صفر کی دریافت

نویں صدی بغداد میں مذہب اور عقیدے کے موضوع پر مباحث ہو رہی تھیں۔ عباسی دور خلافت میں امام ابو حنیفہ کی مبنی بر عقل فقہ کو ایک قانون کا درجہ حاصل ہوا تو امام احمد بن حنبل نے خلیفہ کے مذہب میں دخل اندازی کے شخصی اختیارات پر سوالات اٹھا کر اجتماعی شعور یا اجماع کی ضرورت پر زور دیا۔ یونانی فلسفہ سے متاثر ہوئے علماء معتزلہ کے خیالات اور نظریات کی پرچار کر رہے تھے جن کو خود خلیفہ کی ذاتی حمایت بھی حاصل تھی۔
عباسی خلیفہ ہارون الرشید کا بیٹا مامون الرشید اپنے بھائی امین کے قتل کے بعد ہی خلافت پر قبضہ کر سکا تھا وگرنہ وہ اپنے باپ کی طرف سے کبھی ولی عہد قرار نہیں پایا تھا۔ بھائی کے قتل اور زبردستی خلافت پر تسلط کے باوجود مامون الرشید دیگر اموی و عباسی خلفاء کے برعکس علم و دانش کا قدردان اور بذات خود علم کا متلاشی شخص تھا۔ مامون نے دیگر زبانوں میں لکھی کتابوں کے تراجم پر زر کثیر خرچ کیا اور ان سے استفادہ کیا۔
بغداد میں تراجم کے ذریعے مختلف زبانوں سے علوم منتقل ہونے کے بعد ہونے والی بحث نے معتزلہ، قدریہ، جبریہ جیسے گروہ ہی پیدا نہیں کیے تھے بلکہ یہاں علم الکلام، فلسفہ اور تصوف کے مسابقت کی ایک فضاء بھی پیدا ہوئی تھی۔ بذات خود حافظ قرآن ہونے کے علاوہ مامون کی علمی تربیت یزیدیوں اور برمکیوں کے ہاتھوں ہونے کی وجہ سے وہ ایک وسیع النظر شخص بھی تھا۔ یہی وہ وسیع النظری تھی کہ مامون نے دیگر زبانوں میں لکھے علوم بشمول یونانی فلسفے اور منطق پر لکھی کتابوں کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء کے ذریعے عربی زبان میں تراجم کروا دیے تھے۔
خلیفہ مامون الرشید علم الکلام میں مہارت اور یونانی فلسفہ سے روشناس ہونے کے بعد اس سوال کے جواب کا متلاشی تھا کہ حقیقت تک پہنچنے کے لئے الہام و تیقن اور منطق و تیعقل میں کون سا راستہ اختیار کیا جائے۔ کہتے ہیں اس کشمکش میں مامون کو ایک رات خواب میں ارسطو نے آ کر نصیحت کی کہ وہ تیعقل اور تیقن (عقل اور یقین) میں توازن پیدا کرے، نئے خیالات اور تصورات کی قدر کرے چاہے کسی بھی طرف سے آئے ہوں کیونکہ خیالات اور تصورات کا کوئی مذہب، قومیت یا علاقہ نہیں ہوتا ہے۔ اچھے اذہان اچھے تصورات جنم دیتے ہیں اس لئے وہ ہمیشہ اچھے اذہان کی قدر کرے۔ نئے تصورات پر پابندی لگانا اور روکنا خدائی کو روکنے کے مترادف ہے۔
مامون الرشید نے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے ایک تحقیقی مرکز ’بیت الحکمۃ‘ کا قیام عمل میں لایا۔ اس مرکز میں ہر رنگ، نسل اور مذہب کے جن اہل علم و دانش کو پذیرائی ملی ان میں سے ایک خوارزم سے تعلق رکھنے والا محمد موسیٰ بھی تھا جو بعد میں الخوارزمی کے نام سے مشہور ہوا۔ ’
الخوارزمی کو فاصلوں، زاویوں اور اعداد میں دلچسپی تھی۔ وہ اسی شوق کی تکمیل کی خاطر وہ عازم سفر ہوا۔ بغداد میں لوگ اس کے پرانے مذہب کی وجہ سے مجوسی اور اعداد و شمار میں محیرالعقل جوابات اور نتائج کی وجہ سے اسے جادو گر بھی کہتے تھے۔
اس وقت چھوٹے کاروبار اور تجارت وغیرہ کے حساب کتاب رکھنے کے لئے بغداد میں سادہ طریقے رائج تھے جن میں انگلیوں پر گننا اور منہا کرنے کا قدیم طریقہ تو تھا ہی اس کے ساتھ ایک عربی طریقہ بھی موجود تو تھا مگر مستعمل نہیں تھا۔ ایک ہندوستانی طریقہ حساب بھی رائج تھا جس میں ایک سے نو تک اعداد کے لئے علامتیں بنائی گئی تھیں جن کو ہندسہ کہا جاتا تھا مگر اس ہندوستانی علم حساب پر کسی کو بھی دسترس حاصل نہیں تھی۔
الخوارزمی کو یہ تو معلوم ہوا تھا کہ علم حساب میں ہندوستان میں بہت کام ہو چکا ہے مگر اس تک کسی کی رسائی نہیں تھی۔ الخوارزمی کو بغداد کی لائبریری میں دو سو سال پہلے لکھی ایک کتاب بھی ملی جس کا سنسکرت نام برہما سپوتا سدھانتا بمعنی ’آغاز کائنات‘ تھا۔ الخوارزمی نے ہندوستان میں ہوئے کام کو اپنی سنسکرت پر محدود دسترس کے باوجود ’سندھ ہند‘ کے نام سے شائع بھی کیا۔
الخوارزمی کو ہندوستان کے مخطوطات میں برہما گپتا کا دیا ایک کالا نقطہ ملا جو کسی بھی عدد کے نہ ہونے یا عدم کی علامت کے طور پر دسواں ہندسہ بتایا گیا تھا۔ ابتدا میں اس نقطہ کے بارے میں الخوارزمی کا خیال تھا کہ جب کسی چیز کا وجود ہی نہیں تو گنتی میں کیسے آ سکتا ہے۔ برہما گپتا نے اس نقطے کو ’شونے‘ کہا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس نقطہ کو ایک اور نقطہ پر تقسیم کرنے سے جواب نقطہ ہی آئے گا۔ الخوارزمی کو اس پر یقین نہ تھا۔
برہما گپتا کے شونے پر یقین کے جواز کے لئے عقلی دلیل کی ضرورت تھی۔ الخوارزمی نے ترازو کے دو پلڑوں میں وزن کی طرح ہندسوں کی ترتیب میں جبری تبدیلی سے ان کی قدر میں اضافہ اور کمی کر کے مقابلہ کروانے اور برابر کرنے کے مشق کے قاعدے کو ’الجبر و المقابلہ‘ کا نام دیا جس پر جدید علم الجبرا کی بنیاد پڑ گئی۔
ہندسوں کی ترتیب میں جبری تبدیلی کے دوران اس نقطے کے کرشمے پر جب غور کیا تو الخوارزمی کو یقین ہی نہیں آیا کہ جس کو عدم سمجھ کر اس نے مسترد کر دیا تھا وہ ہندسوں کی طاقت اور گنتی کے دائرے کو لامحدود کر دیتا تھا۔ جتنی بار اس نقطے کی مدد سے الخوارزمی نے اعداد و شمار نکالے اس کی حیرت مزید بڑھتی گئی۔
ایک رات اپنے مکان کی چھت پر بیٹھے اس کالے نقطے کی گتھی سلجھاتے ہوئے الخوارزمی کو معلوم ہوا کہ نہ صرف بہ ظاہر وقعت نہ رکھنے ولا یہ نقطہ گنتی کی انتہا ہے بلکہ گنتی کی ابتداء بھی اس نقطے سے ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اس پر منکشف ہوا کہ وجود کی ابتداء بھی عدم سے ہوتی ہے۔ اس انکشاف پر ہمیشہ خاموش رہنے والا الخوارزمی زور زور سے قہقہے لگا کر پاگلوں کی طرح ناچنے لگا۔ ہمیشہ اپنی سوچوں میں گم سم خاموش رہنے والے اس آدمی نے وہ راز پا لیا تھا جس کی تلاش صدیوں سے جاری تھی۔
الخوارزمی نے ہندی کالے نقطے کو گول دائرہ کی شکل دے کر عربی نام صفر دیا۔ یہ صفر وجود نہ رکھنے کے باوجود ایک حقیقی عدد کے طور پر نہ صرف فلسفے اور منطق کے سوالوں کا جواب ہے بلکہ علم الکلام کے عدم سے تخلیق کائنات کو جواز بھی فراہم کرتا ہے۔ تصوف کے نظریہ وحدت الوجود اور بدھ مت کے نظریہ سنیاٹا (سناٹا) کا محور بھی یہی صفر ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی علماء، فلسفیوں اور صوفیوں کے لئے یہی ایک نکتہ ہی کافی تھا۔
ہندوستان میں برہما گپتا کے ہاں پیدا ہوئے بغداد میں الخوارزمی کے ہاتھوں جوان ہوئے صفر نے مغرب کی رصدگاہوں میں زیرو بن کر دنیا کے سوچ کی دھارا ہی بدل ڈالی۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوتا ہے جب الخوارزمی کے نسخے یورپ کی درسگاہوں میں ’ایلگوریتمی‘ کے نام سے منسوب ایلگوریتھم بن جاتے ہیں۔ نیکولا ٹیسلا نے زیرو کی حقیقت کو جدید زمانے کی ٹیکنالوجی میں بدل ڈالی جب آواز اور برقی رو کی بغیر کسی وجودی واسطے کے ترسیل کی نوید دی۔
گزشتہ صدی میں خلاء پر تحقیق کے دوران یہ بھی دریافت ہوا کہ ستارے اور سیارے کائنات کا صرف پانچ فیصد ہیں جبکہ 24 فیصد ڈارک میٹر یا نظر نہ آنے والا تاریک مادہ ہے اور باقی 71 فیصد ایسی توانائی ہے جو صفر کی مانند دیکھی نہیں جا سکتی مگر تمام کہکشاؤں اور ستاروں کو حد سے نہایت تک جوڑے رکھتی ہے۔ یہ امکان اب بعید از قیاس نہیں رہا کہ انسان اب خلاء کے اس تاریک مادہ اور تو نائی کی دریافت کو تسخیر کائنات کے لئے ایک ذریعہ بنا دے گا۔ اس تیقن کے لئے تیعقل کے جواز کی تلاش ہے۔

