گریٹ امریکہ کا نعرہ کیا کچھ حاصل کر پائے گا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اپریل کو اپنی ٹیرف پالیسی میں کئی ممالک پر مزید ٹیرف کا اعلان کیا جس سے امریکی معیشت سمیت دنیا کی کئی معیشتوں کو فوری طور پر نقصان بھی پہنچ اور سرمایہ کاروں کے کھربوں ڈالرز ڈوب گئے۔ یہ اقدام اچانک تو نہیں تھا لیکن متوقع بھی نہیں تھا کیوں کئی ماہرین کا خیال تھا کہ اس اقدام کو ڈبلیو ٹی او میں چیلنج کیا جائے گا جہاں اسے نہیں مانا جائے گا اور بالآخر امریکی حکومت کو اسے واپس لینا پڑے گا سو ممکن ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کوئی درست مشورہ دینے والا مل جائے۔ لیکن ان اقدامات کے بعد امریکی صدر کی ہارڈ ڈپلومیسی اور اور جارحانہ اقدامات سے اب دنیا کو حقیقت پسندانہ ماحول میں آ کر اپنی بقا کی جنگ لڑ نا ہو گی۔
ایک جانب کچھ ریپبلکن سپورٹرز ہیں جو امریکی امیگریشن اور ٹیرف پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں اور دوسری جانب اس وقت اکثریتی امریکی شہری ہیں جن کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے جہاں عام شہریوں کی زندگیوں کو نقصان پہنچے گا وہیں امریکہ کی عالمی اقتصادی ترقی میں بھی رکاوٹ پیدا ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں امریکیوں نے سڑکوں پر آ کر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ اس ساری صورتحال سے واقف نہیں ہیں اور کیا انہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس ٹیرف پالیسی کا حتمی اثر ان کے عوام ہی برداشت کریں گے؟
کئی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی اقدامات کا مقصد تمام ممالک کو دباؤ میں لا کر بات چیت کے لئے ٹیبل پر لانا ہے اور اس دوران امریکی انتظامیہ اپنے من پسند مطالبات منوا کر ٹیرف کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کر لے گی۔ یہ اندازہ کچھ غیر مناسب بھی نہیں کیوں کہ سالوں سے جاری یوکرین روس تنازعے میں بھی امریکہ کچھ ایسا ہی کر رہا ہے۔ خود امریکی صدر نے اپنی تقریر میں اس امکان کا حوالہ دیا کہ ہم ٹیرف لگا رہے ہیں تا کہ اس پر بات کر سکیں اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد اس مسئلے کا حل نکال لیں گے۔ تو کیا ٹیرف پالیسی محض اپنے مطالبات منوانے کی دھمکی ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں؟
ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ ایک جوا ہے جو اگر ٹرمپ جیت گئے تو وہ اپنے اس خواب کو پانے کے قریب ہو جائیں گے جو انہوں نے بطور امریکی صدر اپنی دوسری مدت کے بارے میں دیکھ رکھا ہے۔ لیکن اس دوران یہ سال نہایت اہم ہو گا۔ ٹرمپ انتظامیہ ”گریٹ امریکہ“ کے جس نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے اس میں انہیں عوام کو جلد از جلد یہ بتانا ہو گا کہ ان کی امیگریشن اور ٹیرف پالیسی نے ایک سال کے دوران امریکہ کو اس ہدف کے قریب کیا ہے ورنہ ”مڈ ٹرم“ انتخابات میں عوام کے پاس جانے کے لئے ان کے پاس کیا ہو گا؟ سو اگر اس دھمکیوں اور اجارہ داری کی سیاست میں انہیں کامیابی مل گئی تو واہ واہ لیکن اگر اس عرصے میں وہ یہ جوا ہار گئے تو واپسی کا سفر بھی مشکل معلوم ہوتا ہے۔
چین نے امریکی اقدامات کا جواب بہت جلد دیا ہے۔ یا اگر یوں کہیں کہ کسی اور ملک نے اس طرح کا جواب نہیں دیا تو غلط نہ ہو گا۔ چین کے اس فوری رد عمل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چین کو ٹرمپ انتظامیہ سے اسی رویے کی امید تھی لہذا اس کی تیاری مکمل تھی اور امریکی اعلانات کے بعد انہیں بھی بس اعلان کرنا باقی تھا سو انہوں نے کر دیا۔ لیکن اس تیاری اور اس جواب میں چینی قیادت سے اس جلد بازی کی توقع نہیں کی جا سکتی جو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دیکھنے میں آئی ہے کیوں کہ چین کا ہر اقدام سوچ سمجھ کر اور وقت لے اور دے کر کیا جاتا ہے۔ چین کی کوشش موجودہ بیرونی سرمایہ کاری کو ملک میں قائم رکھنا اور اسے اپنی پالیسیوں کی بدولت بڑھاتے رہنا ہے جس میں وہ اب تک کافی کامیاب رہا ہے اور مستقبل کا منظر نامہ بھی ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا حتمی مقصد امریکہ میں سرمایہ کاری کو بڑھانا اور امریکی سمیت تمام سرمایہ کاروں کو واپس امریکہ لانا ہے جس سے امریکی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی بحالی کا عمل شروع ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکی صنعت کم لاگت اور بہتر مارکیٹ سمیت دنیا کے تمام ممالک کا دوستانہ رویہ حاصل کر سکے گی اور اگر ایسا کر بھی لے تو اس مدت میں امریکی معیشت کا کیا ہو گا؟ میری اپنی ناقص رائے میں اس جارحانہ پالیسی کے بجائے امریکی انتظامیہ کو اپنی معیشت کے کمزور پہلوؤں پر غور کر کے انہیں ٹھیک کرنا زیادہ بہتر ہو تا اور یہ بھی بہتر ہوتا اگر منصوبہ بندی مستقبل کی کی جاتی نا کہ فوری نتائج کی۔ ڈی گلوبلائزیشن کے آغاز کے اس عمل میں نئے اتحادی نئے شراکت دار بن گئے تو اس سے عالمی تجارتی نظام کو کیسے بچایا جائے گا اور یہ بھی کہ کیا اس صورت میں کسی عالمی نظام کی گنجائش رہ پائے گی؟
سو خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس اپنی معیشت کی فوری بہتری کے لئے جو بھی حل تھا وہ اس نے اختیار کر لیا، اسی طرح دنیا کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ صورتحال کو جانچ کر اپنے مفادات میں فیصلہ لے اور پھر اس پر ثابت قدمی سائے قائم رہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں ایک چیز ایسی ہے یہ فیصلہ کرے گی کہ ہار کس کی ہوئی اور جیت کس کی؟ اور یہ کہ کون غلط تھا اور کون درست؟ اور وہ ہے ”وقت“ ۔ یہ نہایت دلچسپ ہو گا کہ جو افراد امریکی صدر ٹرمپ کی حمایت بھی کر رہے ہیں وہ ملکی خزانے میں ٹیرف کی مد میں رقم کے جمع ہونے اور اس سے عوام کو ملنے والی آسانیوں تک ٹیرف کے سب ہونے والی مہنگائی کو برداشت کر سکیں گے یا نہیں؟ کیوں کہ امریکی انتظامیہ اس وقت دنیا کے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر اجتماعی سوچ کی جانب نہیں بلکہ انفرادی سوچ کی جانب اپنا سفر کر رہی ہے تو بالآخر امریکی معیشت کے اعداد و شمار اور امریکی عوام کی رائے ہی ہے جو ”امریکہ گریٹ“ کے نعرے سے وجود میں آنے والی اس نئی امریکی حکومت کے کامیاب اور ناکام ہونے کو ثابت کرے گی۔


