خواب، محبت اور زندگی – 8


آج کل کے دور میں یہ سوچنا بھی مشکل لگتا ہے کہ اس ”پرانے“ دور میں امی اور ابی کے درمیان رومانس کیسے پروان چڑھا ہو گا؟ موجودہ نسل کے لئے تو اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ لیکن جمشید پور کے امتیاز علی نے اپنی فلم ”لو آج کل ”میں ان کا یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔ میرے خیال سے وہ بھی اسی راہ سے گزرے ہوں گے جس سے سیف علی خان اور ان کی محبوبہ یعنی دوسروں سے نظریں بچا کر ایک دوسرے کو دیکھنا، رقعے لکھنا اور کبھی باہر کسی پارک میں مل لینا۔

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن امی ابی کی محبت پروان چڑھتی گئی۔ نئے شہر میں نئی محبت کی سرشاری میں ابی بھول ہی گئے کہ وہ دہلی سے آئے ہیں جو بقول میر تقی میر ایک شہر تھا عالم میں انتخاب۔ انہیں یاد ہی نہیں رہا کہ ان کی اپنی لاہور والی کزن سے منگنی ہو چکی ہے اور دونوں کی شادی دہلی میں ہونا قرار پائی ہے۔ بہرحال خود فراموشی کا یہ عالم زیادہ دیر برقرار نہ رہا۔ گھر سے آنے والے خطوط انہیں خیال و خواب کی دنیا سے باہر کھینچ لائے۔

ابی کو لگا کہ وہ وعدہ شکنی نہیں کر سکتے۔ ایک اور خواب بکھرنے والا تھا۔ ابی کو امی کو سب کچھ بتانا پڑا۔ انہیں امی کو اور خود کو بھی یہ سمجھانا تھا: وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا ”ہونی کو انہونی کر دے۔ انہونی کو ہونی“ امی کے لئے یہ انکشاف ایک سانحہ سے کم نہیں تھا۔ ابی بھی دل گرفتہ تھے۔ ان کی اداسی اور دل شکستگی اپنی جگہ مگر مجھ ننھی جان کو تو اس دنیا میں آنا تھا۔

تقدیر کے ترکش میں ایک آخری تیر بچا تھا اور اس کا نام تھا، دلیپ کمار اور نورجہاں کی فلم جگنو۔ ان افسانوی فنکاروں کی اس مشہور فلم کی 1947 میں کراچی کے سینماؤں میں نمائش جاری تھی۔ آپا میری نانی یہ فلم دیکھنے کی خواہشمند تھیں چنانچہ ان تینوں خواتین آپا، خالہ اور امی کو سینما ہال لے جانے کی ذمہ داری ابی کے سپرد کی گئی۔ ذرا تصور کیجئے، تاریک سینما ہال میں پردۂ سیمیں پر دلیپ کمار اپنی مخصوص جذبات اور احساسات سے بھر پور رومانوی اداکاری کا جادو جگا رہا ہے۔

نور جہاں اپنی میٹھی اور ترنم بھری آواز سے سینما بینوں کے جذبات کو ابھار رہی ہے۔ ناظرین سانس روکے کہانی کے سحر میں گم ہیں اور کہانی کیا تھی؟ دو محبت بھرے دل اس لئے ایک دوسرے سے نہیں مل پاتے کہ لڑکے کے خاندان والے اس لڑکے کی شادی کسی اور لڑکی سے کرنا چاہتے ہیں۔ ارے یہ کیا، یہی تو امی ابی کے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔ یہ فلمی کہانی تھی یا حقیقی زندگی کی کہانی۔ فلم آگے بڑھتی رہی یہاں تک کہ وہ گانا آ گیا جس نے مجھے جنم دینے میں سہولت کاری کی یعنی میرے اس دنیا میں آنے کا باعث بنا۔

یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے محبت کر کے بھی دیکھا، محبت میں بھی دھوکہ ہے کبھی دکھ ہے، کبھی سکھ ہے، ابھی کیا تھا، ابھی کیا ہے یونہی دنیا بدلتی ہے، اسی کا نام دنیا ہے۔ اب کوئی کیا کہے، کوئی کہہ بھی کیا سکتا ہے، امی جو اپنے دکھ کو اپنے دل میں چھپائے بیٹھی تھیں اور کسی پر ظاہر نہیں کر رہی تھیں، اس گانے کو سن کر انہیں ہوں لگا جیسے کسی نے ان کے سینے پر گھونسہ مارا ہو۔ یہ گانا بہت سچائی سے اور بڑے تکلیف دہ انداز میں ان کے داخلے جذبات اور خارجی حالات کی نمائندگی کر رہا تھا۔

ان کی دنیا بدل چکی تھی۔ ان کی پیاری سہیلیاں کلونت کور اور بلونت کور کہاں کھو گئی تھیں۔ امرتسر کی گلیاں پیچھے رہ گئی تھیں جہاں ان کے والد اور بھائی کی یادیں بسی ہوئی تھیں۔ اور یہاں اب اس نئی سر زمین پر انہوں نے جس شخص کی محبت کے خواب دیکھے تھے وہ کسی اور لڑکی سے شادی کرنے جا رہا تھا۔ یہی زندگی ہے۔ جینا اسی کا نام ہے۔ 1947 میں کراچی کے سینما کی تاریکی میں سولہ سال کی نو خیز لڑکی اپنی کہانی سینما کے پردے پر دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکی اور آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔

ابی کے لئے بھی فلم کی کہانی کم تکلیف دہ نہیں تھی لیکن امی کا رونا اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ انہوں نے اپنے دل میں یقیناً یہی سوچا ہو گا: تم اپنی کرنی کر گزرو، جو ہو گا دیکھا جائے گا اس رات گھر پہنچ کر انہیں نیند نہ آئی، وہ ساری رات صحن میں ٹہلتے رہے۔ سورج طلوع ہونے تک وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے گھر والوں کو خط لکھا اور انہیں اپنی ہونے والی دلہن دل افروز (میری امی) سے متعارف کرایا۔ تو صاحب یوں یہ بندھن جڑا اور بعد میں وہی پھپھی جن سے ابی کی منگنی ہوئی تھی، میری فیورٹ آنٹی بن گئیں۔ لیکن ٹھہریئے، امی اور ابی کے ملاپ میں ابھی ایک تاریخی ٹوئسٹ باقی تھا۔ شادی کی تاریخ 30 جنوری 1948 مقرر ہوئی۔ تاریخ کے طالب علموں کو یاد آ گیا ہو گا کہ اس روز کیا ہوا تھا۔

Facebook Comments HS