یادگار عید لاہور میں۔ خوشبو، رنگ اور مسکراہٹوں کا سفرنامہ
رمضان المبارک کی آخری سحر تھی۔ گجرات کی فضا میں سناٹا سا چھایا تھا، جیسے شہر روزوں کی تکمیل پر مراقبے میں ہو۔ میں نے سحری کے بعد فجر ادا کی، اور خاموشی سے بستر پر جا بیٹھا۔ تبھی موبائل کی اسکرین پر روشنی چمکی، جیسے تقدیر نے انگلی تھام کر ایک دروازہ کھولا ہو۔ پیغام تھا: ”عید منانے لاہور آ جاؤ!“ حامد کی تحریر میں بلا کی کشش تھی۔ وہ پیغام نہیں، جیسے کسی آزاد پرندے کی پکار ہو۔ دل کو بات ایسی بھائی کہ لمحے بھر میں دل نے فیصلہ کر لیا۔ عید لاہور میں ہوگی!
گجرات میں تین دن سے فاقہ کشی جیسا ماحول تھا۔ نہ کوئی ڈھابہ کھلا، نہ ہوٹل کی دیگچی سے خوشبو نکلتی۔ بھوک جیسے مقدر بن چکی تھی۔ سو، یہ دعوت نہیں، کسی پناہ جیسا موقع تھا۔ صبح آٹھ بجے کپڑے تہ کیے، بیگ اٹھایا، اور جیسے خوابوں کی طرف نکل کھڑا ہوا۔ دوپہر ایک بجے جب لاہور کے اسٹیشن پر قدم رکھا، تو شہر نے جیسے بانہیں کھول کر مجھے خوش آمدید کہا۔ تھکاوٹ ضرور تھی، روزوں نے جسم کو نڈھال کیا تھا، مگر دوستوں کے چہروں کی چمک نے جان میں جان ڈال دی۔ تھوڑی دیر سستانے کے بعد افطاری کی گئی، لیکن افسوس، چاند رات کا سارا جادو میری نیند کے قدموں میں بکھر گیا۔ عید کی صبح، جیسے ہی آنکھ کھلی، دل میں خوشی کا الاؤ دہکنے لگا۔ جلدی سے تیار ہوا، اور شہر کی رگوں میں دوڑتی زندگی کو محسوس کرنے انارکلی جا پہنچا۔ وہاں حلوہ پوری کی دیگوں سے اٹھتی مہک، مجھے میرے بچپن کے لاہور سے جوڑ گئی۔ وہ نوالہ جو صرف معدے کو نہیں، دل کو سیر کر دے۔ پھر باری آئی بادشاہی مسجد کی، جہاں مغلوں کا جلال، اسلام کی جمالیات، اور لاہور کا وقار ایک ساتھ سجدے میں جھکتا ہے۔ میں نے عید کی نماز ادا کی، اور وہ لمحہ ایسا تھا جیسے کسی خواب کا آخری منظر۔
نماز کے بعد واپسی پر آرام کا وقفہ لیا، لیکن طبیعت اتنی سبک تھی کہ جلد ہی ہم دوست کھانے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ قسمت مگر تھوڑی شوخ تھی۔ دو ہوٹل بند ملے۔ چہرے کچھ مرجھائے، لیکن ”سیور فوڈ“ نے دوبارہ ہنسی واپس لا دی۔ وہاں پلاؤ کی خوشبو اور دوستوں کی ہنسی نے جیسے دن کا نقشہ بدل دیا۔ واپسی پر نیند نے ہمیں ایک بار پھر اپنی آغوش میں لے لیا۔ رات کے دو بجے آنکھ کھلی، اور ہم چل نکلے خیبر چائے خانہ۔ سناٹا، سرد ہوا، اور چائے کا ایک کپ۔ سب کچھ کسی فلمی سین جیسا محسوس ہو رہا تھا۔ ہم جین مندر کے پاس جا بیٹھے۔ وہ جگہ، وہ لمحے، اور ہم دو دوست۔ باتیں کرتے کرتے وقت کو ہار گئے۔ کب پانچ بجے، کب صبح نمودار ہوئی، کچھ خبر نہ رہی۔
عید کا دوسرا دن کچھ اور ہی رنگ لے کر آیا۔ طے یہ پایا تھا کہ باہر نکلیں گے تو واپسی صرف شام کو ہوگی۔ دوپہر کو شنواری ریسٹورنٹ میں مزیدار کھانے سے دن کا آغاز کیا۔ وہاں کے نرگسی کباب اور گرم گرم نان نے نیند کی باقیات بھی دھو ڈالیں۔ اس کے بعد ہم گیلانی باغ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں ہریالی نے دل کو سرشار کر دیا۔ فضا میں گھلتی قہقہوں کی بازگشت، اور ہوا میں اڑتے پرندے، ہمیں کسی اور ہی دنیا میں لے گئے۔ پھر قوالی چائے خانہ پہنچے۔ وہاں کی فضا میں جیسے عشق بول رہا تھا۔ قوال کی آواز جب دل کی تاروں کو چھوتی تو ایسا لگتا جیسے کوئی پرانا درد مسکرا کر گلے لگا رہا ہو۔ شام کو ہم کھڑک خیل پہنچے۔ یہ جگہ ہمارے ماضی کا جُز ہے۔ دوستوں کی صحبت، پرانی باتیں، کالج کی شوخیاں۔ جیسے سب کچھ واپس لوٹ آیا ہو۔ نیئر اور حامد کے ساتھ بیٹھک میں جو قہقہے بکھرے، وہ شاید لاہور کی فضا میں ہمیشہ کے لیے قید ہو چکے ہوں۔ واپسی پر کمرے کا سکون اور نیند کا گہرا بستر ہمارا منتظر تھا۔
تیسرا دن نسبتاً سادہ گزرا، جیسے لاہور بھی ذرا سا سانس لینے بیٹھا ہو۔
چوتھے دن صبح سویرے ہم تینوں دوست ناشتہ کرنے نکلے۔ دیسی ناشتہ، چائے کی بھاپ، اور گپ شپ کا شور۔ لاہور کی مارننگ ریچارج! ناشتے کے بعد نیئر ہم سے رخصت ہوا۔ میں اور حامد لاہور میوزیم کی جانب نکلے۔ وہاں قدم رکھتے ہی یوں لگا جیسے وقت نے ہماری انگلی تھام کر ہزاروں برس پیچھے لے جانا شروع کر دیا ہو۔ مہر گڑھ، موہن جو دڑو، ہڑپہ، گندھارا۔ ہر تہذیب کی جھلک کسی نظم کی مانند دل پر رقم ہوتی گئی۔ ایک طرف پتھروں میں تاریخ بولتی تھی، دوسری طرف مجسموں میں روح چھپی محسوس ہوتی۔ تہذیب، تمدن، اور فخر۔ سب ایک چھت کے نیچے موجود تھا۔
میوزیم سے نکلے تو اردو بازار گئے۔ وہاں کتابوں کی خوشبو، علم کی روشنی، اور حروف کی مہک نے ہمیں دیوانہ بنا دیا۔ کچھ نایاب کتب خریدیں اور پھر نیئر کو ساتھ لے کر دہلی گیٹ کی راہ لی۔ قدیم لاہور اپنے پورے جوبن پر تھا۔ شاہی حمام کی نم فضا، مسجد وزیر خان کی رنگینیاں، اور گلیوں کی خاموش خوشبو۔ سب کچھ جیسے دل کی کھڑکی پر آ کر دستک دے رہا تھا۔ وہاں بہار میلے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ قہقہوں، رنگوں، خوشبوؤں اور روشنیوں کا ایک سیلاب بہہ رہا تھا۔ شہر کی روح جیسے عید کے گیت گا رہی تھی۔
شام کو واپسی ہوئی۔ کھانے کے بعد بستر پر لیٹے تو دل میں وہی لاہور بسا ہوا تھا۔ چہک، رنگ، اور لمس کے ساتھ۔ اگلی صبح، یعنی جمعہ کو ہم گجرات روانہ ہو گئے، مگر لاہور ہمیں مکمل طور پر ساتھ لے چکا تھا۔
یہ عید لاہور میں، صرف ایک سفر نہیں، ایک تجربہ تھا۔ ایسا تجربہ جو ہر یاد کے ساتھ ایک نئی خوشبو بن کر دل میں اترتا ہے۔

