سیاسی انبوہ میں تنہا، تاج حیدر
ستر کے عشرے میں کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف (رشید حسن خان گروپ) کے طلبہ کراچی کے جن نوجوان رہنماؤں اور دانشوروں سے متاثر تھے۔ ان میں سر فہرست معراج محمد خان اور تاج حیدر تھے۔ تاج حیدر کی شادی اسی زمانے میں ہوئی تھی اور ہمارے گروپ کے طلبہ ان کے ولیمے میں مدعو تھے۔ مجھے یاد ہے میں نے ریگل چوک سے انہیں تحفے میں دینے کے لئے داس کیپیٹل کا تین جلدوں پر مشتمل سیٹ خریدا تھا۔
کیا آپ یقین کریں گے کہ اس زمانے میں اس سیٹ کی قیمت صرف نو روپے تھی۔ تاج حیدر کا ولیمہ کراچی پریس کلب میں ہوا تھا اور مہمانوں کی تواضع نمکین بسکٹوں اور چائے سے کی گئی تھی۔ ہمارے لئے یہ بھی ایک انقلابی قدم تھا۔ ہم جو اس وقت سر تا پا انقلاب کے رومانس میں ڈوبے ہوئے تھے اور ہر فرسودہ روایت سے بغاوت کرنا چاہتے تھے۔ انقلاب لانے کی خاطر ہی بائیں بازو کے ایک سینیئر رہنما احفاظ الرحمن سے شادی کی تو تاج حیدر ان کے دوستوں میں سے تھے۔ اس لئے بعد میں بھی کسی نہ کسی حوالے سے ملاقات ہو جاتی تھی۔
اس زمانے میں وہ ٹی وی کے لئے سیاسی اور سماجی موضوعات پر ڈرامے لکھنے لگے تھے۔ ”بارش، جنہیں راستے میں خبر ہوئی، لب دریا“ ان کے تحریر کردہ مشہور ڈرامے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک ڈرامے ”آبلہ پا“ میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ 2006 میں انہیں پی ٹی وی نے بہترین ڈرامہ سیریل لکھنے پر ایوارڈ دیا تھا۔
ہماری نسل ذوالفقار علی بھٹو کی کرشمہ ساز شخصیت سے متاثر تھی۔ جب ان کے ایوب خان سے اختلافات ہوئے اور وہ حکومت سے علیحدہ ہوئے تو معراج محمد خان نے انہیں کراچی میں طلبہ کا پلیٹ فارم مہیا کیا۔ اب اکثر ہم کہتے ہیں کہ بائیں بازو والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ بھٹو کو پاکستان میں سوشل ازم لانے کے لئے استعمال کریں گے لیکن الٹا بھٹو نے انہیں استعمال کر لیا۔
پیپلز پارٹی کے ”روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے نے عوام کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیا تھا مگر آہستہ آہستہ لیفٹ کے لوگ پارٹی سے الگ ہوتے چلے گئے یا الگ کر دیے گئے۔ مگر تاج حیدر پارٹی میں ایک نظریاتی دانشور کی حیثیت سے ہمیشہ سب کے لئے قابل احترام رہے۔ انہوں نے ہمیشہ سماجی اور اقتصادی مساوات اور جمہوریت کی بات کی۔ زندگی کے آخری دو سالوں 2023۔ 2025 میں وہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔ اس سے پہلے طویل عرصہ تک انہوں نے سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی طرف سے سندھ کی نمائندگی کی۔
میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ پیپلز پارٹی بہت خوش قسمت ہے کہ اسے بھٹو سینئیر کے زمانے سے بہت ہی بے لوث کارکن ملے مگر یہ بات لیڈروں کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ نظریاتی اور ترقی پسند کارکنوں کی نظر میں ان کا کردار ہمیشہ مشکوک رہا مگر تاج حیدر واحد رہنما تھے جن کی دیانت اور ذہانت پر کبھی کسی نے شک نہیں کیا۔ انہوں نے نظریاتی طور پر ہمیشہ کارکنوں اور عوام سے اپنا رشتہ برقرار رکھا۔
ذاتی طور پر تاج حیدر کے حوالے سے ایک خوبصورت یاد جو ہمیشہ میرے ساتھ رہی، وہ 1977۔ 78 کی ضیا الحق کی آمریت کے دور میں صحافیوں کی تحریک کے حوالے سے ہے۔ ضیا الحق کا براہ راست نشانہ بھٹو اور ان کے بعد بے نظیر اور نصرت بھٹو تھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات، دیگر ترقی پسند اخبارات و جرائد یہاں تک کہ دائیں بازو کے کچھ پرچے بھی بند کیے تھے اور یوں بقول احفاظ الرحمن صحافیوں نے منہاج برنا کی قیادت میں آزادیٔ صحافت کی سب سے بڑی جنگ لڑی جس میں طلبہ، مزدور اور کسانوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔
ہر روز چار پانچ لوگوں کی ٹولی گرفتاری پیش کرتی تھی۔ برنا صاحب بھی گرفتار ہو چکے تھے اور فیصلہ ہوا تھا کہ نثار عثمانی، حفیظ راقب اور احفاظ الرحمن انڈر گراؤنڈ ہو کر تحریک چلاتے رہیں گے۔ یہ لوگ کراچی میں مختلف دوستوں اور ہمدردوں کے گھروں میں چھپ کر تحریک کے حوالے سے فیصلے کرتے تھے۔ شمیم عالم اور الطاف صدیقی کے ذریعے باہر کی دنیا سے ان کا رابطہ رہتا تھا۔ گرفتاری سے بچنے کے لئے یہ لوگ جلدی جلدی ٹھکانے بدلتے رہتے تھے اور اکثر میں اپنی تین چار سال کی بچی فیفے کے ساتھ احفاظ سے ملنے پہنچ جاتی تھی۔
تحریک کے آخری دنوں میں ایک دفعہ احفاظ اکیلے تاج حیدر کے گھر روپوش تھے اور تب تک پورے شہر کی پولیس دیوانہ وار احفاظ کو تلاش کر رہی تھی اور میں ان سے ملنے چلی گئی۔ تاج حیدر کی بے خوفی اور بہادری ملاحظہ فرمائیے، وہ مجھے اور احفاظ کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر حب دریا کے کنارے ”بند مراد“ لے گئے۔ تب شہر سے باہر اس دور دراز جگہ پر لوگ شاذ ہی پکنک منانے جاتے تھے۔ شاید وہ احفاظ کو ذہنی اسٹریس سے نجات دلانا چاہتے تھے، دونوں خوب پانی میں نہائے اور میں کنارے پر پانی میں ٹانگیں ڈالے بیٹھی رہی۔
واپسی میں، میں یہی سوچتی رہی کہ اگر پولیس کو پتہ چل گیا کہ ان کی گاڑی میں اس وقت وہ شخص موجود ہے جو انہیں سب سے زیادہ مطلوب ہے تو وہ تاج حیدر کو بھی نہیں چھوڑیں گے مگر تاج بھائی کے چہرے پر کوئی ڈر تھا نہ خوف۔ تو ایسے تھے ہمارے تاج بھائی۔
احفاظ کی زندگی میں وہ آرٹس کونسل میں ہونے والی ان کی کتابوں کی تقریب رونمائی میں تو آتے ہی تھے۔ احفاظ کی وفات کے بعد انہوں نے ان کی یاد میں دیے جانے والے ایوارڈ کی سالانہ تقریب میں ہر مرتبہ شرکت کی۔ اس مرتبہ وہ اس تقریب میں نہیں آ پائیں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ برنا صاحب، عثمانی صاحب، چھاپرا اور احفاظ اور دیگر کے ساتھ وہ بھی روحانی طور پر ہمارے ساتھ ہوں گے۔ ہم ان میں سے کسی کو بھی کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔

