ابو ظہبی کی الشیخ زید بن سلطان النہیان گرینڈ مسجد
چمکتی دھوپ میں ابو ظہبی کی انتہائی جدید طرز تعمیر کی بلند و بالا عمارتوں سے گزرتے اب ہمیں ایک شاندار بے شمار گنبدوں اونچے میناروں والی مسجد سامنے نظر آ رہی تھی۔ ہماری منی بس کا ڈرائیور ہمیں ان عمارتوں کے متعلق اپنی معلومات سے آگاہ کرتا آیا تھا۔ اور اب سامنے نظر آتی جامع الشیخ زید کبیر مسجد کے متعلق بتاتا ایک لمبا چکر گھومتے وسیع پارکنگ لاٹ میں کھڑی بے شمار سیاحتی بسوں اور وینوں کے ساتھ پارک کر چکا تھا۔
ہمارا کنبہ حیرانی سے اس عظیم مسجد کو دیکھتا اس کی طرف بڑھا تو ادھر کی بجائے پچھلی طرف ایک اور بڑی سی عمارت کی طرف جانے کی ہدایت ملی کہ مسجد کا داخلہ اس طرف سے ہے۔ داخل ہوتے ہی ایک بہت سجا شاندار شاپنگ مال اور فوڈ کورٹ نظر آئے۔ سب سے مصروف وہ دکانیں جن پہ خواتین کے سکارف اور ٹخنوں تک جسم ڈھانپنے والے برقعہ نما اوور آل پڑے تھے۔ مسجد کی حدود میں داخلہ کے لئے سیاح خواتین کے لئے سر مکمل ڈھکا کہ بال بھی نظر نہ آئیں اور جسم ٹخنوں تک ڈھکا ہونے کا ڈریس کوڈ ہے۔
مردوں کے لئے صرف گھٹنوں سے نیچے تک لباس کی پابندی ہے۔ اب چیکنگ پوائنٹ تھا اور ہوائی سفر کے لئے لاگو تمام کارروائی دہراتے ہم مسجد کی طرف جاتی ایک ائر کنڈیشنڈ لمبی راہداری میں رواں تھے۔ دونوں طرف ابو ظہبی کی ثقافت اور معلومات دیتی تصویریں اور چارٹ تھے۔ چلنے کے لئے بھی ائر پورٹ کی طرح واکنگ بیلٹ تھے۔ کوئی دس پندرہ منٹ کے بعد راہداری سے نکل مسجد کے مرکزی داخلی دروازے کو جاتے راستے پہ تھے اور اندر جاتے ہی اس کے اوپر بنے بڑے گنبد اور دائیں بائیں جاتی راہداریوں کے حسن کو دیکھتے حیران ہو رہے تھے۔ اور نگاہیں مسجد کی شان دیکھ پھٹی جا رہی تھی۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ پہلے مسجد کی طرف دیکھیں یا دائیں بائیں پھیلے مختلف باغیچے سبزہ پھول تالاب اور درختوں کے درمیان سے اٹھتے فواروں کا لطف لیں۔
انتہائی دیدہ زیب عربوں کے مور دور کے طرز تعمیر سے متاثر اس مسجد کے تقریباً چالیس ہزار نمازیوں کی گنجائش والے صحن کے جنوبی شمالی کونوں اور مسجد کے مسقف ہالوں کو جاتی چاروں کونوں پہ بنے شاندار سنہری کلس والے تین سو اکاون فٹ بلندی تک پہنچتے میناروں کو لمبی بے شمار محراب دار ستونوں سے مزین راہداریوں سے ملایا گیا ہے۔ ان راہداریوں کے اوپر بھی جابجا چھوٹے بڑے گنبد بنے ہیں۔ جن کے کلس اور ستونوں کے اوپری حصے اور گنبدوں کے اندر سے نظر آتے حصے سنہری ( ممکن ہے سونے کے پانی ) اور انتہائی دلآویز پچی کاری سے مزین کیا گیا ہے۔ ستونوں پر ہلکے سبز رنگ سے دل آویز بیلیں اور اوپر کے سرے کھجور کے تنے کو کھجور کے پتوں سے ڈھانپے سنہری چمک دی گئی ہے۔ مسجد کے مسقف ہالوں کو جاتی دائیں راہداری صرف خواتین کے لئے نماز ہال کی دائیں جانب خواتین کے لئے مخصوص ہال کو جاتی ہے۔ جب کہ باقی پوری مسجد میں مرد و زن گھوم سکتے ہیں۔ داخلی دروازہ کو جاتی سیڑھیوں والی پٹی کے دونوں طرف تالاب اور روح خوش کرتے باغیچے ہیں۔
گیارہ افراد پہ مشتمل ہمارا کنبہ ٹولیوں میں بٹ چکا تھا۔ اور اپنے ذوق کے مطابق روح کی بالیدگی سے سرشار ہو رہا تھا جا بجا نگران کھڑے تھے جو سیاحوں کی حرکات و سکنات کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔ یہ ساتھ ہی گائڈ کا فریضہ بھی ادا کر رہے تھے۔
سات خود مختار چھوٹی بڑی ریاستوں داخلی خود مختاری قائم رکھتے عوام کے وسیع تر مفاد میں ایک ملک متحدہ عرب امارات کی بنیاد دو دسمبر انیس سو اکہتر کو رکھی گئی، اور ذاتی مفاد کو عوامی فلاح کے ساتھ مدغم کرتے دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا یہ ملک آج دنیا کی ایک مضبوط معیشت اور اور معروف و مقبول سیاحتی مرکز کا مقام حاصل کر چکا۔ ابوظہبی تیل کی دولت سے زیادہ مالا مال بھی ہے اور امارات کی مرکزی حکومت کا صدر مقام بھی اور حکومت کی سربراہی بھی یہاں کے امیر کو حاصل ہے۔ دبئی، شارجہ، عجمان، راس الخیمہ اُم القوین، اور فجیرہ دیگر ریاستیں ہیں۔ ستم ظریفی کہ امارات کے قیام کے صرف چودہ روز بعد پاکستان دو لخت ہو اپنی منزل کھو تنزلی اور تخریب کی اندھیری راتوں کو مسکن بنا چکا تھا۔
شیخ زید بن سلطان النہیان کا نام پاکستانیوں کے لئے اجنبی نہیں۔ امارات کی سب سے بڑی اور دنیا کی بڑی اور مشہور و خوبصورت ترین سیاحت کی دنیا میں ہر دلعزیز اس مسجد کی تعمیر انیس سو چورانوے میں شروع ہوئی اور دو ہزار سات میں مکمل ہوئی۔ جب کہ شیخ زید دو ہزار چار میں وفات پا گئے اور مسجد کے نواحی بڑے قبہ نما سبز بغیر کلس گنبدوں میں سے ایک کے تلے مدفون ہیں باقی تین سبز گنبدوں میں شاید مختلف دفاتر، لائبریری، مختلف زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت کا ادارہ وغیرہ موجود ہیں۔
میں حتمی تصدیق نہیں کر سکا۔ صرف مسجد سے متعلقہ حصہ تیس ایکڑ کے لگ بھگ جگہ گھیرے ہوئے ہے۔ پارکنگ، شاپنگ مال اور بہت سی دوسری متعلقہ عمارات دفاتر اور میدان و تزئین شدہ علاقے اس کے علاوہ ہیں۔ مسجد کے بیاسی گنبد ہیں اور ایک ہزار سے زائد ستون ہیں۔ شامی آرکیٹیکٹس نے مور دور کے تعمیراتی فن سے متاثر اس مسجد کی تعمیر تقریباً تین ہزار کاریگروں اور مختلف کاموں کی اڑتیس مختلف ذیلی کمپنیوں کے تعاون سے مکمل کی۔ اس کا صحن سترہ ہزار مربع میٹر جب کہ مسقف حصہ سمیت بائیس ہزار مربع میٹر سے زائد اور مختلف ذرائع کے مطابق چالیس سے پچپن ہزار نمازی اس کی حدود کے اندر سما سکتے ہیں۔ باہر کی گنجائش تو ضرورت پڑنے پہ لاکھوں میں بھی ہو۔
ظہر کی نماز کے وقت کا پوچھا تو حیران کن اطلاع نے چونکا دیا کہ اس عالمی شہرت یافتہ مسجد میں با جماعت نماز نہیں ہوتی۔ البتہ جمعہ کی نماز اور رمضان میں عشاء و تراویح اور عیدین کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔ نماز جمعہ کے اوقات میں سیاحوں کا داخلہ بند ہوتا ہے۔ صحن اور راہداریوں میں تو ہم بھی جوتے پہنے چل ہی رہے تھے۔
ہم مسجد کے پہلے اور بڑے ہال کے قریب پہنچ چکے تھے۔ نگران سے پوچھا تو خود ساتھ جا محبت سے بلکہ خود جوتے پکڑ مختص سٹینڈ پہ رکھے۔ ہال کے اندر داخل ہوتے ہی رنگ و نور اور تزئین و پچی کاری اور بہت بلندی پہ بنی چھت اور اس کے طرز تعمیر نے مبہوت کر دیا۔ لوگ انفرادی اور گروپوں میں باجماعت نماز ادا کر رہے تھے۔ کسی فرقہ بندی کی الحمدللہ تفریق نہ تھی۔ ایک امر جس نے توجہ کھینچی یہ کہ ہال کے وسط میں دو سٹینڈ ساتھ ساتھ پڑے تھے جن کے آگے بھی کئی صفیں تھیں اور پیچھے بھی۔ ان کے اوپر عربی متن کے دنیا کی مختلف زبانوں کے تراجم والے قرآن مجید کے نسخے پڑے تھے۔ ان کے آگے پیچھے دائیں بائیں نمازی نماز پڑھ رہے تھے۔ بس پاکستانی ملا کا توہین قرآن اور بے ادبی کے فتوی کا پیشہ یاد آیا۔ ادائیگی نماز کے باہر نکل اگلے ہال کی طرف گئے۔ یہ مخصوص ہال ہے نسبتاً چھوٹا۔ اس کے اندر داخلہ منع تھا دروازہ سے چند فٹ اندر جا جتنا نظر آ سکے دل میں اتار لیں۔ مگر اصل دیکھنے کی چیز یہ ہی ہے۔ اس کا حسن رعب اور شان دیکھ آنکھیں پھٹی اور منہ کھلا رہ جاتا ہے۔
سو فٹ سے زائد بلندی تک پہنچتی چھت سے دنیا کے سب سے بڑے فانوسوں میں ایک شاید پینتیس فٹ اونچائی والا اور اسی ڈیزائن کے کچھ چھوٹے اس ہال کی زینت ہیں اور اور مسجد کے تینوں سب سے بڑے مرکزی گنبد اسی ہال کے اوپر ہیں۔ شاید یہ ہال خصوصی مواقع پہ ہی نماز کے لئے کھولا جاتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا ہاتھ سے بُنا گیا اور مہنگا ترین شاہکار بغیر جوڑ کے بنا قالین بھی اسی مسجد کی زینت ہے۔ شاید وہ اسی مخصوص اگلے ہال والا ہی ہو۔ بعد میں پتہ چلا اس لئے دھیان نہیں پڑا۔
مسجد کے کونے کھدرے تک گھومتے اور منصوبہ بندی پہ سبحان اللہ کا ورد کرتے کنبہ کے تمام تھکاوٹ سے چور اور بھوک سے بیتاب افراد مرکزی داخل گیٹ کے قریب اکٹھے ہو چکے تھے۔ بہو کچھ دل گرفتہ اور آزردہ نظر آئیں۔ ایک سیلفی لیتے نادانستگی میں دوپٹہ پیشانی سے دو تین انچ پیچھے سرک کچھ بال ننگے کر گیا تھا اور سخت چوکس نگران فوراً پہنچ کچھ درشت لہجہ میں تہدید کرتے فوٹو ڈیلیٹ کروانے کے بعد اس ڈیلیٹ شدہ فوٹو لسٹ سے بھی ڈیلیٹ کروا چکا تھا۔ اور اب خود موبائل فون چیک کرنے پہ مصر تھا۔ بہر حال یقین دہانی پہ بڑبڑاتا چلا تو گیا مگر اس کا رویہ دل کچھ برا کر گیا۔
اب ہم راہداری کے راستے واپسی کرتے شاپنگ مال کا رخ کر چکے تھے۔ راہداری میں ایک کھلی جگہ الشیخ زید الکبیر کی تعمیر کروائی ابو ظہبی کی اس مسجد کے بعد العین اور الفجیرہ میں منفرد تعمیراتی دل موہ لینے والے نظارہ پیش کرتی تعمیر کروائی گئی پر شکوہ نسبتاً چھوٹی مساجد کے ماڈل رکھے تھے اور ساتھ تفصیل بیان کرتے چارٹ تھے۔ یہ ماڈل دیکھ ان کو بھی اندر سے دیکھنے کی خواہش دبانا مشکل تھا۔
شاپنگ مال واپس پہنچ چکے تھے شدید بھوک تو وہاں کے فوڈ کورٹ کے سٹالز نے مٹائی مگر خواتین کی تھکاوٹ دیدہ زیب بڑی خصوصاً زیورات کپڑوں، نوادرات اور چاکلیٹ بکلاوہ کی چمکتی بھڑکیلی دکانوں پہ ٹہلنے اور چہل قدمی نے دور کی۔
شاپنگ مال سے نکل ہم پارکنگ میں منی بس کی طرف بڑھ رہے تھے سامنے عظیم الشان مسجد کا نظارہ پھر الحمدللہ کا ورد کروا تھا۔ مسجد کے اصل تیس ایکڑ کے علاوہ چاروں طرف پھیلے پارکنگ لاٹ، ذیلی عمارتیں پارک وغیرہ یہ سوچنے پہ مجبور کر رہے تھے کہ قریب سے قریب رہائشی ( اگر داخلی راستے کا پروٹوکول لازم ہے تو ) پون گھنٹہ اور کار سوار پچیس منٹ تو مسجد نماز کے لئے پہنچنے میں لیتا ہو گا۔ ممکن ہے کوئی اندرونی قریبی راہ مقامی نمازیوں کے لئے بھی ہو۔
منی بس روانہ ہو چکی تھی۔ ڈھلتی دھوپ میں مسجد کے مینار اور گنبد اور ان کے سنہری حصے آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔ اور منی بس کا افغان ڈرائیور اب ایک اور ماڈرن، عالمی شہرت کا مالک اور حیران کن ثقافتی ورثہ، ابو ظہبی کے صدارتی محل قصر الوطن کی طرف جاتی سڑک پہ رواں تھا۔ جو دو ہزار سترہ میں مکمل ہوا اور دو سال بعد سیاحت کے لئے کھول دیا گیا۔



