عمران خان کی خوبیاں
میں بذات خود عمران خان کا سب سے بڑا ناقد رہا ہوں اور پی ٹی آئی میں موجود میرے سینکڑوں دوست جب بھی ملتے ہیں ان کا سب سے بڑا شکوہ یہی ہوتا ہے کہ میں ہر وقت عمران خان پر تنقید کیوں کرتا ہوں۔ ان میں سے اکثر کو میں اس شعر میں جواب دیتا ہوں کہ ( ہمارے ذہن پر چھائے نہیں ہیں حرص کے سائے جو ہم محسوس کرتے ہیں وہی تحریر کرتے ہیں ) ۔
لیکن سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ضد انا اقتدار کا لالچ حرص جیسی صفات تو ہر انسان میں ہوتی ہیں مگر انہی صفات نے عمران خان سے کچھ ایسے کام کروائے جس نے نہ صرف یہ کہ سب مفاد پرستوں کو ننگا کر دیا، سسٹم کی خرابیوں کو آشکارا کیا بلکہ ان کے کچھ نا پسندیدہ سمجھے جانے والے فیصلے بھی ملک و قوم کے لئے بہتر ثابت ہوں گے ۔
مثلاً بیک وقت انتخابات میں ایک سے زیادہ نشستوں کے لئے امیدوار بننا ہر حال میں پارلیمنٹ میں پہنچنے کے لئے آئین میں موجود وہ چور راستہ ہے جس کو سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اپنے لئے کھلا چھوڑ دیا ہے اور گزشتہ پانچ دہائیوں میں سینکڑوں سیاستدانوں نے اسی چور دروازے کو استعمال کر کے پارلیمنٹ میں اپنی پہنچ کو یقینی بنایا ہے۔ حالانکہ ایک سے زیادہ نشستوں کو جیتنے اور بعض سیٹوں سے استعفی کے بعد دوبارہ انتخابات کا سارا خرچہ غریب عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہماری بار بار یاد دہانیوں کے باوجود کسی سیاستدان کے کان پر جو تک نہیں رینگی۔ یہ تو بھلا ہو عمران خان کا جنھوں نے 2018 کے انتخابات میں پانچ حلقوں سے الیکشن لڑا اور پانچوں جیت گئے جبکہ 2022 کے ضمنی انتخابات میں 07 حلقوں سے الیکشن لڑا اور 06 جیت کر باقی سیاستدانوں پر واضح کر دیا کہ آپ کا چور دروازہ ہمیشہ صرف آپ استعمال نہیں کریں گے اسے کوئی اور آپ کے خلاف بھی استعمال کر سکتا ہے۔
اسی طرح انہی سیاستدانوں نے آئین میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو جو خدائی اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔ کہ ان کی رولنگ کسی عدالت میں چیلینج نہیں ہو سکتی ہے۔ وہ جب چاہے اپنی اپنی اسمبلی میں گریڈ ایک سے لے کر گریڈ 18 تک اسامیاں تخلیق کر کے اپنے من پسندوں کو تعینات کر سکتے ہیں۔ انہی اختیارات کے تحت عمران خان دور کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے عمران خان کی ہدایت پر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ایک غیر متعلقہ آئینی شق آرٹیکل 5 کا حوالہ دے کر رولنگ دی کہ میں اس شق کے تحت عدم اعتماد کی اس تحریک کو مسترد کرتا ہوں۔ اگرچہ اس کے بعد سپریم کورٹ نے رولنگ کو منسوخ کر دیا مگر یہ سوال ابھی تک برقرار ہے کہ اگر سپیکر کی رولنگ کو عدالت میں چیلینج نہیں کیا جاسکتا ہے تو پھر یہ کس طرح چیلینج ہوئی اگر آئین میں موجود یہ شق غلط ہے تو عمران خان اور قاسم سوری کی اس جرات رندانہ نشاندہی کے بعد اس کو کب ختم کیا جا رہا ہے؟
اسی طرح عمران خان نے اپنی پارٹی کی تمام سیاسی قیادت کو ان کی اوقات بتا دی، اور وہ ہر وقت ڈنکے کی چھوٹ پر کہتا ہے کہ ووٹ اور مینڈیٹ صرف عمران خان کا ہے۔ اس لئے شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چوہدری، اسد قیصر، پرویز خٹک، محمود خان سمیت سینکڑوں رہنماٗ محض کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ عمران خان سے اختلاف کا مطلب ہیرو سے زیرو بننا ہے۔ جبکہ پرجوش جذباتی کارکنوں کے غیض و غضب کا نشانہ بننا اس کے علاوہ ہے۔ اس لیے وہ اختلاف کی جرات ہی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس طرح عمران خان نے مستقبل کے لئے ہر انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کرنے والے اسٹیبلشمنٹ کے 40 / 50 گھوڑوں کے لئے مشکل کھڑی کردی۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ اب اتنی آسانی سے انتخابات جیتنے اور پھر بارگیننگ کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے ۔
اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ابتدا میں باقی سیاسی قائدین کی طرح عمران خان بھی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آئے مگر اقتدار جانے کے بعد انھوں نے جس طرح ایک ایک جرنیل کا نام لے کر ان کے کارنامے بیان کیے ، انہیں انتہائی ٹف ٹائم دیا اور انہیں عوام کی نظروں میں گرانے کی کامیاب کوشش کی۔ یہ جرات بھی ماضی کے کسی سیاسی لیڈر میں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ انھوں نے ڈرائنگ رومز میں بنی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کو نوشتہ دیوار بنا دیا۔ اور منظور پشتین کے بعد عمران خان وہ واحد لیڈر ہے جو تقریباً تین سال سے انٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر قائم ہے اور جنہوں نے مقتدر قوتوں کو ناکوں چنے چبوائے۔
عمران خان کی سب سے بڑی خوبی جو قدرت کی طرف سے انہیں ودیعت کی گئی ہے ایک ان کی کرشماتی شخصیت جو لاکھوں لوگوں کے لئے مقناطیس سے کم پر کشش نہیں ہے اور دوم ہر جھوٹ کو اتنی یقین کے ساتھ بیان کرنے کی صلاحیت کہ مخالفین، سامعین اور حاضرین تو درکنار خود عمران خان کو بھی یقین ہونے لگتا ہے کہ وہ جو بول رہا ہے یہی سچ ہے۔ اور پھر وہ اس گھڑے ہوئے سچ کو ثابت کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دیتا ہے۔ جو ہر کسی کے بس کی بات بالکل بھی نہیں۔
اور عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی جنہیں ان کے مخالفین ان کی ناکامی کے طور پر پیش کرتے ہیں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہے۔ پہلے روزانہ پھر ہفتہ وار اور ماہوار دھوپ میں دو منٹ کھڑے ہونے سے انھوں نے ثابت کر دیا کہ اگر لیڈر چاہیں تو وہ عوام کو کسی بھی وقت اپنی مرضی سے چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب اسٹیبلشمنٹ اور پرو اسٹیبلشمنٹ جماعتیں لاکھ کوششیں کریں۔ مسئلہ کشمیر کے مر دہ گھوڑے میں دوبارہ روح پھونکنا آسان نہیں۔
مگر بد قسمتی یہ ہے کہ سنجیدہ حلقے ان کے یو ٹرن لینے کی عادت کی وجہ سے اب بھی ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں اور ان کو خدشہ ہے کہ اگر آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کی طرف دوبارہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا گیا تو وہ کسی حیل و حجت کے بغیر اسے تھامنے بلکہ چومنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ان کی یہی خامی ان کی تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔


