سکندرِ اعظم: فاتحِ عالم؟ مقامی مورخین کی نظر میں


tariq ishaq

برصغیر میں کشمیر سے لے کر ٹھٹھا تک جس علاقے کی بھی مقامی تاریخ پڑھیں تو اس میں آپ کو لکھا ہوا ملے گا کہ سکندر مقدونی ہمارے علاقے میں بھی آیا تھا اس نے ایک بڑا حملہ کر کے ہمارے علاقے کو بھی فتح کرنے کی کوشش کی تھی، مگر ہمارے قصبے والوں نے وہ وہ قربانیاں دیں اور مزاحمت کی ایک ایسی داستان رقم کی کہ سکندر کو ایک زبردست شکست کھانی پڑی، بلکہ اس کو دوبدو لڑائی کے دوران کئی کاری چوٹیں آئیں اور وہ بس اپنے گھوڑے سے گرنے ہی لگا تھا کہ اس کے ذاتی گارڈز اسے لے کر بمشکل گھیرا توڑ کر بھاگ نکلے۔

اب اگر ہمارے بھیرہ، میاں چنوں، اوچ شریف، گجرات، سیہون شریف، شورکوٹ اور پنڈی بھٹیاں وغیرہ کے مقامی مورخین کی لکھی ہوئی تاریخ مانی جائے، تو بر صغیر میں سکندر کی مہم کی داستان کچھ یوں بنتی ہے :

پہلے جاٹوں نے بہت دلیری سے روکا تھا، ارائیوں نے اس پر بے تحاشا تیر برسائے تھے، گجروں نے تو بہت دوڑایا تھا، کھوکھروں نے گھیرا ڈالے رکھا تھا اور پشتونوں نے مسلسل تعاقب کیے رکھا تھا۔ جب وہ کسی نہ کسی طرح بچتا بچاتا کشمور پہنچا، تو وہاں سندھیوں اور بلوچوں نے رات کو شب خون مار دیا۔ پھر وہ پریشان حال سیہون شریف پہنچا، جہاں اسے ایک دفعہ پھر اندازہ ہوا کہ ”یہاں سے بھی بھاگنے میں ہی عافیت ہے!“ اور آخر میں، مظلوم سکندر نے ہانپتے کانپتے بابل جا کر دم توڑ دیا!

یہ سوال سب کو پریشان کرتا ہے کہ آخر یونان، ایشیائے کوچک، مصر، ایران، اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو روندنے والا سکندر برصغیر میں آ کر اتنی عبرتناک شکستوں کا شکار کیسے ہوا؟ جواب بہت سادہ ہے :

تاریخِ اٹھارہ ہزاری کے مطابق: ”سکندر ہر جنگ لڑنے کے بعد تھل کے ایک پیر صاحب کے پاس تعویذ لینے چلا جاتا تھا، اور یہ پیر صاحب (جو غالباً قم دور کے سب سے تجربہ کار روحانی شخصیت تھے ) ہمیشہ اسے الٹا تعویذ پکڑا دیتے تھے!“ اور وہ پھر شکست کھا جاتا تھا۔

بھیرہ کے مؤرخین کے مطابق: سکندر یہاں آیا، لشکر سے حملہ کرنے کی بجائے لوکل پہلوانوں سے کشتیاں لڑنے لگا۔ ایک لوکل پہلوان نے اسے چاروں شانے چت کیا تو اس نے اپنی فوج کو کہا: یہ انسان نہیں جن معلوم ہوتے ہیں عافیت اسی میں ہے کہ کسی طرح واپس نکل چلو

میاں چنوں کی روایات: سکندر کا لشکر یہاں پہنچا تو مقامی عمائدین پگڑیاں باندھے ننگی تلواریں لہراتے قلعے سے باہر آئے اور پھر ایک طرف ہو کر بھاگنے لگے اور سکندر کی فوج کو زبردستی اپنے پیچھے لگا لیا مگر دراصل ایک خفیہ جنگی تدبیر تھی جس کے متعلق یونانی بالکل لاعلم تھے اچانک یونانی فوج کو پتہ ہی نہ چلا اور وہ درخت کی ٹہنیوں سے ڈھکے ہوئے گڑھوں میں گرتی چلی گئی اور آخر میں ان کی ہمت جواب دے گئی اور انہیں واپس بھاگنا پڑا

سیہون شریف کی مقامی تاریخ کے مطابق: یہاں سکندر کے لشکر میں موجود گھوڑوں کو ہوشیاری سے ایسی گھاس کھلائی گئی کہ سب بیمار پڑ گئے اور لشکری ان کی حالت دیکھ کر سمندر کی طرف بھاگتے چلے گئے۔

ہمارے برصغیر کے مقامی مورخین کی ایک خوبی یہ ہے کہ اگر وہ کسی دشمن کو جنگ میں قتل نہ کروا پائیں تو اس کو عبرتناک شکست سے ضرور دوچار کروا دیتے ہیں۔ مقامی تاریخوں میں کئی حملہ آوروں کو نہ صرف شکستوں سے دوچار ہونا پڑا بلکہ ان کو مار کر ان کے باقاعدہ مقبرے بھی بنائے گئے جہاں آج تک بڑے اہتمام سے ان کے عرس منائے جاتے ہیں۔ سکندر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا تھا، مگر تاریخ بھیرہ کے مؤرخین نے اس کو کچھ رعایت دینے کا فیصلہ کیا اور لکھا:

”سکندر یہاں سے شکست کھا کر بھاگا، ایسے بھاگا کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا اور بابل جا کر ان شکستوں کے غم میں کسمپرسی کی حالت میں مر گیا!“

اگر مقامی مورخین کو تھوڑا اور موقع مل جاتا، تو شاید یہ بھی ثابت ہو جاتا کہ

سکندر دراصل مقامی گدی نشینوں کا مرید تھا، اور وہ یونان سے یہاں جنگ کرنے نہیں بلکہ چلہ کاٹنے آیا تھا!

اس کا اصلی مقبرہ قلعہ دیدار سنگھ میں ہے، اور جو بابل میں مرا، وہ دراصل سکندر کا ہم شکل تھا!

اس کے گھوڑے، بوسفیلس، کو اصل میں چکوال کی سرزمین پر مقامی گھوڑوں نے دنگل میں شاندار شکست دی تھی، جس کے بعد وہ چوہدری اللہ دتہ گکھڑ کے ڈیرے پر کئی سال بندھا رہا!

اگر تاریخ کو مکمل طور پر مقامی مورخین کے سپرد کر دیا جائے، تو اگلے چند سالوں میں شاید ہمیں یہ لکھا ہوا دریافت ہو جائے کہ:

”اصل میں سکندر یونانی درہ آدم خیل، تونسہ، اور سیہون کے درمیان کسی جگہ آج بھی چھپ کر رہ رہا ہے“

وہ عین جوانی میں شاید اس لئے مر گیا ہو کہ وہ جانتا تھا کہ اگر بر صغیر کے مقامی مورخین نے اسے زندہ دیکھ لیا، تو وہ اس پر مزید بیس شکستوں کا الزام لگا دیں گے!

Facebook Comments HS