کیا ترقی تاریخ کو خاموش کر دیتی ہے؟


استاد غلام حسین کے آرٹسٹ اسٹوڈیو میں بکھری ہوئی تصویروں میں ایک روشن تصویر بہاولپور کی دھندلاہٹ زدہ بھولی بسری داستان سناتی ہے۔ 1978 میں دولت خانہ (جائے پیدائش نواب صادق محمد خان خامس عباسی ) کے خوبصورت دروازے کی لی گئی تصور کو دوبارہ دلکش رنگوں سے تختہ پر اتار کر دیکھنے والے کا دل پسیج لینے کا سامان میسر کر دیا ہے۔ مغل طرز کے پیچیدہ نقوش سے سجی ایک شاندار محراب دار دروازہ کی تصویر اب ایک سایہ کی مانند استاد غلام حسین کے اسٹوڈیو میں لٹکی ہوئی ہے۔ ”یہ دروازہ محض پتھر اور چونے کا کام نہیں تھا،“ استاد نے اس کو چھوتے ہوئے کہا۔ ”یہ ہماری تاریخ کا محافظ تھا، جہاں مسافر حیرت سے ٹھہر جاتے تھے۔ اب یہ کنکریٹ کے مکانوں اور ہارن بجاتے رکشوں تلے دب چکا ہے۔“ گزشتہ برسوں بلڈوزروں نے اس کی باقیات مٹا کر اس کی جگہ ”ہاؤسنگ سوسائٹی“ بنا دی اور اس تصویر نے قدامت او جدیدیت کی تکرار کو جنم دیا ہے۔

دُولت خانہ کا دروازہ بہاولپور کی ورثے اور تیز رفتار ترقی کی خاموش جنگ کا تازہ ترین شکار ہے۔ کبھی عباسی خاندان کا نگینہ کہلانے والے اس شہر میں 250 سالہ تاریخ کے لا تا تعداد تاریخی دروازے تھے۔ آج صرف سات کے قریب پرانے شہر کے بچے ہیں اور وہ بھی ضلعی حکومت نے گزشتہ کچھ سالوں میں دوبارہ تعمیر کیے ہیں ورنہ ان میں سے بھی اکثر اپنا وجود کھو چکے تھے 19 ویں صدی کا شاہکار فرید دروازہ بھی دوبارہ تعمیرات کے بعد ایک خوبصورت منظر پیش کر رہا ہے۔

نشاط اور دربار محل کے باغات، جو کبھی شاعروں کی آماجگاہ تھے، اب شہر کے لوگوں پر اس کے دروازے بھی بند ہیں۔ ”ہم صرف عمارتیں نہیں کھو رہے، ہم اپنی شناخت کھو رہے ہیں۔“

مقامی مورخ ڈاکٹر سیدہ روبینہ یاسمین کا کہنا ہے۔ ”تصور کریں پیرس آرک ڈی ٹرائیمف کے بغیر ہو۔ کیا ہم اسے ترقی کہیں گے؟“

مقامی اساتذہ اور شہریوں کے جذبات تقسیم ہیں۔ ڈاکٹر شعیب بین الاقوامی تعلقات کے استاد کے لیے نیا بازار خوشحالی کی علامت ہے : ”مٹی کے یہ پرانے پتھر روزگار کے مقابلے کیا حیثیت رکھتے ہیں؟“ ان کا اصرار ہے کہ جدید کو اپنانا ہی وقت کی ضرورت ہے

لیکن شعبہ تاریخ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر طاہر کے لیے یہ دروازہ جوانی کی یادیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ”ہمیں یہاں سکون میسر تھا اب صرف شور اور نئی روشنیاں ہیں۔ ان کے مطابق تاریخ کے بغیر ترقی بے معنی ہے۔ اثار۔ قدیمہ کے استاد وقار مشتاق کا کہنا ہے کہ جدید کاری ناگزیر ہے۔ ورثہ پیٹ نہیں بھر سکتا، جب تک اس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا جائے۔ سید رضا شاہ کہتے ہیں۔ ”ہم نور محل پیلس کو ثقافتی مرکز بنانے جیسے متبادل منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ تاکہ تاریخ اور ترقی ساتھ ساتھ چل سکے۔“

ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل بہاولپور میاں عتیق کا کہنا ہے کہ بہاولپور اکیلا نہیں۔ استنبول کے عثمانی مکانات سے لے کر دہلی کی گمشدہ حویلیوں تک، شہر ماضی اور مستقبل کے توازن میں الجھے ہوئے ہیں۔ تاہم کامیاب مثالیں بھی ہیں۔ جن میں سے ایک لاہور کی ”والڈ سٹی“ منصوبے نے شاہی حمام کو بحال کیا، جس نے سیاحت اور تاریخ کے تحفظ کو یکجا کیا۔ ”بہاولپور بھی یہ راہ اپنا سکتا ہے۔“ معمار اور استاد جام ایاز احمد تجویز دیتے ہیں۔ ”باقی دروازوں کو آرٹ گیلریاں یا ثقافتی و تاریخی راستوں میں کیوں نہ بدلا جائے؟ اور تاریخ کو جدت کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے دیں۔“

ورثے کے بغیر قوم بے جڑ درخت کی مانند ہے۔ یہ کہنا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب گیلانی کا
سہیل کامران میتلہ نے کچھ دیگر۔ مشورے بھی دیے جیسا کہ

سرگرم کارکنوں اور تعلیمی اداروں کو متحرک کر کے۔ پالمائرا کی طرح تھری ڈی اسکیننگ سے خطرے والی جگہوں کا ریکارڈ بنانا۔ تاریخی جائیدادوں کی بحالی پر ٹیکس چھوٹ۔ اسکول پروگراموں کے ذریعے بڑوں سے زبانی تاریخوں کا ریکارڈ اگلی نسلوں تک منتقل کرنا۔ یہ عوامل تاریخ کو جدید طرز پر زندہ کر کے وقت کے ساتھ ہم آہنگ کریں گے۔

جب بہاولپور پر شام کی دھند چھاتی ہے، غلام حسین کی پینٹنگ میرے ٹیبلٹ پر ایک ڈیجیٹل یادگار کی طرح جگمگاتی ہے۔ اور سوال کرتی ہے کیا ترقی کو توڑ پھوڑ کا آلہ ہونا چاہیے؟ کسی بھی شہر کی روح اس امر میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کو کیسے سنبھالتا ہے۔ سوال ابھی باقی ہے : کیا بہاولپور فراموشی چنے گا، یا زمانوں کے درمیان پل بنے گا؟ فی الحال، باقی دروازے بھی خاموش ہیں، اور انہیں بھی اپنی یاد تازہ ہونے کا انتظار ہے۔

 

Facebook Comments HS

ڈاکٹر معظم خان درانی

ڈاکٹر معظم خان درانی شعبہ بشریات، اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور میں استاد ہیں اور نور محل میوزیم کی تزئین و آرائش میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیمریج کے ماہسا پرجیکٹ ساتھ مل کر تاریخ کو جدید تناظر جمع کرنے پر کام کر رہے ہیں

moazzam-khan-durrani has 9 posts and counting.See all posts by moazzam-khan-durrani