امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ میں کوئی کامیاب نہیں ہو گا
امریکہ اور چین کے درمیان شروع ہونے والی تجارتی جنگ اب اپنے عروج کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی طرف سے امریکی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ کے بعد اب چینی درآمدات پر فوری طور سے 125 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کل تک چین کی طرف سے اس کا جواب سامنے آ جائے گا۔
دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس جنگ کا میں کوئی فاتح نہیں ہو گا۔ امریکہ اور چین اس مقابلے بازی میں ایک دوسرے کو تو زخمی کریں گے لیکن کسی کے لیے اس سے کوئی خاص فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہو گا۔ دونوں ممالک کا معاشی حجم دنیا کی معیشت کے 43 فیصد پر مشتمل ہے۔ اس لیے اگر یہ تجارتی جنگ جاری رہتی ہے تو اس سے کساد بازاری کا شدید اندیشہ پیدا ہو گا۔ اس دوران لوگوں کی قوت خرید کم ہو جائے اور پیداواری صلاحیت متاثر ہوگی۔ چین نے 2025 کے لیے پیداواری صلاحیت میں 5 فیصد اضافہ کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والے مقابلے سے اندیشہ ہے کہ یہ ہدف حاصل ہونا ممکن نہیں ہو گا۔ بعض ماہرین اس ہدف میں نصف فیصد جبکہ بعض دوسرے ایک فیصد تک کمی کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔
اسی طرح امریکی معیشت کے جائزے اور تخمینے لگانے والے اداروں نے اب اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ صورت میں امریکہ میں کساد بازاری کا اندیشہ 55 فیصد تک بڑھ چکا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ چین ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ٹیرف میں تازہ ترین اضافہ کا کیا جواب دیتا ہے۔ امریکہ نے چین کی طرف سے امریکی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف کرنے کے بعد چینی درآمدات پر 125 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹیرف کی اس شرح کے ساتھ امریکہ کے لیے چینی مصنوعات کی درآمد تقریباً ختم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی معاشی بحران میں تبدیل ہوگی۔ ماہرین نے 2025 کے لیے امریکی پیدا واری صلاحیت میں اضافہ کا تخمینہ دو فیصد سے کم کر کے 1 اعشاریہ 3 فیصد کر دیا ہے۔ ان اندازوں میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ تاہم اس کا انحصار دونوں ملکوں کی طرف سے اختیار کیے گئے رویہ پر ہو گا۔
دنیا بھر کے ماہرین اس تجارتی جنگ پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ سب اپنے اپنے اندازے قائم کر رہے ہیں لیکن کسی کے پاس اس بات کا ٹھوس جواب نہیں ہے کہ اس تجارتی چپقلش کا حتمی نتیجہ کیا برآمد ہو گا۔ البتہ اس بات پر وسیع اتفاق رائے موجود ہے کہ صورت حال عالمی کساد بازاری کی طرف لے جائے گی۔ روزگار کے مواقع کم ہوں گے اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ متعدد صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں اور یہ منفی اثرات صرف امریکہ یا چین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر میں اس کا اثر محسوس کیا جائے گا۔ اس دوران صرف چین اور امریکہ کے درمیان ہی ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیرف لگانے کی دوڑ شروع نہیں ہوئی ہے بلکہ کینیڈا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے 25 ٹیرف کا مقابلہ کرنے کے لیے عائد کیا گیا جوابی محصول آج سے امریکی مصنوعات پر لاگو ہو جائے گا۔
دوسری طرف یورپین یونین نے بھی امریکہ کے 20 فیصد ٹیرف کے جواب میں امریکی مصنوعات پر 25 فیصد محصول عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ اس اضافی محصول کے بارے میں ابھی صورت حال واضح نہیں ہے کیوں کہ صدر ٹرمپ نے چین کے ساتھ ٹیرف کی جنگ شروع ہونے کے بعد چین کے علاوہ باقی تمام ممالک پر عائد کردہ ٹیرف پر عمل درآمد میں 90 دن کا وقفہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خود بھی پوری دنیا سے شروع کی گئی تجارتی جنگ کے منفی اثرات کا اندازہ ہو رہا ہے اور وہ ایک قدم پیچھے اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لیکن ایک خود پسند انسان کے طور پر وہ اپنی غلطی ماننے کی بجائے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ ان کی طرف سے دوسرے ملکوں کے ساتھ بہتر ڈیل کرنے کا ایک ہتھکنڈا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اسے ٹرمپ کی ’ڈیل میکنگ‘ صلاحیت کا عمدہ نمونہ قرار دیا۔ البتہ اس اقدام سے ایک تو امریکی اسٹاک ایکسچینج میں بہتری آئی ہے، دوسرے ٹرمپ حکومت اب باقی ملکوں کو رعائتیں دے کر اور معاہدوں کے ذریعے تنازعہ ختم کر کے صرف چین پر فوکس کرنے کی کوشش کرے گی۔
امریکی ٹیرف میں فوری وقفہ کا اعلان صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کے برعکس اقدام ہے جو وہ چند گھنٹے پہلے تک جاری کرتے رہے تھے کہ ان کے سب فیصلے امریکی معیشت کو خود کفیل بنانے کے لیے ہیں اور وہ ٹیرف کے فیصلوں سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان بھی بار بار صدر کے اسی عزم کو دہراتے رہے تھے۔ تاہم اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ کا صدر بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ وہ پوری دنیا سے بیک وقت تجارتی جنگ جیت نہیں کر سکتا۔ البتہ یہ بدستور جواب طلب ہے کہ کیا صدر ٹرمپ چین کے خلاف شروع کی گئی تجارتی جنگ میں کامیاب ہوجائیں گے۔ تاہم ایک بات تو واضح ہے کہ ٹیرف میں وقفہ کر کے امریکہ نے چین اور یورپین یونین کے درمیان کسی متوقع تعاون کے امکان کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ چین اور یورپی یونین کے 27 ممالک کی مجموعی پیداواری صلاحیت 41000 ہزار ارب ڈالر ہے جو امریکہ کی 28000 ارب ڈالر سے بہت زیادہ ہے۔ البتہ امریکہ کو اب بھی چین کی 20000 ارب ڈالر کی معیشت سے مقابلہ کرنا ہے۔
امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے چین کے ساتھ موجودہ تنازعہ کا سارا الزام چینی حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی معیشت دنیا بھر میں سب سے زیادہ عدم توازن کا شکار ہے۔ یہ دوسرے ملکوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن خود اپنی منڈیوں میں بیرونی مصنوعات داخل ہونے نہیں دیتے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صدر ٹرمپ نے درحقیقت چینی خود غرضی کی اصلاح کرنے کا جراتمندانہ اقدام کیا ہے۔ انہوں نے چین کی طرف سے امریکہ کے خلاف انتقامی محصول عائد کرنے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کو خود ہی اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ پہلے دیگر ممالک کے علاوہ حلیف ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے خلاف ٹیرف عائد کر کے اب اس میں وقفہ کے نام پر ’انحراف‘ کا راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی وزیر خزانہ کے بیان سے یہ بھی محسوس کیا جاسکتا ہے کہ چین کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو اب یورپی یونین جیسے بڑے معاشی بلاک کی حمایت و مدد درکار ہوگی۔ اسی لیے چینی رویے کو نمایاں کر کے یورپی یونین کے ساتھ مل کر چین کے خلاف حصار بنانے کی کوششوں کا آغاز کرنے کی امید کی جا رہی ہے۔
چین صدر ٹرمپ کی یک طرفہ تجارتی پالیسی پر مسلسل تنقید کرتا رہا ہے اور اس نے کہا ہے کہ ٹیرف کی دھمکی کی بجائے مل جل کر مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ البتہ نئے ٹیرف عائد کرنے اور ان میں مسلسل اضافہ کی صورت حال پر چینی وزارت خزانہ کے ترجمان نے ایک بیان میں امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والی تجارتی جنگ کے بارے میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ چین آخر تک مقابلہ کرے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے پاس جوابی اقدام کے لیے وسیع وسائل اور مقابلہ کرنے کا حوصلہ ہے۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ امریکہ ٹیرف میں اضافہ کر کے اپنے معاشی مسائل حل نہیں کر سکتا۔ اس کی بجائے امریکی اقدامات سے مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوگی، امریکی افراط زر میں اضافہ ہو گا اور خود امریکی صنعتوں کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس طرح صدر ٹرمپ کی شروع کی ہوئی جنگ خود امریکہ کے لیے ہی نقصان دہ ثابت ہوگی‘ ۔
ان متضاد بیانات سے کچھ اخذ کرنا تو ممکن نہیں ہے لیکن اس کھینچا تانی کے دوران صدر ٹرمپ کی خواہش تھی کہ امریکہ کی طرف سے گزشتہ بدھ کو چین پر 34 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد چین، ان کی حکومت سے ’رحم‘ کی درخواست کرے گا اور کسی بھی طرح کوئی ایسا معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے گا جس کی تمام شرائط ٹرمپ حکومت طے کرے۔ البتہ چین کی طرف سے امریکہ کے خلاف پہلے 34 فیصد اور بعد میں مزید 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے سے ان کی یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ ٹرمپ غلطی ماننے یا شکست تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے، اسی لیے یورپی یونین اور دنیا کے دیگر ممالک کو ’رعایت‘ دیتے ہوئے انہوں نے چین پر ٹیرف کی شرح 125 فیصد کر دی ہے۔ اس اقدام کے بعد چین کے لیے امریکی مارکیٹ تک رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے۔ اب چین کو امریکہ بھیجی جانے والی 440 ارب ڈالر کی مصنوعات کے لیے متبادل منڈیاں تلاش کرنا ہوں گی یا قومی سطح پر کھپت میں اضافہ کرنا ہو گا۔ یہ ایک مشکل چیلنج ہے لیکن چین کے پاس وسائل کی بھی کمی نہیں ہے۔ اگر دونوں ممالک جلد ہی کسی مفاہمت پر پہنچنے کا اشارہ نہیں دیتے تو عالمی معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے اور کساد بازاری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
چین کے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ ٹیرف کی جنگ چینی معیشت کو اسٹریٹیجک موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ اندرون ملک کھپت میں اضافہ سے پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھا جا سکے گا۔ ہمیں دباؤ کو نئے عزم میں تبدیل کرنا ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پہلے دور کے بعد سے چین نے یورپ، افریقہ، جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دی ہے۔ اس کے علاوہ چین نے خاص طور سے ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کرنے میں کافی کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکہ کی پابندیوں کی وجہ سے چین کے لیے امریکہ سے جدید ٹیکنالوجی کا حصول مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین ملکی صارفین کو سبسڈی دے کر تجارتی عدم توازن کا نقصان کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چین، یورپ و ایشیا میں تجارتی فریقوں کے ساتھ مل کر لبرل گلوبل ٹریڈنگ کو بچانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ چین کے پاس دنیا کی معاشی قیادت کا ایک نایاب موقع پیدا ہوا ہے تاہم اس کے لیے اسے داخلی کھپت کو بڑھانا ہو گا۔ اگر چینی صارفین امریکہ کے ساتھ تجارت سے پیدا ہونے والا خلا خود پورا کر لیں تو چین آسانی سے اس مشکل سے نکل آئے گا۔
امریکہ کے ساتھ محاصل عائد کرنے اور مختلف معدنیات پر پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ چینی حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ اپنے ملک میں لوگوں کو زیادہ ملکی مصنوعات خریدنے پر آمادہ کرے۔ اور دیگر منڈیوں میں مراعات دے کر چینی مصنوعات کو پر کشش بنائے۔


