ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل


muhammad salim gujranwala

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہد وزیر اعظم میں بہ لحاظ عہدہ جس زریں جرنیل کو فوج کا سربراہ بنایا اسی ضیاء الحق نے 5 جولائی 1975 کو اس کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگا دیا جو 11 برس پر محیط رہا۔ اس وقت بھی ایک سازش کے تحت آج ہی کی طرح تقریباً ساری سیاسی جماعتیں پی پی کے خلاف اتحادی بن گئیں تھیں جنھوں نے کھل کر ضیائی مارشل کی حمایت کی تھی، مٹھائیاں بانٹیں اور اس کی حکومت میں شامل ہو کر 11 برس تک مزے لوٹے۔

آمر ضیاء نے آئین پاکستان کو 12 صفحے کی کتاب کہہ کر رد کر دیا۔ اگر اس وقت عدالت عظمی ضیاء کو آئین شکنی کی قرار واقعی سزا دے دیتی تو آج ملک پاکستان بہت بہتر حالت میں ہوتا۔ ضیاء نے مجلس شوری کی شکل میں بہت سے سیاست دانوں کو اپنا دم چھلا اور حامی بنا لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو تو سیاست کی اے بی سی بھی نہیں آتی جس پر ولی خان نے پھبتی کسی تھی کہ سیاست دان اے بی سی تک پڑھتے ہیں تو آگے جی ایچ کیو آ جاتا ہے ۔

سقوط پاکستان میں یحییٰ خان کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو بھی ذمہ دار تھے۔ قومی اسمبلی کی 300 نشستوں میں سے 162 نشستیں حاصل کرنے والے شیخ مجیب الرحمٰن کو اقتدار منتقل نہ کیا گیا اور ببانگ دہل یہ کہا گیا کہ جو کوئی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ یہ بھی نعرہ لگا کہ ادھر تم ادھر ہم، اگر اس وقت یہ طرز عمل نہ اپنایا گیا ہوتا تو شاید پاکستان تقسیم نہ ہوتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے کارپردازوں نے ابھی تک ہوش کے ناخن نہیں لیے ہیں اور ہم آج بھی 1971 کے عہد میں گھرے ہوئے ہیں جب کہ ہم سے الگ ہو کر بنگلادیش بننے والا ملک ترقی کی دوڑ میں ہم سے کوسوں آگے نکل گیا ہے۔

ضیاء نے بھٹو کو احمد رضا قصوری کے مقدمہ قتل میں عدالت عظمی سے 3 / 4 کے فیصلے سے قتل کروا دیا۔ اس وقت کے چیف جسٹس مولوی مشتاق احمد نے اپنا فیصلہ کن ووٹ پھانسی کی سزا کی توثیق میں ڈال دیا۔ بعد ازاں مولوی مشتاق احمد کے جنازے پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا اور کافی عرصے تک اس کی قبر پر جوتے رکھے جاتے رہے۔

ابھی حال میں ہی 44 سال بعد پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے بھٹو پھانسی مقدمے میں نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں انصاف پر مبنی عدالتی کارروائی نہیں ہوئی تھی اور انصاف کا قتل ہوا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی مقبولیت کا بہت زعم تھا۔ انہوں نے اسی زعم میں اپنی سزائے موت کے خلاف عدالت میں نظر ثانی کی درخواست بھی دائر نہ کی اور نہ ہی رحم کی درخواست کی۔ نصرت بھٹو نے اس پھانسی کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی جو بالآخر ناکام ہوئی۔ بھٹو کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اس سزا کے خلاف باہر نہ نکلی۔

اس برس یوم پاکستان کے موقع پر قومی تقریب عطائے اعزازات میں نشان پاکستان کا اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ہیں جنھیں پھانسی کی سزا ملنے کے 46 برس بعد پاکستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز نشان پاکستان دیا گیا جو ان کی بیٹی صنم بھٹو اور نواسی آصفہ بھٹو نے مشترکہ طور پر وصول کیا۔ اعزاز عطا کرنے سے پہلے ان کے تعارف میں بتایا گیا کہ وہ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے، ایک سیاسی جمہوری جماعت کے بانی اور سربراہ تھے اور انہوں نے ملک کو 1973 کا ایک متفقہ آئین دیا۔ تعارف میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس جرم میں پھانسی دی گی اور قیام بنگلہ دیش میں ان کا کیا کردار تھا اور یہ کس نے کہا تھا کہ ادھر تم، ادھر ہم، جو رکن اسمبلی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی، ایک ہزار برس تک دشمن سے جنگ کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے چند ہی دنوں میں ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہندوستانی فوج کے سامنے ہتھیار کیوں ڈال دیے۔

اس ملک میں عجیب تماشے ہوتے ہیں، پہلے ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت سے قاتل قرار دلوایا گیا، پھر انہیں پھانسی دے دی گئی، کسی کو نماز جنازہ ادا نہ کرنے دی گئی اور خاموشی سے دفن کر دیا گیا۔ پھر 44 برس بعد ان کی پھانسی کو اسی عدالت نے عدالتی قتل قرار دے دیا ہے۔ اور اب 46 برس بعد انہیں بعد از مرگ نشان پاکستان کا حق دار سمجھا گیا ہے۔ اب اگلے دو تین برسوں میں لگتا ہے صدر ایوب ضیاءالحق اور پرویز مشرف کو بھی ایسے ہی اعزازات کا حق دار سمجھا جائے گا۔

4 اپریل 1979 کو راولپنڈی جیل میں علی الصبح ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ گڑھی خدا بخش میں نہایت خاموشی کے ساتھ نماز جنازہ ادا کر کے تدفین کر دی گئی، جہاں بعد ازاں ایک نہایت ہی شاندار مقبرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ اسی مقبرے میں ان کی بیٹی اور سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو بھی ابدی نیند سو رہی ہیں۔ ان کی اہلیہ نصرت بھٹو بھی اسی مقبرے میں آسودہ خاک ہیں۔

بھٹو نے مرنے سے قبل کہا تھا،
میں نے لوگوں کو شعور بخشا ہے۔
میں نے ایک نسل کو متاثر کیا ہے۔
میں اپنی قبر میں اپنی طرف آنے والوں کے قدموں کی چاپ سنوں گا۔
میرے مرنے کے بعد لوگوں کو بتا دینا کہ بزدل قوم کے بہادر رہنماؤں کا یہ ہی حال ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS