مرض، بندہ اور عبادت
بس یوں سمجھ لیجیے ڈاکٹر علی میرے سکول کے زمانے سے کلاس فیلو ہیں۔ ہم اندرونِ شہر کے چھوٹے گھروں میں رہتے تھے لیکن دل بڑے رکھتے تھے۔ ہمارے والدین کا بھی آپس میں کمال کا یارانہ تھا۔ علی کے والد ہر دو تین ماہ بعد ایک دنبہ ذبح کر کے یخنی میں دیگ پکاتے اور تمام دوستوں کو بلاتے۔ اُس گوشت کا ذائقہ ابھی تک زبان سے چمٹا ہوا ہے۔ اللہ دونوں کے والدین کو اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین!
علی کے تمام بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ، امریکہ سے پاکستان تک اچھے عہدوں پر فائز ہیں۔ ان کو کووِڈ کے دنوں میں بھی نمونیہ ہوا تھا۔ دل کا بائی پاس بھی کروایا ہے۔ دمے کی شکایت بھی ہے۔ اب آرام سے اپنی ریٹائرڈ لائف گزار رہے تھے کہ ایک بیٹے نے ان کو رمضان میں عمرے کے لئے بلا لیا۔ اس رمضان میں ریکارڈ مسلمانوں نے یہ نفلی عبادت کی یعنی حج سے بھی زیادہ بیالیس لاکھ کی تعداد میں حاضری دی۔ یہ مذہبی تہوار سعودی عرب کے لئے خزانوں کے منہ کھول دیتا ہے جو اپنے خزانوں سے جوئے خانے اور شراب خانے کھول رہا ہے اور مغربی نیم عریاں ڈانسوں کے لئے مہنگی مہنگی گانے والیاں مدعو کر رہا ہے۔ حرم اور مطاف کو وسیع سے وسیع تر کر رہا ہے۔ اور دو چارسو گز کے طواف کے چکر کو اب ایک کلومیٹر تک وسیع کر دیا ہے۔ یعنی اگر آپ معذور نہیں تو آپ کو ایک طواف قریباً آٹھ کلومیٹر کے قریب پڑے گا۔
اس نفلی عبادت کے نیک بندوں کو ایک دوسرے سے اتنا قریب رہنا پڑتا ہے کہ لاکھوں لوگوں کو ایک دوسرے کی سانس ہی اندر کھینچنی پڑتی ہے۔ سینے کا انفیکشن، حبس، گرمی، مسلسل چلنا کئی بیمار مسلمانوں کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ علی بھی نمونیہ میں مبتلا ہوئے۔ ہسپتال لے جائے گئے۔ دو ہفتے بعد سفر کے قابل ہوئے تو مجھ سے رابطہ قائم کیا۔ فون پر فقرہ پورا کرنے کے قابل نہ تھے حالانکہ گھر پر آکسیجن لگی ہوئی تھی۔ پھر بھی ہسپتال آنے کو تیار نہ تھے۔ بڑی مشکل سے باقی خاندان کو قائل کیا اور اب آئی سی یو میں پڑے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر علی پہلے مریض نہیں جو عُمر رسیدہ اور بیماریوں کے گھیرے میں آ کر ہی حج اور عُمرے کی نیت کرتے ہیں۔ حج فرض ہے۔ اور اللہ کے پیارے نبی ﷺ نے ایک ہی مرتبہ کیا۔ حالانکہ وہ ایک بڑی سلطنت کے سربراہ تھے۔ عمرہ نفل ہے لیکن شارع نے وہ بھی پوری عُمر میں ایک ہی کیا۔
فرض حج زندگی میں ایک ہی بار ہے۔ لیکن مشروط ہے مالی حیثیت اور جسمانی طاقت سے۔ نفلی عبادات تو فراغت اور صحت و موڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن ان کے لئے جان جوکھوں میں ڈالنے کی نہ تو مذہب میں اجازت ہے اور نہ انسانیت میں۔ میری عید ہسپتال میں اسی وجہ سے گزری کہ بغیر کنٹرول کے شوگر کے مریض عمروں کے چکر میں نہ صرف پاؤں کٹوا بیٹھے بلکہ نمونیہ اور دل کے عارضوں سے بھی بمشکل جان بچا پائے۔ چلیں عُمرہ تو بڑی عبادت ہے، یہ تبلیغ میں شدید مرض کے ساتھ تین تین ماہ گزارنے کی کیا تُک ہے۔ میرے ایک شوگر کے مریض کا پاؤں بڑی مشکل سے بچا تھا لیکن میں نے ان کو طویل فاصلے اور مدت کے لئے کھڑے ہونے سے منع کیا تھا۔ گزشتہ روز پیپ سے بھرے پاؤں اور شدید بُخار میں لائے گئے۔ صاحب تبلیغ کا چلّہ پورا کاٹ کر ہی آئے تھے۔
اسلام تو چھوڑیے یہودی ربّی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ یہ جسم ہمارے پاس اللہ کی امانت اور اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ لیکن اس فرض کو چھوڑ کر نفلی عبادات کے پیچھے میرا ایک رشتہ دار چالیس کے پیٹے میں اس وقت آئی سی یو میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
بدقسمتی سے مسلمانوں کا ظاہری اور نفلی عبادات اور وظائف پر اعتماد اتنا بڑھ گیا ہے کہ کئی ڈاکٹر بھی مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کو حج، عُمرے، تبلیغ یا روزوں کے لئے کھلی چھوٹ دے دیتے ہیں جبکہ ورزش سے منع کرتے ہیں اور اپنا جدید علم پشت پر ڈال دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ جس معالج کی لاعلمی سے کسی مریض کو نقصان پہنچا تو اس کا ذمہ دار معالج ہو گا۔
حج اور عُمرہ جوانی میں اور اچھی صحت کے ساتھ لطف دیتے ہیں جب آپ کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ مجھے یاد ہے جب ہم جوانی میں گئے تھے تو جولائی کے مہینے میں میری بیگم کو تین دفعہ سن سٹروک ہوا تھا۔ ملائشیا کے مسلمان شادی کے فوراً بعد حج پہ چلے جاتے ہیں اور اسی لئے ہندو پاک کے علاوہ تقریباً تمام دوسرے مسلمان خصوصاً ملائشیا، انڈونیشیا، ترکی اور ایران کے حاجی سب کے سب جسمانی طور پر جوان، جسمانی طور پر فِٹ اور ڈسپلن سے حج و عُمرہ کرتے ہیں۔ ہم یہاں نعتوں میں ”مولا مدینے بُلا لے“ سُن کر بڑھاپے اور بیماریوں کی گٹھڑی لے کر باؤلے ہو جاتے ہیں۔
آپ کو بتاؤں کہ اس سے بھی زیادہ ثواب کس میں ہے : ہسپتال جاکر کسی کی بیمار پُرسی کر لیں۔ جو مریض علاج کی سکت نہیں رکھتے، اُن کی جیب میں چُپکے سے کچھ رقم ڈال دیں۔ کسی جسمانی معذور کو ساتھ لے کر پارک میں جائیں۔ گلی کوچوں میں کوڑا کرکٹ جمع کرنے والے بچوں کو کسی دن اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائیں۔ اور سب سے زیادہ اپنے گھریلو ملازمین جو دن رات آپ کی خدمت کرتے ہیں، کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آئیں۔ ساتھ ساتھ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ باقاعدگی سے اپنی دوا کھائیں، میڈیکل چیک اپ کروائیں۔ روزانہ جتنا بھی ہو سکے ورزش کریں۔ کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ جب آپ سیریس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو آپ اپنے پیاروں کی زندگی حرام کر کے رکھ دیتے ہیں۔ نہ وہ کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں اور نہ نوکری۔ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پھیرے لگانا کوئی آسان کام تو نہیں۔ دوست و احباب الگ پریشان۔ کیا آپ کے وہ پیارے اس سلوک کے مستحق ہیں؟


