ایک عنصر، ایک کہانی: کائنات کی پہلی چنگاری
(پہلی قسط)
لوگ دھماکوں میں جان سے جاتے ہیں، اور میں؟
میں تو پیدا ہی دھماکے سے ہوئی!
اپنے گھرانے کا پہلا فرد۔ ننھی منی سی، ہلکی پھلکی، نہ رنگ، نہ خوشبو۔ انتہائی سادہ۔ مگر وہ کسی شاعر نے کہا ہے نا کہ
سادگی میں بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے
یہ مصرع مجھ پر سولہ آ نے صادر آ تا ہے۔
میں ستاروں کی روشنی ہوں اور زمین پر زندگی کی سانس، جانداروں کے جینیاتی مادے اور پروٹین کی بنیاد، کھادوں، ادویات اور دیگر ضروری کیمیکل کی جان۔ میرے بغیر سب کچھ ادھورا ہے۔
مگر یہ ہمیشہ سے یوں نہ تھا۔ شروع میں میں بالکل اکیلی تھی، نہ کوئی، بہن بھائی، نہ ماں باپ نہ کوئی رشتہ دار۔ غضب کی تنہائی تھی۔
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
مگر میں مری نہیں۔ بلکہ خود میں ضم ہو کر میں نے ایک نئے عنصر کو جنم دیا۔ اس ادغام یا فیوزن سے وہ روشنی پھوٹی کہ ساری کائنات جگمگا اٹھی۔ ستارے وجود میں آئے، سورج جیسا چراغ چمکا جو آج بھی زمین اور زمین زادوں کو روشنی اور حرارت پہنچا تا ہے۔
صدیوں تک لوگ میرے وجود سے نا آشنا رہے۔ میری دریافت کا سہرا ایک بھلے آدمی، کیونڈش کے سر ہے۔ اس نے جب ایک دھات کو تیزاب میں ڈالا تو چھپاک سے میں پیدا ہوئی۔ آتشیں مزاج اور ہر وقت بھڑکنے کو تیار۔
جلنے کو تو دیگر عناصر بھی جلتے ہیں۔ کلموہی کاربن جب جلتی ہے تو دھواں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گیسیں بنتی ہیں جو اس کرہ ارض کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ کر کے اسے جہنم میں بدلنے کے درپے ہیں۔
مگر میں جب جلتی ہوں تو ایسے کہ
لکڑی جلی جل کوئلہ بنی اور کوئلہ جلا بنیو راکھ
میں پاپن کچھ ایسی جلی نہ کوئلہ بنی نہ راکھ
میں بھڑکتی ہوں تو پانی بناتی ہوں۔ اسی لیے کیونڈش نے مجھے ”پانی بنانے والی“ کا نام دیا۔ میری اسی خاصیت کی وجہ سے مجھے مستقبل کا ایندھن کہا جاتا ہے۔ وجہ یہ کہ پانی کی شکل میں میرے ذرائع قابل تجدید ہیں۔ پانی بجلی کی تاب نہ لاتے ہوئے بکھر جاتا ہے اور اس پاشیدگی سے میں اور بہن آکسیجن پیدا ہوتی ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب میرے وجود کے الاؤ سے آپ کی گاڑیاں اور جہاز رواں دواں ہوں گے
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں تیزاب میں کہاں سے آئی؟ یہ سب صحبت کا اثر ہے۔ مثال کے طور پر بہن آکسیجن کے ساتھ میرا ملاپ دھماکے پر ختم ہوتا ہے اور یوں پانی وجود میں آ تا ہے۔ مگر ”نمک بنانے والیوں“ کے خاندان سے ملوں تو میں تیزاب میں تبدیل ہو جاتی ہوں۔ نائٹروجن مزاج کی بہت دھیمی ہے اور اس کے ساتھ مل کر کچھ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ مگر بھائی فولاد کی سفارش اور تھوڑا سے دباؤ کے زیر اثر وہ ملاپ پر راضی ہو ہی جاتی ہے۔ ہمارا یہ ملاپ کھاد کی صورت میں، اس کرہ ارض پر 8 ملین لوگوں کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے
مگر کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
عناصر کا کوئی بھی خاندان مجھے دلی طور پر اپنانے کے لیے تیار نہیں۔ ”الکلی دھاتیں“ مجھے غیر دھات سمجھ کر پرے دھکیل دیتی ہیں۔ ”نمک بنانے والیاں“ کہتی پھرتی ہیں کہ میں ”برقی منفیت“ میں ان سے کم تر ہوں۔ یہی باتیں سن کر دل کرتا ہے کہ ”دوری جدول“ سے باہر اپنا گھر بنا لوں۔
میں ہلکی اور سادہ سہی، مگر ہر جگہ موجود اور اس کائنات میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہوں۔ مجھ پر وہ شعر بھی صادق آ تا ہے کہ
میں تیرا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے
میں کون ہوں یہ آپ نے اب تک یقیناً بوجھ لیا ہو گا۔ نیچے کمنٹس میں میرا نام لکھیں تو میں مانوں۔


