کیا ”ایلفا میل“ کے روایتی تصور کو بدلنے کی ضرورت ہے؟


ہم جس سماج میں جیتے ہیں، وہاں ”مرد“ بننے کا ایک خاص معیار مقرر ہے۔ مرد کو مضبوط، خاموش، حاکم، اور جذبات سے پاک ہونا چاہیے۔ اگر وہ غصہ کرے تو ”مرد ہے“ ، اگر رونا چاہے تو کہا جاتا ہے ”کیا لڑکیوں کی طرح رو رہا ہے؟“  یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ”ایلفا میل“ ہونا ایک خواب بنا دیا گیا ہے۔ ایک زہریلا خواب۔

ایلفا میل دراصل جانوروں کے غول میں موجود ایک ”لیڈر“ نر سے ماخوذ ہے، جس کی طاقت اور قیادت تسلیم کی جاتی ہے۔ انسانی معاشروں میں اس تصور نے یہ شکل اختیار کی کہ ایک ”سچا مرد“ وہی ہے جو ہر وقت غالب ہو، ، غصہ، دباؤ اور رعب رکھتا ہو، جذبات نہ دکھائے، کسی سے کمزور نہ پڑے، ہمیشہ جیتے اور جھکے نہیں اور عورتوں کو ”قابو“ میں رکھے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے پدر شاہی نظام نے اس خواب کو ”مثالی مرد“ کا درجہ دے دیا ہے۔ مگر مثالی مرد کا یہ تصور سچ سے زیادہ ایک ڈرامہ ہے، ایک نقاب، جسے معاشرہ بچپن سے مردوں کے چہروں پر چڑھا دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہمارے سامنے ایلفا میل کی صورت میں ایک ایسا مرد موجود ہے جو اندر سے ٹوٹا ہوا ہے مگر چہرے پر ایک جعلی اعتماد کا ماسک چڑھائے دنیا سے لڑ رہا ہے۔

مگر اس لڑائی میں وہ نا صرف سماج خاص طور پر عورتوں کے لئے اذیت کا باعث بن رہا ہے بلکہ اپنا بھی نقصان کر رہا ہے۔ جیسا کہ جب ایلفا میل کے زیرِ اثر مرد گھر کا ”مالک“ بن کر باقی افراد پر حکم چلاتا ہے۔ بیوی کو کمتر سمجھتا ہے بچوں پر سختی کر کے ان کی تربیت کرتا ہے تو اس ماحول میں جذباتی قربت، ہم آہنگی اور مکالمہ ختم ہو جاتا ہے۔

اسی طرح اس تصور کے تحت خواتین کو محکوم سمجھا جاتا ہے۔ ان کے فیصلے، آزادی اور رائے کو دبایا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ رویہ گھریلو تشدد، زبانی بدسلوکی اور خواتین کے خوابوں کے قتل پر منتج ہوتا ہے۔ اور لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کے ذہنوں میں بھی بچپن سے اپنے والد اور بھائیوں کو بطور ”ایلفا میل“ دیکھ کر یہ تصور اتنا پختہ ہوا ہوتا ہے کہ وہ پھر بعض اوقات اپنے جیون ساتھی کے طور پر بھی ایسے ہی روایتی ایلفا میل کا انتخاب کرتی ہیں جس کا خمیازہ ان کو اپنی زندگی میں مختلف صورتوں میں بھگتنا پڑتا ہے۔

پھر، ایلفا میل بننے کا دباؤ مردوں کو جذبات چھپانے، مدد نہ مانگنے، اور مسلسل ”مضبوط“ نظر آنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس سے ڈپریشن، بے چینی اور خود پر بد اعتمادی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں، جن پر بات کرنا بھی شرمندگی سمجھی جاتی ہے۔

اسی طرح جب قیادت، فیصلہ سازی اور طاقت صرف ”ایلفا“ مردوں کے ہاتھ میں ہو تو معاشرہ تنوع، ہمدردی اور اجتماعی ترقی سے محروم رہتا ہے۔ حقیقی ترقی تبھی ممکن ہے جب ہر فرد کو برابری کے مواقع اور آواز ملے۔

تو یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایلفا میل کے روایتی تصور کو وقت کے ساتھ بدل دینا چاہیے تو اس سوال کا جواب یقیناً ہاں ہے کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایلفا مرد کے روایتی تصور سے آگے بڑھیں۔ ہمیں ایک نئے مرد کی ضرورت ہے۔ ایسا مرد جو جذباتی ہو، مگر کمزور نہیں، جذبات کا اظہار کرنے والا ہو، جذبات چھپانے والا نہیں، نرم گو ہو، مگر بزدل نہیں، جو غالب اور کنٹرول کرنے والا نہ ہو بلکہ ہم آہنگ اور ساتھ دینے والا ہو جو، عورت کو کمزور نہیں، بلکہ برابر سمجھ کر اس کا ساتھ دے، اس کا استحصال کرنے کی بجائے اسے عزت دے۔ جو انا پرست نہ ہو بلکہ خود بھی سیکھے، اور دوسروں کو بھی آگے بڑھنے دے۔

تو ایلفا میل کے اس روایتی تصور کو بدلنے کے لئے کچھ اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں جیسا کہ اسکول اور کالج کے نصاب میں تبدیلی لا کر صنفی امتیاز، صنفی مساوات، روایتی صنفی کرداروں سے چھٹکارا اور ایموشنل انٹیلی جنس جیسے موضوعات شامل کیے جائیں۔ یا گھر میں بیٹوں کی تربیت کے نئے زاویے تلاش کیے جائیں جیسا کہ ان کو صرف ”مضبوط“ نہیں، بلکہ ”رحمدل“ اور ”سمجھدار“ بننے کی تربیت دیا جانا۔

اسی طرح مردوں کے لیے ایسے پلیٹ فارمز اور محفوظ جگہیں ہونی چاہئیں جہاں مرد بغیر شرمندگی کے اپنے جذبات اور مسائل پر بات کر سکیں۔ پھر مین سٹریم میڈیا پر ڈراموں، فلموں، اشتہارات اور پروگراموں میں روایتی ایلفا میل کے تصور کی حوصلہ شکنی کر کے مرد کے نئے تصور کو مختلف کرداروں کی صورت میں اجاگر کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے پوڈ کاسٹ اور بلاگ کی صورت میں اس اہم معاملے کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی جائے۔

پاکستان جیسے پدرشاہی سماج میں ایلفا میل کا تصور نہ صرف مردوں کو بلکہ پورے معاشرے کو محدود کر رہا ہے۔ ایک صحت مند، مساوی اور باشعور معاشرہ تب ہی ممکن ہے جب ہم مردانگی کے اس پرانے سانچے کو توڑ کر ایک نئے، انسانی اور ہمدرد تصور کو اپنائیں۔

کیونکہ پدر شاہی سماج نے ہمیں ایک ایسا خواب بیچا ہے جو ہر کسی کے لیے نقصان دہ ہے۔ مرد کے لیے بھی، عورت کے لیے بھی، اور پورے معاشرے کے لیے بھی۔ اب وقت ہے کہ ہم اس خواب سے جاگیں، اور ایک ایسا مرد بنیں جو صرف طاقتور نہیں، بلکہ باشعور، ہمدرد اور انسان ہو۔

کیونکہ ایلفا بننے سے زیادہ ضروری ہے انسان بننا اور ایلفا بننا آسان ہے، انسان بننا ہنر ہے

Facebook Comments HS