بنگلہ دیش میں چند دن: قسط :6
تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید
ترجمہ اور تخلیص :گوہر تاج
یہ ڈھاکہ یونیورسٹی ہے جہاں کبھی شیخ مجیب الرحمن کو غیر مشروط حمایت حاصل تھی۔ اب عین اس یونیورسٹی کے مقابل مجیب کے خلاف پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔ جس میں اسے فاشسٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اب اس کی ہر یادگار کو وہی لوگ تباہ کر رہے ہیں جو کبھی ان کی پوجا کرتے تھے۔ اس کی بیٹی حسینہ شیخ نے ڈکٹیٹر بن کر لفافہ (رشوت کھانے والے ) صحافیوں، دانش وروں کا ایک گروپ بنا دیا ہے اور انصاف کرنے کے لیے سب سے زیادہ کرپٹ ججوں کو مقرر کیا۔ بائیں بازو کے بیشتر سیاسی گروپوں نے حسینہ کی حمایت اس دلیل کی بنیاد پہ کی کہ اگر وہ حکومت میں نہ ہو گی تو جماعت اسلامی اقتدار میں آ جائے گی۔ وہ حسینہ شیخ صاحبہ کی حکومت میں ملکی طبقاتی جدوجہد کو بھی بھول گئے۔ انہوں نے انسانی حقوق، انصاف، تعلیم، صحت کے لیے بھی جدوجہد نہیں کی اور اشرافیہ کی بدعنوانیوں کی مذمت نہیں کی۔
عوام حسینہ شیخ کے ان اقدامات سے ناخوش اور خفا تھے جس کے تحت اس نے جماعت اسلامی کے بزرگ سپورٹرز کو قتل کروایا۔ لوگ انسانی حقوق کی پامالی کی وجہ سے ناراض تھے۔ اس طرح حسینہ شیخ نے غلط اقدامات کر کے بہت سے لوگوں کو جماعت کے کیمپ میں دھکیل کر ایک طرح سے جماعت اسلامی کی بڑی خدمت کی۔
مجیب کے چہرے پہ سرخ خونی دھبوں سے رنگین پوسٹر نے مجھے اداس کر دیا۔ عوام زندہ رہنے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔ وہ ٹیکس دیتے ہیں مگر پھر بھی غلاموں کی طرح رہتے ہیں۔ ہمیں ان کی مخالفت کے بجائے ان کے حقوق کے لیے لڑتے رہنا چاہیے۔ انہیں تحفظ اور سادہ زندگی کی ضرورت ہے۔ جو ان کا حق ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر ایک کو اپنے سائے میں رکھے اور تحفظ دے۔
ڈھاکہ میں ٹریفک کو موثر طریقے سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور کوئی بھی قانون نہیں توڑتا
عوام جانوروں، ان کے دریاؤں اور ماحول کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ درختوں کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت بچوں اور غریب خواتین کی حفاظت کرے، یہاں سو فیصد لڑکیاں اور لڑکے سکول جا رہے ہیں۔
مجھے اپنے شہر کراچی کا خیال آیا۔ پچھلے ستر سالوں میں ہم نے سڑک پر قانون کی کمی کو کنٹرول نہ کرنا سیکھا۔ بندر روڈ کے تمام درخت کاٹ دیے۔ پی آئی اے کو تباہ کر دیا گیا۔
ہماری تین کروڑ اور ستر لاکھ بچے تعلیم سے بے بہرہ، سکول نہیں جا رہے۔ ستر فیصد لڑکیاں کسی بھی قسم کی تعلیم سے محروم ہیں ہماری حکومت غیر سائنسی نظام تعلیم کی حمایت کر کے جہالت اور ناخواندگی کو فروغ دیتی ہے۔ یقیناً بنگلہ دیش ہم سے ہر لحاظ سے پچاس سال آگے ہے۔
بنگلہ دیش میں سیاست:
بنگلہ دیش میں بارہ سے زیادہ سیاسی جماعتیں ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ بی این پی (خالدہ ضیاء) سب سے زیادہ ہے۔
جماعت اسلامی دوسری مقبول ترین جماعت ہے اور دیہی بنگال میں اس کی جڑیں گہری ہیں۔
JATIO پارٹی کے پانچ مختلف حصے ہیں لیکن یہ تیسری مقبول پارٹی ہے جس کے سربراہ جنرل ارشاد کے بھائی ہیں۔
خالصتان مومنٹ انفولان پارٹی
اسلامی آئین کا لمحہ
لوگ اٹھیں فورم
بنگلہ دیش سوشلسٹ پارٹی کے چار حصے ہیں۔
بی ڈی کمیونسٹ پارٹی کے پانچ حصے ہیں سوائے ایک کے باقی تمام حصے تھے۔
شیخ حسینہ کی حمایت
طارق فیڈریشن
بھارت نواز مذہبی جماعت
بی ڈی محلہ پریشید خواتین کی جماعت ہے۔
تمام سیاسی جماعتوں کے طلبہ ونگ ہیں۔
بین الاقوامی سوسائٹی برائے کرشنا ایک ہندو آبادی کی جماعت ہے جو ثقافتی سرگرمیوں کی سیاست میں زیادہ ہے۔
لوگوں نے مجھے بتایا کہ الیکشن میں تمام کمیونسٹ پارٹی کی حمایت کریں گے۔
بی این پی اور عوامی لیگ کے ارکان اور حامی بھی بی این پی کو ووٹ دیں گے کیونکہ وہ جماعت اسلامی کو اقتدار سے باہر کرنا چاہتے ہیں۔
ایک فعال ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ الیکشن میں ہماری دو پارٹیاں ہوں گی لیکن ان میں سے کوئی جماعت اسلامی کے بغیر حکومت نہیں بنا سکے گی۔
بس الیکشن کا انتظار کریں۔
(جاری ہے۔ )


