انگریزی کا انفیکشن


زبان کوئی بھی ہو ہر شخص کے لئے مقدم ہوتی ہے کیونکہ وہ اس زبان کو اپنی مادری زبان کا درجہ دیتا ہے جو بحیثیت قوم اس کے ملک میں رائج ہوتی ہے۔ انسان کو اپنی زبان اتنی ہی محترم ہونی چاہئے جتنی کہ اس کی اپنی ماں۔

بھلا ماں کی تبدیلی کا بھی کوئی مطالبہ کرتا ہے؟ کسی سے سنا آپ نے میری ماں تبدیل کردو؟ میرا گزارا ممکن نہیں، لوگ ملک چھوڑ دیتے ہیں، تہذیب و ثقافت دوسری اپنا سکتے ہیں لیکن زبان سے رشتہ نہیں توڑا جاسکتا۔ کسی دوسرے ملک میں جاکر آپ یہ نہیں کہہ سکتے، بھائی میں تو اردو بھول گیا پردیس آکر، اب تو مجھے صرف انگریزی آتی ہے۔

اپنی زبان سے آپ لاتعلقی تو ظاہر کر سکتے ہیں لیکن کسی اور زبان کا استعمال کرکے ،اگر انگریزی آپ اچھی بول لیتے ہیں تو یہ تو نہیں کہہ سکتے ،چونکہ میں نے انگریزی سیکھ لی ہے لہٰذا میں اردو بھول گیاہوں۔ یہ رویہ نہ تو اپنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے دل بہلایا جاسکتا ہے یا یوں سمجھ لیجئے کہ اردوزبان سے اپنا دامن بچایا تو جاسکتا ہے چھڑایا نہیں جاسکتا۔

ہم یہ کہتے تو نہیں مگر حال ہمارا بڑا بد حال ہے۔ زبان کا غلط استعمال اتنا تکلیف نہیں دیتا، جتنا ہمارا اس سے ناروا سلوک تکلیف دیتا ہے۔ آپ اگر کوئی لفظ یا جملہ غلط گرامر کے استعمال کے ساتھ ادا کرتے ہیں یا آپ کو الفاظ کے انتخاب کا علم نہیں تو آپ کا مذاق اڑایا جاسکتا ہے، آپ کی بات کا برا مانا جاسکتا ہے لیکن اگر آپ بے وجہ اور بغیر جواز کے انگریزی کا استعمال کسی ایسی جگہ کریں جہاں صرف آپ ہی اس زبان کو سمجھنے والے ہوں اور سننے والے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔

اس طرح آپ نہ صرف اپنی زبان کی تذلیل کرتے ہیں بلکہ دوسرے افراد کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ تمھیں انگریزی نہیں آتی ، تم کتنے جاہل اور گنوار ہو۔
زبان واحد ذریعہ ہوتا ہے کسی قوم کی تہذیب و ثقافت سے آشنا ہونے کا۔ ہم سب سے پہلے مسلمان اور پھر پاکستانی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کا بھی بخوبی علم ہے کہ اردو ہماری قومی زبان ہے، بات جو کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ زبان کی اہمیت کیا ہے اور اس کا کب ،کہاں اور کیسے استعمال کیا جانا چاہئے؟

دیکھئے اپنی تہذیب و ثقافت اور ورثے کی حفاظت ہر اس فرد پر لازم و ملزوم ہے جس نے ایک آزاد ،خودمختار ریاست کے حصول کو خون کے تحفے سے دوام بخشا ہو اور وہ اپنے آباو¿اجداد کی دی گئی قربانیوں کا ثمر ایک آزاد ملک میں زندگی بسر کرکے حاصل کررہا ہے۔

اپنی زبان کو عزت دیجئے، فخر کیجئے، اگر آپ انگریزی اچھی نہیں بول پاتے تو کوئی دکھ کی بات نہیں وہ آپ کی زبان ہے نہیں، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میری زبان نہیں ہے ،ابھی نہیں آتی تو بعد میں آجائے گی، لیکن اگر آپ اردو نہیں بول پاتے ،نہ بولنا چاہتے ہیں، نہ سیکھنا چاہتے ہیں، نہ اس زبان کو عزت دیتے ہیں ،نہ کروانا چاہتے تو یقینا آپ مجرم ہیں۔

آپ کوئی جواز نہیں بنا سکتے، یہ نہیں کہہ سکتے کہ میری زبان نہیں ہے اس لئے نہ میں بولنا چاہتا ہوں ،نہ سیکھنا چاہتا ہوں اور نہ اس کی عزت کرنا جانتا ہوں، نہ کروانا چاہتا ہوں۔

ہم اردو روز اول سے پڑھ رہے ہیں، ایسی ہی کچھ صورتحال انگریزی کی ہے، مگر ہم سے چند ہی افراد ایسے ہوں گے جو انگریزی اور اردو دونوں اچھی بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔باقی تو سب کھیل تماشا کررہے ہوتے ہیں۔ مجھے اچھی انگریزی نہیں آتی اور مجھے اس بات سے فرق بھی نہیں پڑتا کیونکہ وہ میری زبان ہے ہی نہیں ، ہاں البتہ میں اردو ضرور اچھی بولتی ہوں اور لکھنے میں کوشاں ہوں کیونکہ مجھے اردو سے محبت ہے، بہت شدید محبت ہے، میں چاہتی ہوں کہ جب اردو بولی جائے تو ایسی کہ صرف اردو ہی سنی جائے۔مگر افسوس اس بات کا ہے کہ نہ ہمیں انگریزی آئی، نہ ہی اردو، پڑھے جارہے ہیں، لکھے جارہے ہیں مگر اردو زبان اپنانا نہیں چاہتے، استعمال کرتے وقت ہماری شرم آڑے آجاتی ہے۔

روز مرہ میں جو اردو زبان استعمال کی جارہی ہوتی ہے اس کی بھی کئی اقسام ہیں۔ بنیادی طور پر زبان دو طرح کی ہوتی ہے۔

(فارمل لینگوئج) تکلفانہ زبان۔

بے تکلفانہ زبان(انفارمل لینگویج)

ہم ملی جلی زبان کا استعمال کرتے ہیں موقع کی مناسبت کو مد نظر رکھتے ہوئے یعنی اس میں تکلفانہ اور بے تکلفانہ زبان دونوں آجاتی ہیں۔آفس میں تکلفانہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے جب کہ گھر میں دوست احباب کے ساتھ ہم بے تکلفانہ زبان کا استعمال کرتے ہیں۔
انگریزی بھی سیکھئے،بولئے بھی لیکن اردو نے کیا گناہ کبیرہ کردیا؟ وہ بولتے ہوئے کیوں شرم آجاتی ہے، ہر وقت بے جا انگریزی کا استعمال آخر کیوں؟ بھائی عزت زبان نہیں دیا کرتی، انداز دیا کرتا ہیں، کردار دیا کرتا ہے، علم دیا کرتا ہے، جستجو دیا کرتی ہے، فکر دیا کرتی ہے۔ارے بھائی زبان میں چھید نہیں ہوں گے اردو بولنے سے۔ انگریزی ضرور پڑھیں، ضرور سیکھیں مگر یہ انگریزی اردو پر مقدم کیوں جان رہے ہیں آپ؟

یہ جو ’آؤ انگریزی بولیں ‘کی تحریک ہے یہ صرف انفیکشن ہے آپ کے دماغ کا۔ آپ کو ایک عدد اردو کے انجکشن کی ضرورت ہے تاکہ آپ کی زبان صحیح کام کرسکے۔

کوئی تیر نہیں مارلیا آپ نے اگر انگریزی سیکھ لی، البتہ آپ نے اردو نہ بول کر خود کو گولی ضرور مارلی مارے محبت کے!

Facebook Comments HS