پاک امریکہ تعلقات میں مثبت پیش رفت
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے فون پر بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حکومت سنبھالنے کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان پہلی بار بات ہوئی ہے۔ یہ رابطہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے علاوہ عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک ایسے وقت میں رابطہ ہوا ہے جب صدر ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک پر مختلف شرح سے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر کے سنگین تجارتی بحران پیدا کیا ہے۔ ٹیرف عائد کر کے امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنے کی یہ پالیسی دوسری جنگ عظیم کے بعد فری ٹریڈ اور گلوبلائزیشن کی امریکی پالیسی تبدیل کرنے اور دنیا میں بے یقینی پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔ 3 اپریل کو امریکی صدر نے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اگرچہ خاص طور سے چین اور یورپین یونین کو نشانہ بنایا تھا لیکن نئی پالیسی کے تحت کسی بھی ملک کو معاف نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جس ملک کے ساتھ امریکہ کو تجارتی خسارہ ہے، اس پر ٹیکس عائد ہو گا۔ اس کے علاوہ ایسے ممالک کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد ہو گا جو اپنی منڈیوں میں محصول عائد کر کے امریکی مصنوعات کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا گیا تھا۔
یوں تو پاکستانی برآمدات اس کی آبادی اور پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہیں لیکن ان میں بھی بیس فیصد کے لگ بھگ مال امریکہ جاتا ہے جس میں زیادہ تر ٹیکسٹائل مصنوعات شامل ہوتی ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تجارت میں پاکستان فائدے میں ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ہی پاکستانی مصنوعات پر اضافی محصول عائد کا اعلان ہوا تھا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں وزارت خارجہ نے جو بیان جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں لیڈروں نے باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور تجارتی و علاقائی سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ پاکستان کی طرف سے امریکی سرمایہ کاری اور تجارت میں وسعت کی خواہش کا اظہار کیا گیا جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے بھی ان خیالات سے اتفاق کیا۔ انہوں نے خاص طور پاکستان میں نایاب معدنیات میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا‘ ۔
اس بیان میں خاص طور سے پاکستان پر عائد کیے گئے امریکی محصول کا حوالہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے امریکی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کیا اس موضوع پر ان کی توجہ مبذول کرا کے پاکستانی برآمدات کے لیے کچھ رعایت لینے کی کوشش کی یا نہیں۔ لگتا ہے کہ اگر اس موضوع پر کچھ تبادلہ خیال ہوا بھی ہو گا تو معاملہ کی پیچیدگی اور حساسیت کی وجہ سے اس پر کوئی بیان دینا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ جمعرات کو ٹیرف عائد کرنے کا اعلان ہونے کے بعد سے پچاس سے زائد ممالک امریکہ سے رابطہ کر کے تجارتی معاہدے کرنے میں دلچسپی ظاہر کرچکے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا میں مکمل تجارتی جنگ سے بچنے کے لیے امریکہ کو فوری طور سے اپنے تجارتی فریقین کے ساتھ کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچنا ہو گا۔ ان میں خاص طور سے یورپین یونین کے ساتھ معاہدہ اہم ہو گا جس کے ممالک نیٹو میں امریکہ کے ساتھی ہیں اور ان کے درمیان اشتراک و تعاون دہائیوں پر محیط ہے۔ ان ممالک کو عام طور سے قریبی حلیف سمجھا جاتا ہے تاہم تجارتی خسارہ کم کرنے اور امریکی صنعت کو سہارا دینے کے لیے ٹرمپ نے دوست دشمن سب کے ساتھ یکساں درشتی سے تجارتی جنگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان سے امریکہ بھیجی جانے والی مصنوعات کی مالیت 6 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوتی ہے جبکہ امریکہ نے 2024 دوران 4110 ارب ڈالر کی مصنوعات درآمد کی تھیں۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس حجم میں پاکستانی مصنوعات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے لیکن یہ حجم پاکستان کے لیے بے حد اہم ہے کیوں کہ اس کی کل برآمدات ہی 30 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ فوری ریلیف کے لیے پاکستان کو امریکہ کے ساتھ معاملہ طے کرنا پڑے گا اور اب دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی بات چیت کے بعد یہ امید کی جا سکتی ہے کہ امریکی حکومت اعلیٰ سطح پر پاکستانی حکومت کو انگیج رکھنا چاہتی ہے۔ اس بات چیت میں اگر اسحاق ڈار اور مارکو روبیو نے ٹیرف کے سوال پر براہ راست بات نہ بھی کی ہو پھر بھی اس بات چیت سے دیا جانے والا خیر سگالی کا پیغام اہم ہے۔
پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے اس دوران بتایا ہے کہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد واشنگٹن جائے گا تاکہ پاکستانی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے معاملہ پر بات چیت کی جا سکے۔ تاہم وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کو ’ہم ایک چیلنج اور موقع کے طور پر دیکھتے ہیں‘ ۔ گو کہ انہوں نے اس بیان کی وضاحت نہیں کی۔ البتہ اگر امریکہ کی منڈی میں پاکستان کی رسائی کم ہونے کی صورت میں دوسری منڈیاں تلاش کی جاتی ہیں یا ایسا مال پیدا کرنے کی حکمت عملی تیار ہوتی ہے جس کی کھپت کے لیے صرف امریکی منڈی ہی ضروری نہ ہو تو یہ صورت حال پاکستانی بیرونی تجارت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم بحرانوں میں گھرے پاکستان میں مشکل معاشی فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کے بارے میں پیچیدگیاں موجود ہیں۔ ان میں داخلی سیاسی مشکلات کے علاوہ عالمی سفارتی الجھنیں بھی شامل ہیں۔ ڈار اور روبیو بات چیت سے پاکستان کی سفارتی تنہائی میں کمی واقع ہوگی۔ اور یہ تاثر بھی کمزور ہو گا کہ پاک امریکہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔
دونوں ملکوں کے تعلقات کے بارے میں امریکہ میں تحریک انصاف کے لیے کام کرنے والی لابیوں نے خاص طور سے غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکی کانگرس کے متعدد ارکان سے عمران خان کی رہائی اور پاکستان میں جمہوریت کو حائل مشکلات کے خلاف بیان جاری کرایا گیا تھا۔ تاہم صدر بائیڈن نے انسانی حقوق کا دعوے دار ہونے کے باوجود اس بیان پر غور نہیں کیا تھا۔ صدر ٹرمپ انسانی حقوق کے بارے میں سابقہ حکومت کی طرح حساس نہیں ہیں۔ مارچ کے شروع میں کانگرس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دہشت گرد محمد شریف اللہ کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کرنے پر پاکستان کی توصیف کی تھی۔ ٹرمپ کا یہ بیان سامنے آنے تک امریکہ میں تحریک انصاف کے حامی گروہ اور سوشل میڈیا پر سرگرم عناصر یہ پیش گوئیاں کرتے رہے تھے کہ نئے امریکی صدر پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈال کر عمران خان کو رہا کرائیں گے۔ البتہ امریکی صدر کی کانگرس میں تقریر سے معاملہ پلٹ گیا۔ اس کے بعد کانگرس کے دو ارکان نے ’پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ‘ کے عنوان سے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور عمران خان کی رہائی کے لیے ایک بل جمع کرایا ہے۔ عام طور سے اسے پی ٹی آئی کے لیے کام کرنے والی لابیوں کی محنت کا نتیجہ سمجھا جا رہا تھا تاہم تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ امریکی کانگرس میں متعارف کرائے گئے بل سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
واشنگٹن میں پاکستان کے خلاف سرگرم کانگرس ارکان کے ساتھ تحریک انصاف کے حامیوں کے رابطوں سے قطع نظر دونوں ملکوں کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح پر رابطے سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ امریکی حکومت کانگرس میں کسی پاکستان دشمن قانون سازی کی حمایت نہیں کرے گی۔ پاکستان اور اس کی حکومت کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہونی چاہیے۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ سکیورٹی کے معاملات میں امریکہ کے ساتھ تعاون بحال ہو سکے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے درمیان سامنے آنے والی پیش رفت سے لگتا ہے کہ اس بارے میں میدان ہموار ہو رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ کو افغانستان میں امریکی فوج کے چھوڑے ہوئے ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی اور پاکستان میں دہشت گردی میں ان کے استعمال کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مارکو روبیو نے یہ معاملہ حل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ صدر ٹرمپ بھی افغانستان سے امریکی ہتھیار واپس لینے کی بات کرچکے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت اس بارے میں امریکی تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات میں فیصلہ کن کمی واقع ہو سکتی ہے۔ امریکہ کو اس بات کا احساس ہے کہ اس علاقے میں پروان چڑھنے والے دہشت گرد گروہ کسی مرحلے پر امریکی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت ایک بار پھر اب امریکی حکومت کو اس معاملہ کی اہمیت و ضرورت پر قائل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔
بلوچستان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے بھی امریکہ کے ساتھ رابطہ و تعاون مفید ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن کے ساتھ رابطے بحال ہونے سے اس صوبے میں عسکریت پسند گروہوں کے لیے بھارت و افغانستان کی مدد رکوانے کے لیے کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر پاکستان بلوچستان میں معدنیات کی تلاش کے لیے امریکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے اس صوبے میں امن بحال کرنے میں امریکی دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔ بلوچستان میں امن و امان سی پیک کے فروغ کے لیے بھی اہم ہے۔ اس منصوبہ کے ذریعے اس وقت پاکستان کو ابھی تک قابل بھروسا سرمایہ کاری حاصل ہو رہی ہے۔ سی پیک کے بارے میں امریکہ کو تحفظات رہے ہیں لیکن اگر دونوں ملکوں میں رابطے بڑھتے ہیں اور وہ معاملات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کریں تو امریکی تحفظات دور کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو امریکہ کے ساتھ پیش رفت کی وجہ سے خارجہ محاذ پر اہم کامیابی ملی ہے تاہم یہ کامیابی اسی وقت سود مند ہو سکے گی اگر ملک کے اندر سیاسی بے چینی دور کرنے اور قومی اتفاق رائے کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس کام کیا جائے گا۔ شہباز شریف حکومت کو تحریک انصاف کے علاوہ بلوچستان کے ناراض سیاسی عناصر کے ساتھ معاملات طے کرنے میں چابکدستی و مستعدی سے کام لینا ہو گا۔


