کبھی اپنے گھر کی کھڑکی بند کر کے دوسروں کو جینے دیں


کبھی آپ نے غور کیا کہ کچھ لوگ دوسروں کی زندگی میں اس طرح دلچسپی لیتے ہیں جیسے اُن کا اُس پر حق ہو۔ کسی کی شادی، نوکری، بچے، طلاق حتیٰ کہ کسی کے لباس یا چہرے کے تاثرات تک سب کچھ اُن کے تبصروں کی زد میں ہوتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف سوالات کرتے ہیں بلکہ خود ہی جواب بھی بنا لیتے ہیں۔ کسی نے شادی کیوں نہیں کی؟ بچے کیوں نہیں ہوئے؟ نوکری کیوں چھوڑی؟ کپڑے ایسے کیوں پہنے؟ یہ سب باتیں وہ اس انداز میں پوچھتے ہیں جیسے سامنے والا اُنہیں جواب دینے کا پابند ہو اور المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس رویے کو غلط سمجھنے کے بجائے عام سمجھا جاتا ہے۔ جیسے دوسروں کی زندگی پر تبصرہ کرنا یا اُس میں مداخلت کرنا کوئی اہم سماجی فریضہ ہو۔

اس رویے کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ بعض اوقات یہ محض تجسس نہیں ہوتا بلکہ اندرونی احساسِ کمتری اور ناکامیوں کی جھلک ہوتی ہے۔ جنہیں اپنی زندگی میں کچھ خاص حاصل نہیں ہوتا وہ دوسروں کی زندگی کو موضوعِ بحث بنا کر وقتی تسکین حاصل کرتے ہیں۔

جب انسان خود اندر سے مطمئن نہ ہو تو وہ دوسروں کی زندگی میں جھانکنے لگتا ہے۔ محلے کی وہ خالہ جو کھڑکی سے جھانکتی رہتی ہیں، وہ عورتیں جو گلیوں میں بیٹھی ہر آنے جانے والے پر نظر رکھتی ہیں یا وہ چاچا جو ہر کسی کے مسائل پر رائے دیتے ہیں یہ سب لوگ اپنے خالی پن کو دوسروں کی زندگی سے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حسد بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ کسی کے گھر نئی گاڑی آ جائے، بچے اچھے نمبر لے لیں یا کوئی خوشحال نظر آ جائے تو پہلا جملہ یہی ہوتا ہے ”بس پیسے کی بات ہے۔ “ یا پھر ”اِنہیں تو قسمت نے نوازا ہے۔ “ اسی لیے کہتے ہیں کہ حسد کرنے والوں سے بچ کر رہو۔ یہ تمہاری خوشی پر اپنی محرومی کا پردہ ڈالتے ہیں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ہمارے معاشرے کی تربیت ہی کچھ ایسی ہوتی ہے کہ ہمیں بچپن سے ہی سکھایا جاتا ہے کہ فلاں نے کیا پہنا، فلاں کے ہاں کیا ہوا، فلاں کہاں گیا یہ سب جاننا اور اس پر بات کرنا ”دلچسپی کے اظہار کا طریقہ“ اور ”ہمارا حق ہے۔“ حالانکہ یہ سب سراسر مداخلت ہے۔ ہم نے کبھی نہیں سیکھا کہ کسی کی ذاتی زندگی اُس کی اپنی ہوتی ہے اور ہمیں اُس کے فیصلوں پر رائے دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ لوگوں کو سمجھانا بہت آسان ہے بس پہلے خود کو سمجھا لیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو بہتر بنانے کے بجائے دوسروں کی زندگیاں سدھارنے میں لگے رہتے ہیں۔ ہم اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت کی عملی تصویر ہیں۔

آج کے دور میں جب سوشل میڈیا ہر کسی کی پہنچ میں ہے مداخلت کے دروازے پہلے سے کہیں زیادہ کھل چکے ہیں۔ اب کوئی تصویر لگائے، خوشی منائے یا اپنے دن کا احوال لکھے لوگ فوراً پہنچ جاتے ہیں ”اتنا خرچ کیوں کیا؟“ ، ”یہ ساتھ کون ہے؟“ ، ”یہ کھانا گھر میں بھی بنایا جا سکتا تھا۔“ یہ سب کچھ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ایک مسلسل ذہنی دباؤ ہوتا ہے جو ہم دوسروں پر ڈالتے ہیں۔

اس سب میں المیہ یہ ہے کہ اکثر مداخلت کرنے والے خود کو مخلص سمجھتے ہیں۔ اُنہیں لگتا ہے کہ وہ صرف خیرخواہی کر رہے ہیں حالانکہ ان کے الفاظ سامنے والے کے لیے اذیت بن جاتے ہیں۔ ”ابھی تک بچہ نہیں ہوا؟“ ، ”طلاق کیوں ہو گئی؟“ ، ”نوکری چھوڑ دی؟ اب کیا کرو گے؟“ یہ سوالات شاید ایک لمحے کے لیے پوچھے جاتے ہیں مگر جن سے پوچھے جائیں اُن کے دل پر مدتوں اثر چھوڑ جاتے ہیں۔

ایسی سوچ سے بچنے کے لیے ہمیں خود احتسابی کرنا ہوگی۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ کہیں ہم بھی ان لوگوں میں شامل تو نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے بھی کسی کی ذاتی بات کو محفل کا موضوع بنایا؟ کیا ہم نے بھی کبھی کسی کی پریشانی پر چپ رہنے کے بجائے طنز کیا؟ اگر جواب ”ہاں“ ہے تو یہ وقت ہے رکنے اور بدلنے کا کیونکہ دوسروں کی زندگی میں بے وجہ دخل دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی کی نظم میں اپنی مرضی کے مصرعے گھسا دینا۔

اس ضمن میں بہتری اسی وقت آئے گی جب ہم اپنی زبان اور رائے کو صرف ضرورت کے وقت استعمال کریں۔ اگر کوئی کچھ نہ کہے تو اُس کی خاموشی کو عزت دیں۔ ہر بات پر تبصرہ کرنا دانشمندی نہیں بعض اوقات خاموشی سب سے بڑی دانائی ہوتی ہے۔

ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہو گا کہ زندگی میں عزت، وقار اور محبت اُن لوگوں کو ملتی ہے جو دوسروں کی ذاتی حدود کا احترام کرتے ہیں۔ ایک مہذب معاشرہ اُسی وقت ممکن ہے جب ہم سیکھیں کہ ہر فرد کی اپنی الگ زندگی ہے اور اُس کی زندگی میں مداخلت کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ ہمیں کس طرح اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے اور کس طرح جیو اور جینے دو کے اصول پر کاربند ہونا چاہیے۔ دوسروں پر بے جا تنقید اور رائے دینا ہمارا حق نہیں بلکہ نیچ حرکت ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔ اگر ہم کسی کے ساتھ بھلائی نہیں کر سکتے تو اس کے ساتھ برائی بھی نہیں کرنی چاہیے۔

آخر میں بس اتنا کہوں گی کہ کسی کی زندگی میں مداخلت کرنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر سوچیں کہ کیا میں چاہوں گا کہ کوئی میرے ساتھ ایسا کرے؟ اگر جواب ”نہیں“ ہے تو بس خود کو وہیں روکیے۔ کسی کی زندگی کے زخموں کو موضوعِ گفتگو بنانے کے بجائے اُس کے لیے دعا بن جائیے۔ اپنی زندگی سکون سے گزاریے دوسرے کیا کر رہے ہیں یہ جاننا چھوڑ دیجیے۔ ہم اپنے گھر کی کھڑکی بند کر کے دوسروں کو جینے دیں تو تبھی ہم ایک نرم دل، بہتر سوچ اور باعزت معاشرہ بنا سکیں گے ورنہ صرف سوال ہی رہ جائیں گے اور جواب دینے والا کوئی نہ ہو گا۔

Facebook Comments HS