پاکستانی قوم مریض بھی خود ہے اور ڈاکٹر بھی


shafay sabir

کسی سیانے نے کیا خوب کہا تھا کہ ڈاکٹر کو دیکھ پوری پاکستانی قوم مریض بن جاتی ہے اور کسی مریض کو دیکھ کر پوری قوم ڈاکٹر بن جاتی ہے۔

سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے، کرونا کی وبا کی دنوں میں ٹیلی میڈیسن کا اجراء کیا گیا تھا، جس میں فیس بک پر گروپس بنائے گئے، ان میں ڈاکٹرز کو ایڈ کیا گیا تاکہ وہ عام لوگوں کی مدد کر سکیں جن کو ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت نہیں۔

اب ہوا یہ کہ ان گروپس میں پاکستانی قوم کو بھی ایڈ کیا گیا۔ اب پاکستانی قوم اپنی عادت سے مجبور ہے، اگر کوئی مریض اپنا مسئلہ بیان کرتا اس سے پہلے کوئی ڈاکٹر اس مسئلے کا جواب دیتا، پاکستانی قوم اپنے جدید مشوروں سے نوازتی اور یوں ٹیلی میڈیسن کا کنسیپٹ ہی ختم ہو کر رہ گیا۔

ذیل میں مریضوں کے پوچھے سوالات اور پاکستانی قوم کے جوابات ملاحظہ فرمائیں!

سوال: ڈاکٹر صاحب کھانے کے بعد سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ اس کا حل بتائیں۔

فیسبکی مجاہد کا جواب سنیے : کھانے کے بعد پیٹ میں گیس بنتا ہے، جو کہ خون کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے جو کہ سر درد کا باعث ہے، کھانے کے بعد سیون اپ بوتل میں دو چمچ نمک ڈال کر پیو، ٹھیک ہو جاؤ گے۔

سوال: ڈاکٹر صاحب مجھے پاخانے کے ساتھ خون آتا ہے، سرکاری ہسپتال والوں نے بواسیر بتایا ہے، اور اس کا حل آپریشن بتایا ہے۔

فیسبکی ڈاکٹر کا جواب سنیے : بواسیر تب ہوتی ہے جب معدے کی مکمل صفائی نا ہو۔ کسی پنساری کی دکان سے بواسیر ختم کیپسول استعمال کریں، معدہ صاف ہو گا، تو بواسیر خود بخود ختم ہو جائے گی۔

سوال: یہ میری گردوں کی رپورٹ ہے، یوریا زیادہ ہے، ڈاکٹروں نے کہا ہے، گردوں کی صفائی کروانا لازمی ہے۔
فیسبکی جواب : زیادہ پانی پیو، پیشاب آئے گا تو گردے صحیح کام کریں گے۔

سوال: میں نے بچپن میں بڑے غلط کام کیے ہیں، کچھ مہینوں کے بعد شادی ہے، میں بڑا شرمندہ ہوں، کیا کروں؟
جواب۔ ویاگرا کی گولی دودھ کے ساتھ کھاؤ۔ یاد رکھنا ایک ہی کھانی ہے۔

سوال: ایکسیڈنٹ ہوا تھا، ہڈی ٹوٹ گئی، آپریشن سے ڈر لگتا ہے، اب کیا کروں؟
جواب: نیم کے پتوں کی ٹکور کرو، ہڈی جڑ جائے گی۔

سوال: جب میں چلتا ہوں تو ہڈیوں سے کڑ کڑ کی آواز آتی ہے۔ جواب: غلط کام چھوڑ دو، دودھ میں وٹامن ڈی کا ٹیکہ ڈال کر پیو، ہڈیاں مضبوط ہو جائیں گی۔

سوال: ڈاکٹر صاحب : یہ میری سیمن کی رپورٹ ہے، موٹئلٹی کم ہے، زیادہ کیسے کی جائے۔
جواب: ساگارے کھایا کرو۔

ایسے اور کئی لازوال جوابات موجود ہیں، جو کہ پاکستانی فیسبکی مجاہدین نما ڈاکٹروں نے ٹیلی میڈیسن گروپس میں دیے، مزے کی بات یہ ہے کہ لوگوں نے اس پر عمل بھی کیا۔

پاکستان میں سوائے ڈاکٹروں کے، ہر بندا ڈاکٹر ہے۔ اسی سیلف میڈیکیشن کی وجہ سے پاکستان میں تقریباً 95 % بیکٹریا اینٹی بائیوٹکس سے resistant ہو چکے ہیں۔ باقی رہتی سہتی کسر، میڈیکل سٹور والوں نے پوری کر دی ہے، جو کہ ڈاکٹر بھی خود ہیں اور فارما والے بھی، خود ہی مریضوں کی تشخیص کرتے ہیں اور خود ہی من پسندیدہ برانڈ کی دوائی دے دیتے ہیں۔ اب تو رونا بھی نہیں آتا۔ لگے رہو بھائی لوگوں۔

عطائیوں اور فیسبکی مجاہدین نما ڈاکٹروں کے سامنے سبھی بے بس ہیں۔

تحریر : ڈاکٹر محمد شافع صابر
(مضمون نگار ڈاکٹر ہیں اور سر گنگا رام ہسپتال لاہور میں آرتھوپیڈک سرجری میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کر رہے ہیں )

Facebook Comments HS

ڈاکٹر شافع صابر

ڈاکٹر شافع صابر سر گنگا رام ہسپتال لاہور میں، آرتھوپیڈک سرجری میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کر رہے ہیں

shafay-sabir has 70 posts and counting.See all posts by shafay-sabir