‏ہیں اپنے بھی خفا مجھ سے بیگانے بھی ناخوش


گزشتہ روز وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی رپورٹ جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ ایک ہفتے میں 10 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 31 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

حکومت نے مہنگائی کی شرح میں مسلسل دوسرے ہفتے کمی کا دعویٰ کیا ہے جب کہ اسی دورانیے میں 10 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہو گئیں، ٹماٹر، و یجی ٹیبل گھی، دال ماش، ایل پی جی، گڑ مہنگا ہو گیا۔ پیاز، لہسن، انڈوں سمیت 10 اشیاء سستی ہوئیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مسلسل دوسرے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار 0.15 فی صد کم ہوئی ہے جب کہ ملک میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح منفی 1.26 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

ایک ہفتے میں پرنٹڈ لان کی قیمت میں 0.62 فیصد، ایل پی جی کی قیمتوں میں 1.17 فیصد، لانگ کلاتھ کی قیمتوں میں 0.29 فیصد، گڑ کی قیمتوں میں 0.51 فیصد، ٹماٹر کی قیمتوں میں 9.62 فیصد، بیف کی قیمتوں میں 0.30 فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح و یجی ٹیبل گھی کی قیمتوں میں 0.10 فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں 0.56 فیصد اور دال مسور کی قیمتوں میں 0.20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اب ہم جائزہ لیتے ہیں کچھ ایسی خبروں کا جو رواں ہفتے موضوع بحث رہیں۔

پہلی خبر:۔

وفاقی وزیروں، مملکتی وزیروں، مشیروں فلاں ڈھیم کی تنخواہ 1 لاکھ 80 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار کر دی گئی۔

دوسری خبر:۔

حکومت کی طرف سے تنخواہ دار طبقے کو فوری ریلیف دینے سے معذرت، ملکی معیشت فوری ریلیف کی اجازت نہیں دے رہی۔

تیسری خبر:۔

بجلی کی قیمت میں 1 روپیہ 71 پیسے کمی کی سمری ارسال

پس منظر: عالمی منڈی میں تیل کی قیمت خاصی کم ہو چکی ہے پچھلے کئی پندھواڑے میں تیل کی قیمت کم نہیں کی گئی اس بارے کہا گیا کہ اس کے بدلے بجلی کی قیمتوں اتنی کمی کی جائے گی کہ لوگ گرانی میں واضح کمی محسوس کریں گے۔

لیکن اپ نے گرانی کی واضح کمی محسوس نہیں کروائی بلکہ واضح طور پہ محسوس کروایا کہ مملکت خداداد میں عوام الناس ”حشرات الارض“ اور آپ کی اشرافیہ ”اشرف المخلوقات“ ہیں۔

پچھلے نومبر میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا ہاؤس رینٹ 65 ہزار سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا جبکہ جوڈیشل الاؤنس 3 لاکھ 42 ہزار سے بڑھا کر 10 لاکھ 90 ہزار کر دیا گیا تھا۔

کیا اپ نے لوگوں کو اندھا بہرہ اور گونگا سمجھا ہے؟ مملکت پہ ایک بدترین وقت گزر رہا ہے کچھ بدبخت اس ملک کو ہی نہیں مانتے ایک اچھی خاصی تعداد آپ کو نہیں مانتی جو آپ کو سپورٹ کرتے ہیں یا جو کسی حد تک مانتے ہیں کیا اس تناظر میں وہ اپ کی حمایت جاری رکھیں گے؟

محترم وزیراعظم صاحب اپ ایک جہاندیدہ بندے ہیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ۔ حب الوطنی پارٹی وفاداری سے پہلے بھوکے پیٹ کی روٹی ہے۔

ایک طرف ایسے لوگ جن کے لئے ایک ہزار روپے کی حیثیت اتنی ہو کہ اسے حاصل کرنے کے لئے روزے کی حالت میں بھی میلوں دور تک پہنچ جائیں دوسری طرف اپ ایسے ہی لوگوں کے سامنے ارب پتیوں بلکہ کھرب پتیوں لارڈز، نوابوں، سرداروں خانوں، چوہدریوں زمینداروں کارخانے داروں زمینی خداؤں کی تنخواہیں 1 لاکھ 80 ہزار سے سوا پانچ لاکھ، عادلوں کی تنخواہیں 3 لاکھ سے گیارہ لاکھ اور صرف گھر کا کرایہ 65 ہزار سے ساڑھے تین لاکھ کرتے ہیں۔

ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان مسندوں پہ براجمان اشرافیہ کی مراعات تنخواہ سے 4 گنا اور اختیارات تنخواہ کے 100 گنا سے زائد ہوتے ہیں۔

اپ یہ بھی جانتے ہیں کہ درج بالا اشرافیہ کے کسی فرد کے ہاتھ میں بندھی گھڑی یا اس کی بیگم کے گلے میں پڑا ہار (جو ان کے لئے عام قسم کا ہو) اتنی قیمت کا ہوتا ہے کہ اس سے 100 متوسط خاندان پورے سال اپنا گھر چلا سکتے ہیں پھر بھی اپ ان کی تنخواہوں میں 188 فیصد اضافہ کرتے ہیں اور عام پاکستانی کے لئے بجلی کی ہوش ربا قیمتوں میں صرف پونے دو روپے کمی کی سمری ارسال کرتے ہیں جو کہ منظوری میں مزید کم ہو جائے گی؟

اوپر صرف بجلی اور پٹرول کی بات کی گئی ہے بجلی ان کے گھروں ڈیروں اوطاقوں میں مکمل فری ہوتی ہے اس کا بل وہ کبھی نہیں دیتے جبکہ پٹرول ان کے لئے ان کی بیگمات کے لئے ان کی اولادوں کے لئے حتیٰ کہ قریبی عزیزوں کے لئے بھی فری ہوتا ہے۔

خدا کو حاضر ناظر جان کر بتائیے کیا ان اقدامات پہ ہم اپنی پارٹی یا حکومت کی واہ واہ کر سکتے ہیں؟ محترم ایسے ڈھکوسلے کسی کلٹ کے اندھے پیروکار تو کر سکتے ہیں اپنے کلٹ کے گوبر کو حلوہ کہہ سکتے ہیں لیکن ہم جیسے کسی جمہوری پارٹی یا لیڈر کے ووٹر سپورٹر گوبر کو حلوہ کبھی نہیں کہہ سکتے۔

براہ کرم لوگوں کے لئے مہنگائی میں کمی کر دیں اشیائے ضرورت عام آدمی کی پہنچ میں کر دیں، بجلی گیس کے بلز کم از کم تنخواہ اور کم از کم آمدنی والے کی پہنچ میں کر دیں صحت و تعلیم عام آدمی کی دسترس میں کر دیں، بیروزگاری ختم کر دیں، ملک میں امن کر دیں، پھر ہر رکن اسمبلی کی تنخواہ کم از کم 10 کروڑ کر دیں ہر جج، ہر بیوروکریٹ کی تنخواہ 20 کروڑ کر دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

Facebook Comments HS