چولستان میں برسات کی ایک شام

رحیم یار خاں کی گرمی ایک جسمانی بوجھ بنی ہوئی تھی، جو بے رحمی سے دبائے جا رہی تھی۔ وسیب میں جون، خاص طور پر وسیع و عریض چولستان ریگستان کے کنارے، عام طور پر ایک آگ کی بھٹی کی مانند ہوتا ہے۔ آج شام پھر، اچانک یہ ہوا۔ ایک شاندار، حیرت انگیز تبدیلی۔ پل بھر پہلے تک سفید آسمان یکایک تاریک ہو گیا۔ ایک ٹھنڈی، دھول بھری ہوا نے شہر میں گھوم کر بارش کا وہ واضح، پیغام پہنچایا۔

Read more

عاشورہ کی دھڑکتی روح سے رواداری کی بازگشت

ہر سال جب محرم کے غمگین دن طلوع ہوتے ہیں، میرا ذہن ماضی کے سفر پر نکل پڑتا ہے۔ نہ صرف امام حسین علیہ السلام اور واقعہ کربلا کے عالمگیر غم کی طرف، بلکہ خاص طور پر احمد پور شرقیہ کی خاک آلود گلیوں، قدیم بوہڑ (امام بارگاہ) کے سائے، اور کٹرہ احمد خان کی پرانی دیواروں کی طرف۔ یہیں میرے دادا کی جڑیں ہیں، جہاں میرے خاندان کی کہانی عاشورہ کی گہری اور روادار ثقافت سے جُڑی ہے جو

Read more

چولستان جیپ ریلی اور نواب صادق کے دسترخوان کی میراث

ہر فروری میں چولستان کا صحرا انجنوں کے گرجتے ہوئے شور، اڑتی ہوئی ریت اور رنگین ثقافتی جشنوں کی ہم آہنگی سے بیدار ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی اس قدیم خطے کو جوش اور ورثے کے لیے ایک اسٹیج بنا دیتی ہے۔ یہ ریلی محض ایک دوڑ نہیں ؛ یہ ماہر ڈرائیور اور ثقافت کے متلاشیوں کی زیارت گاہ ہے، جسے ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب (TDCP) منظم کرتی ہے۔ تقریباً 200 کلومیٹر کا پر خطر

Read more

جادوئی تھر کا سفر: قسط نمبر تین : تاریخ اور مہم جوئی کا آخری دن

سورج ابھی ابھی طلوع ہوا تھا کہ ہم پرجوش مسافروں کا گروہ سندھ تھر کی پراسرار خوبصورتی کو دریافت کرنے کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس کے بعد جو دن گزرا، وہ روحانی سکون، تاریخی عجائبات، اور اس دلکش خطے کی جاندار ثقافت سے بھرپور تھا۔ یہاں ہماری اس ناقابلِ فراموش سیر کا ایک جھلک پیش ہے۔ ہماری مہم جوئی کا آغاز قصبو مندر سے ہوا، جو تھر کے خشک مناظر کے درمیان گھرا ایک روحانی پناہ گاہ ہے۔ مندر

Read more

مقدس تار: نور محل میوزیم میں کعبہ کا ایک ٹکڑا کیسے تاریخ اور تقدیس کو بُنتا ہے

بہاولپور کے شاہی نور محل کے عالیشان دیوانوں میں، جو عباسی خاندان کی عظمت کے داستان گُو ہیں، ایک ایسی نشانی پوشیدہ ہے جو تاریخ سے بالاتر ہے۔ یہ گہری مذہبی اور روحانی اہمیت کی حامل ہے، جو زائرین کے تجربے کو جمالیاتی مسرت یا شاہی فخر سے اٹھا کر خاموش تقدس کے جذبے میں بدل دیتی ہے۔ یہ کعبہ معظمہ کے مقدس غلاف کسوہ کا ایک نایاب ٹکڑا ہے، جو مقامی طور پر ”خِلافتِ کعبہ“ کے نام سے جانا

Read more

جادوئی تھر کا سفر: سندھ کے چھپے ہوئے خزانوں کی کھوج قسط (2)

ہمارا سفر نئے جوش کے ساتھ شروع ہوا جب کراچی سے مزید مہمان ہمارے قافلے میں شامل ہوئے۔ ہماری اگلی منزل پاکستان ہندوستان سرحد کے قریب واقع گوگاسر، ایک پوشیدہ جواہر۔ کیا خوبصورت منظر تھے بارش کے بعد صحرا سبزے سے بھرپور تھا۔ ہر طرف ناچتے مور ریت پر بھاگتے اونٹ صحرا کی وسعت سبزہ اور کہیں کہیں آبادی کے آثار۔ سانپ کی طرح چلتی سڑک ہمیں صحرا کے بیچ و بیچ گوگا سر لیے جا رہی تھی۔ آنکھیں اس

Read more

جادوئی تھر کا سفر: سندھ کے چھپے ہوئے خزانوں کی کھوج

پہلا حصہ : رحیم یار خان سے تھر کے دروازے امرکوٹ تک ہمارا یہ یادگار سفر رحیم یار خان سے شروع ہوا، جہاں میں اور حماد خان اپنے دیگر چھے ساتھیوں کے ساتھ موٹروے پر سکھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہموار شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے ہمیں سندھ کے دیہی مناظر کی جھلکیاں دکھائی دیں، لیکن اصل جادو کا آغاز روہڑی بائی پاس پار کرنے کے بعد ٹھہڑی سے ہوا۔ وہاں، کھجوروں کے سرسبز و شاداب باغات سورج کی سنہری

Read more

انڈس کوئین: تاریخ سے ورثے تک کا سفر

انڈس کوئین، جو کبھی ریاست بہاولپور کی بحری تاریخ کا ایک گوہر نایاب تھی، اپنے ساتھ ایک ایسی کہانی لے کر چلتی ہے جو خود اُن دریاؤں کی طرح طوفانی اور دیرپا ہے جن پر یہ کبھی رواں دواں تھی۔ برطانیہ کا یہ جنگی بہری جہاز جس نے سترویں صدی کے اوائل میں جنم لیا۔ اٹھارہویں صدی میں اس پرانے جہاز کو جب برطانوی حکومت نے بیچنے کا ارادہ کیا تو نواب آف بہاولپور نے اسے خریدا۔ اے اپنی سفری

Read more

کیا ترقی تاریخ کو خاموش کر دیتی ہے؟

استاد غلام حسین کے آرٹسٹ اسٹوڈیو میں بکھری ہوئی تصویروں میں ایک روشن تصویر بہاولپور کی دھندلاہٹ زدہ بھولی بسری داستان سناتی ہے۔ 1978 میں دولت خانہ (جائے پیدائش نواب صادق محمد خان خامس عباسی ) کے خوبصورت دروازے کی لی گئی تصور کو دوبارہ دلکش رنگوں سے تختہ پر اتار کر دیکھنے والے کا دل پسیج لینے کا سامان میسر کر دیا ہے۔ مغل طرز کے پیچیدہ نقوش سے سجی ایک شاندار محراب دار دروازہ کی تصویر اب ایک

Read more