اردو بولنے والے اور بلوچ قومی سوال
اکیسویں صدی بھی ماضی قریب کی تاریخ کی طرح انتشار سے دوچار ہے اور اس صدی کو بھی بحران در بحران اور مزاحمتی تحریکوں سے عبارت کیا جائے گا۔ پوری دنیا میں اور بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک میں عالمی سامراج اور مقامی ”نیم سامراجی“ قوتوں کے خلاف مزاحمتی عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ کبھی یہ مزاحمت ”عرب بہار“ کی صورت میں ابھری تو کبھی مدھم ہوتی محسوس ہوئی۔ تاہم یہ طوفان تھمتا نہیں لیکن اس میں توقف آتا رہا ہے، جو کچھ وقت کے لیے اس مبالغہ میں ڈالتا رہا ہے کہ طوفان ٹل گیا ہے جبکہ طوفان تو سمندر کی تہوں میں مزید قوت یکجا کر رہا ہوتا تھا اور برپا ہو نے کی تاک میں رہا ہے۔ ایسے طوفان جابجا کئی بار برپا ہوتے رہے ہیں اور آج بھی جنوب ایشیائی خطے کی ”بحرانی کیفیت“ کی حامل ریاست (یہاں بحرانی کیفیت سے میری مراد ridden crisis سے ہے ) پاکستان اس طرز کے طوفانوں کی زد میں ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے لے کر سماجی پراگندہ حالی تک اور دیوالیہ ہوتی ہوئی معیشت جیسی پیچیدگیاں اس ملک کی ”بحرانیت“ کا ایک تعارف ہیں۔ پاکستان برائے نام ہی سہی پر ایک وفاقی دستوری جمہوریت ہے جو چار صوبوں پر مشتمل ہے یعنی سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختون خوا جبکہ دیگر علاقہ جات بھی پاکستان سے ملحق ہیں جن میں گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر و دیگر شامل ہیں۔
زیر نظر مضمون میں صرف دو ہی صوبوں اور یہاں کی عوام کو موضوع بحث بنایا گیا ہے یعنی بلوچستان اور سندھ۔ یاد رہے کہ سندھ تو جمہوری طریق پر وفاقِ پاکستان کا حصہ بنا تھا یعنی سائیں جی ایم سید نے سندھ اسمبلی میں قراردادِ پاکستان کو منظور کروایا تھا اور اس کے نتیجے میں سندھ پاکستان کا حصہ بنا تھا جبکہ بلوچستان کا معاملہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ تاریخی شواہد دستیاب ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد 1948 میں بلوچستان بالخصوص ”قلات ریاست“ کو پاکستان میں شامل کرنے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جبکہ ”برٹش بلوچستان“ یعنی کوئٹہ سمیت دیگر پشتون بیلٹ کے علاقے پاکستان کے حصے میں آئے تھے۔
قلات ریاست کے خلاف طاقت کا یہ استعمال اب ایک تاریخی پس منظر میں دیکھا جاتا ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ مخالف جذبات نمایاں ہیں اور اس کی ابتداء سن 1948 سے ہوتی ہے۔ بہر حال زیر نظر مضمون میں بٹوارے کے وقت ہندوستان سے آئے ”مہاجرین“ ، بلوچستان کے بدلتے حالات اور بلوچ قومی سوال پر بحث کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بلاشبہ پاکستان میں مختلف النوع اقوام آباد ہیں جن میں اکثریتی پنجابی ہیں جو ملک کا تقریباً 38.8 فیصد بنتے ہیں۔ اسی کے ساتھ پختون 18.2 فیصد، سندھی 14.6 فیصد، سرائیکی 12.2 فیصد، اردو بولنے والے (مہاجر) 7.1 فیصد اور بلوچ 3 فیصد ہیں جبکہ دیگر چھوٹی اقوام بھی مجموعی طور پر 6.1 فیصد ہیں۔ پنجابی ناصرف آبادی کے لحاظ سے زیادہ ہیں بلکہ وہ سیاسی و اقتصادی طور پر بھی زیادہ مستحکم ہیں۔ ریاست کی عسکری و سول افسر شاہی میں ان کی حیثیت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے، اس کے علاوہ پختون بھی باقی آبادیوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہیں۔
سن 1947 ء میں تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کو ”مہاجر“ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد کے ابتدائی برسوں میں ریاستی بیوروکریسی اور سیاسی ڈھانچے میں اردو بولنے والوں کو کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری مراکز میں ان کی آبادی اور تعلیمی برتری کے باعث نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ البتہ 70 ء کی دہائی میں پیپلز پارٹی حکومت کی کوٹہ سسٹم اور مقامی قومیتوں کو ترجیح دینے کی پالیسیوں کے باعث مہاجر خود کو سیاسی اور معاشی طور پر محروم محسوس کرنے لگے تھے اور اس ہی احساس محرومی سے 80 ء کی دہائی میں مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا قیام عمل میں ہوا، جس کی قیادت عظیم احمد طارق، عمران فاروق اور الطاف حسین کر رہے تھے۔
ایم کیو ایم نے ”مہاجر قومیت“ کا بیانیہ اپنایا اور شہری علاقوں کے مفادات کے تحفظ اور خودمختاری کا مطالبہ کیا۔ (یہاں یاد رہے کہ مہاجر قومیت مخصوص سیاسی و اقتصادی پس منظر کی پیدا وار ہے ) ۔ سن 1992 ء میں جب الطاف حسین نے ایم کیو ایم کا رخ قومی سیاسی دھارے کی طرف موڑا اور مہاجر سے متحدہ قومی موومنٹ بنی تو آفاق احمد نے مہاجر شناخت کو بحال رکھتے ہوئے مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کی بنیاد رکھی۔ الطاف حسین اور آفاق احمد کے اس سیاسی اختلاف کی وجہ سے اردو بولنے والوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کو شدید نقصان پہنچا اور مجموعی طور پر قوم اس ہی بحرانیت سے جوجھ رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے قیام کے بعد کے آئندہ برسوں میں ایم کیو ایم پر تشدد اور جرائم کے الزامات لگے جس کے بعد فوجی آپریشن، ریاستی کریک ڈاؤن، اندرونی تقسیم، اور سیاسی اثر و رسوخ میں کمی واقع ہوئی۔ المیہ یہ ہے کہ اس سب کے باوجود اردو بولنے والوں کی مشکلات جیسے منصفانہ نمائندگی، شہری حقوق کا تحفظ اور ثقافتی شناخت کی قبولیت آج بھی بدستور قائم ہیں۔
اب بلوچ قومی سوال کی طرف آتے ہیں۔ یہ ایک مختلف نوعیت کا مسئلہ ہے جس کا محور صوبائی خودمختاری اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے مطالبات ہیں۔ سن 1948 ء میں ریاست قلات کے ”الحاق“ کے بعد پہلی بلوچ مزاحمت شروع ہوئی اور بعد ازاں 1958، 1973 اور 2004 سے جاری حالیہ تحریک سمیت کئی مزاحمتیں سامنے آ چکی ہیں۔ بلاشبہ بلوچ قوم پرستوں کے خدشات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں جن میں سے اہم ترین یہ ہیں کہ صوبے کے قدرتی وسائل کو مرکز استعمال کرتا ہے جبکہ بلوچستان ترقی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ گیس، معدنیات اور دیگر قیمتی وسائل کے باوجود، بلوچستان ملک کا پسماندہ ترین خطہ ہے۔ بلوچستان کی ”قومی تحریک“ سیاسی اور عسکریت پسندی پر مشتمل ہے، سیاسی تحریک خودمختاری کی مانگ کرتی ہے تو عسکریت پسند آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان میں آپریشنز کیے جا رہے ہیں جبکہ بلوچ عوام کو مسنگ پرسنز جیسے مسائل کا سامنا بھی ہے، اسی طرح ترقیاتی منصوبوں جیسے سی پیک (CPEC) پربھی یہ لوگ اپنے تحفظات رکھتے ہیں۔ اس طرح کے مسائل میں بلوچ قوم اپنے ہی صوبے میں خود کو اقلیت میں تبدیل ہوتا ہوا محسوس کرتی ہے۔
بہر کیف، اردو بولنے والوں اور بلوچ دونوں کے مسائل مختلف پس منظر سے جنم لیتے ہیں لیکن ان کی بنیاد قومی شناخت، انصاف اور نمائندگی پر مشتمل ہے۔ اردو بولنے والوں کا ”قومی مسئلہ“ زیادہ تر شہری سیاسی ڈھانچے اور وفاق میں مناسب نمائندگی کا ہے جبکہ بلوچوں کا مسئلہ وسائل پر پہلے حق سے جڑا ہے۔ اس ضمن میں ریاست کو اپنے رویہ میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا نہ ہونے سے قومی تضاد اور بد اعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اردو بولنے والے اور بلوچ قوم دونوں ہی سرمایہ داریت کے نتائج بھگت رہے ہیں یعنی قومی جبر اور معاشی استحصال نا صرف بلوچستان میں ہو رہا ہے بلکہ کراچی اور حیدر آباد جیسے شہری مراکز بھی جبر اور استحصال کا شکار ہیں۔
ان مسائل کے حل کے لئے ریاست کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے جو ریاست کے نو آبادیاتی نظم کو جمہوری تنظیم میں بدل سکیں۔ محض آئینی اصلاحات ہی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی تضاد اور جبر کو ختم کرنے کے لیے ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ جو ناصرف بلوچستان کے عوام اور اردو بولنے والوں کے مسائل کا حل ہو گا بلکہ دریائے سندھ پر کینالز کی صورت میں جو پانی کے حوالے سے نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے اس کا بھی سد باب کرے گا۔ اسی طرح بلوچستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے جاگیر داری، وڈیرہ شاہی اور سرداری نظام کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے جس کے بغیر قومی تضاد اور جبر میں کوئی کمی ممکن نہیں ہے۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ زیر نظر مضمون ’موضوع‘ کا ایک سرسری مطالعہ ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اردو بولنے والوں اور بلوچوں کے درمیان قومی سطح کا ”مکالمہ“ ممکن بنایا جا سکے۔ اس مضمون میں موضوع کے بعض پہلوؤں کو تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا اور بعض کو تو سرے سے ہی نہیں چھیڑا گیا ہے۔ یہ مکالمے کی ابتداء ہے جو یقیناً مزید بحث و تحقیق کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔

