو فراہم کروادیا۔ نتیجے میں ملک کو ایک اہم ترین زرمبادلہ مل گیا جس نے آئی ایم ایف سے لے کر دسیوں جگہ حکومت اور پاکستان کی مدد کردی۔
کچھ اور خدمات بھی ہیں جن کی وجہ سے اسی مسلمان ملک نے کم از کم ایک ارب ڈالر بنک / کاروبار میں رکھنے پر رضامندی بھی ظاہر کی ہے۔ لیکن ایسی اچھی باتیں ہمیں نظر نہیں آتیں کیوں کہ کسی فوجی ادارے کی تعریف کرنی پڑتی ہے۔