پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط 11
ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ آج کیا کھانا پکایا جائے اور اگر موڈ نہ ہو تو گھر میں سب کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے کھانا باہر سے منگوا لیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی خوش نصیبی پر شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ دنیا میں لاکھوں کروڑوں لوگ ہیں جو غذائی قلت کی وجہ سے زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بیسوی صدی میں سات کروڑ پچاس لاکھ لوگ قحط کی وجہ سے لقمہ اجل بن گے۔
ہم شادی کی تقریبات میں جتنا کھانا ضائع کر دیتے ہیں اس سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنا پیٹ بھر سکتی ہے۔ اپنے بچوں کو جب ہم کے ایف سی مکڈونلڈ یا اس جیسی دوسری جگہوں پر کھانا کھلانے اور تفریح کے لئے لے جاتے ہیں تو ہمیں شیشے کی دیوار کے دوسری طرف کھڑا وہ بچہ کیسے نظر نہیں آتا جس کے پیٹ میں نہ دانہ ہوتا ہے نہ پاؤں میں جوتے اور جس کی آنکھیں خالی ہوتی ہیں نہ ان میں کوئی خواب ہوتا ہے نہ کوئی چمک بس ہوتی ہے تو ویرانی۔
بہت سے لوگ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے اس کی عمر سے تھوڑا بڑا بچہ کام پہ رکھ لیتے ہیں اور ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہوئے وہ اس بچہ کو یکسر بھول جاتے ہیں ایسا کیسے کر لیتے ہیں لوگ۔ مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ اگر ایک چیونٹی بھی ماری تو اس کا حساب دینا ہو گا۔ شاید ہمارے اندر سے احساس جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں ہر اگلا آدمی مذہب کا ٹھیکے دار بنا گھومتا ہے مگر کیا ہم کبھی اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں کیوں شرم نہیں آتی جب کوئی غریب بچہ بقرعید پر گوشت مانگنے آتا ہے اور ہم کہ دیتے ہیں کہ گوشت نہیں ہے جب کے ہمارے فریزر گوشت سے بھرے ہوتے ہیں۔ ہم جب بھی کراچی جاتے ہیں تو اکثر بہادر آباد پر چاٹ کھانے یا کون کھانے جاتے ہیں اور جب چھوٹے بچے بھیک مانگنے آتے ہیں تو ان سے نظریں ملاتے ہوئے شرم آتی ہے امی تو کئی دفعہ اپنے ہاتھ میں موجود چیز ان بچوں کو دے دیتی ہیں۔ کیا ہمیں کبھی ان بچوں میں اپنے بچے نظر نہیں آتے۔
بچے کچرے کے ڈھیر پہ سے کھانا چن کر کھانے پہ مجبور ہیں مگر لوگ ہیں کہ گھر میں کام کرنے والی ملازمہ کے بچے کو بھی نہیں پوچھتے۔ ہم جب بھی باہر کھانا کھانے جاتے ہیں سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ بنگل بھائی جو امی کے ڈرائیور ہیں ان کو کھانے کے پیسے دے دیے جائیں تاکہ وہ وقت پر کھانا کھا لیں۔ میں جب کراچی جاتی ہوں تو دوست احباب سے ملنے اور مختلف کاموں سے باہر جانا ہوتا ہے اور میں ہمیشہ کوشش کرتی ہوں کے سب سے پہلے بنگل بھائی کو کھانے کے پیسے دے دوں تاکہ ذہن سے نکل نہ جائے بعض اوقات امی فون کر کے کہتی ہیں کہ بنگل کو پیسے دے دیے اور میرا جواب ہوتا ہے کہ جی امی دے دیے یا مجھے یاد ہے میں دے دوں گی۔ اپنے گھر کام کرنے والے ملازمین کے کھانے کا خاص خیال رکھنا چاہیے ہم جب بھی کسی تقریب میں جاتے ہیں تو ڈرائیور کو کہہ دیتے ہیں کہ کھانے کے وقت اندر آ کر کھانا کھالیں۔ خدا کسی پہ کبھی برا وقت نہ لائے اور کسی کو بھی کبھی بھوکے پیٹ نہ سونا پڑے۔
ہماری خواہش اپنی جگہ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا میں جب کسی بھی جگہ ایک دم جو غزا کی ہنگامی مدد کی ضرورت پیش آتی ہے اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔ وہ بھی اس دور میں جب کہ بھوک اور غربت میں کمی آ رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وسائل پر ایک خاص طبقے کا کنٹرول ہے اور وہ وسائل عام آدمی تک پہنچنے نہیں دیے جا رہے۔ اکیسویں صدی میں قحط کی وجہ غزا کی قلت نہیں ہے۔ بلکہ مصنوعی طور پر آبادی کے ایک بڑے حصے کو غزا سے محروم دکھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں غذائیت کی کمی اور موت واقع ہو جاتی ہے۔ اکانومسٹ اور فلسفی امرتیا سین کا یہ ماننا ہے کہ قحط اس وقت پیدا ہوتا ہے جب غذا موجود ہو مگر کچھ مخصوص طبقوں تک نہ پہنچ سکے۔ اب جب کہ زیادہ وسائل موجود ہیں تو زیادہ بہتر طور پر کام ہونا چاہیے تاکہ جن کو ضرورت ہے ان تک مدد پہنچ سکے۔
پرما میں یہی چاہوں گی کہ تم اور فرجاد یہ خواب آنکھوں میں ضرور سجائے رکھو کہ ایک دن اس دنیا میں کوئی بچہ بھی بھوکا نہ سوئے اور اس کے لئے تم سے جو بن پڑے وہ کرو۔


