اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
1960 سے 1974 تک میں حصول تعلیم کے سلسلہ میں بوریوالا مقیم رہا۔ پرائمری تک مجھے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ میں کیسا طالب علم تھا۔ کیوں کہ حساب پڑھتے ہوئے کبھی کبھار ابا جی سے ٹھکائی ہو جایا کرتی تھی لیکن پانچویں جماعت کا امتحان دینے کے بعد حصولِ وظیفہ کے لیے امتحان دینے والے طلبا میں میرا شمار ہوتا تھا۔ ہماری پانچویں کلاس کے ٹیچر بھا جی مختار تھے۔ بہت چاق و چوبند، خوش لباس، دبنگ لہجہ اور سکول میں منفرد حیثیت کے مالک تھے۔
اس دور میں سکول اساتذہ کو ماسٹر جی یا استاد جی کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ لیکن انہیں ان دونوں الفاظ سے چڑ تھی اور انہوں نے اپنے طلبا کو سختی سے تنبیہ کر رکھی تھی کہ انہیں بھا جی کہہ کر بلایا جائے۔ بھا جی کے وہ تمام سابق شاگرد جو ہائی سکول میں پڑھتے تھے۔ سکول میں چھٹی ہونے کے بعد اُن میں سے کچھ طلبا بھا جی سے ملنے کے لیے ہمارے کلاس روم میں آیا کرتے تھے۔ طریقِ کار یہ ہوتا کہ بھا جی کرسی پر تشریف فرما ہوتے۔ ملاقات کے لیے آنے والا ہر شاگرد کمرے میں آ کر بھا جی کے ساتھ گلے ملتا اور اُن کے قریب ہی مؤدب ہو کر بیٹھ جاتا۔ مجھے اُن کا یہ انداز بہت اچھا لگتا تھا اور میں نے بھی تہیہ کر لیا تھا کہ اگلی جماعتوں میں جانے کے بعد میں بھی ایسے ہی بھا جی سے ملنے آیا کروں گا۔ یہ اور بات ہے کچھ دیگر حالات و واقعات کی بنا پر میں اپنے اس عہد پر پورا نہ اُتر سکا۔
پانچویں جماعت کے سالانہ امتحان کے بعد کلاس کے دس بارہ طلبا نے وظیفے کے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔ جن میں میں بھی شامل تھا۔ صبح سویرے ہی کلاس میں پہنچ جاتے اور بھا جی کی نگرانی میں سارا سارا دن ریاضی اور اُردو کی تیاری کرتے رہتے۔ ریاضی کے پیچیدہ اور طویل سوالات اور اُردو کی مشکل اور گنجلک تحریریں پڑھنے اور لکھنے میں سارا دن صرف ہو جاتا۔ پرائمری سکول کے بقیہ تمام طلبا ہمیں رشک بھری نظروں سے دیکھا کرتے اور سکول اساتذہ کا ہمارے ساتھ رویہ بھی ایک دم بہت بہتر ہو گیا تھا۔ ہمیں یوں لگتا تھا کہ اساتذہ کرام بھی ہمیں عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ گویا کہ ہم پورے سکول کا ایک ایسا قیمتی اثاثہ تھے۔ جس نے اس ادارے کے مقام و مرتبہ کو اپنی کارکردگی اور کار گزاری سے بامِ عروج پر پہنچانا تھا۔
دو تین ہفتے ہم سب لوگوں نے اسی ٹھاٹھ کے ساتھ سکول میں گزارے۔ اُن دنوں وظیفے کا امتحان ضلعی سطح پر ہوا کرتا تھا۔ ضلعی صدر مقام پر سب اُمیدواروں کو اکٹھا کیا جاتا۔ پہلے دن اُن کا ریاضی کا پرچہ لیا جاتا اور اسی دن مارکنگ بھی کر دی جاتی۔ فیل ہونے والے لڑکے سرِ شام ہی اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے اور صرف میرٹ پر آنے والے طلبا کا اگلے روز اُردو کا امتحان لیا جاتا اور صرف انہی دونوں مضامین میں کارکردگی کی بنا پر وظیفہ حاصل کرنے والے طلبا کے ناموں کا اعلان کر دیا جاتا۔ ہم لوگ بھی امتحان سے ایک دن پہلے اپنے اپنے بستروں، کتابوں اور دیگر ضروری سامان کے ساتھ ماڈل ہائی سکول وہاڑی پہنچ گئے اور وہاں پر ایک کلاس روم میں ٹاٹوں کے اوپر اپنا اپنا ڈیرہ جما لیا۔
مغرب کے قریب تین چار ساتھی ایک جگہ پر بیٹھے آہستہ آہستہ کچھ کھسر پھسر کر رہے تھے۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ فلم دیکھنے کا پروگرام بن رہا ہے۔ میں نے اس وقت تک کوئی فلم نہیں دیکھی تھی لیکن ہمہ یاراں دوزخ کے نظریے کے تحت میں نے بھی اس فلم بین گروپ میں شمولیت کی حامی بھر لی۔ اس گروپ کی زیر زمین سرگرمیوں کی بدولت سبھی طلبا سے رابطہ کیا گیا۔ دو تین طلبا کے علاوہ باقی سبھی لڑکوں نے اس پروگرام میں شمولیت کے لیے اپنی رضا مندی کا اظہار کر دیا تھا۔ اب ڈرتے ڈرتے اجازت کے حصول کے لئے بھا جی سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے بغیر کسی حیل و حجت کے ہمیں فلم دیکھنے کی اجازت دے دی۔ اس طرح زندگی میں پہلی بار فلم تلاش وہاڑی کے سینما میں دیکھی گئی۔
اگلے دن ریاضی کا پرچہ دینے گئے تو اکثر سوال سر کے اوپر سے گزر گئے۔ پرچے کے دورانیے میں بیٹھے جوابی کاپی کے اوپر مکھی پر مکھی مارتے رہے۔ کمرہ امتحان سے باہر نکلے۔ تو باہر بھا جی بڑی بے چینی سے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ سبھی لوگوں نے پرچہ بہت اچھا ہوا ہے کا سیاسی بیان جاری کر دیا۔ شام کو ہم تین چار طلبا سکول دیکھنے کے بہانے کمرے سے باہر آ گئے۔ تھوڑی دیر ادھر ادھر گھومتے رہے۔ واپسی پر جب کمرے میں داخل ہوئے تو یہاں پر موجود سبھی حصولِ وظیفہ کے لیے اپنے امیدوار ساتھیوں کو اپنا ساز و سامان سمیٹتے ہوئے پایا۔ صورتِ حال دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ہمارا پورے کا پورا گروپ ہی ریاضی کے پرچے میں فیل ہو چکا ہے اور اب واپسی کی تیاری ہے۔ اس طرح بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے کے مصداق ہم ابتدا میں ہی وظیفے کے امتحان سے باہر ہو گئے۔
چھٹی جماعت میں اسی سکول کے ہائی حصے میں داخل ہو گئے۔ ہمارے کلاس انچارج ماسٹر عبدالمجید صاحب تھے۔ جو ایک ایسے روایتی استاد تھے جن کی شخصیت میں طلبا کے لیے یا کم ازکم میرے لیے تو کوئی خاص جاذبیت نہیں تھی۔ بہرحال یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔ انگریزی اور عربی دو نئے مضامین ہمارے سلیبس میں شامل ہوچکے تھے۔
ہمارا معمول یہ تھا کہ ہفتے کے دن سکول سے چھٹی کے بعد میں اور ابا جی دونوں بورے والا سے اپنے گاؤں جایا کرتے تھے اور سوموار کو صبح سکول ٹائم پر واپسی ہوتی۔ مجھے چھٹی جماعت میں داخل ہوئے ایک ڈیڑھ ماہ ہو چکا تھا کہ ایک سوموار کو گاؤں سے سکول پہنچنے میں آدھ پون گھنٹہ دیر ہوگی تو ماسٹر صاحب سخت ناراض ہوئے میں خاموشی سے کھڑا رہا۔ اُن کے دریافت کرنے پر میں نے وضاحت کی کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ سائیکل پر سکول آتا ہوں۔ جو کہ پرائمری حصے میں ٹیچر ہیں۔ اس بات سے ماسٹر صاحب ہتھے سے اکھڑ گئے اور انہوں نے ایک طویل تقریر کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ اگر تمہارے والد ٹیچر ہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ تم جب چاہو سکول آ جاؤ۔ اس ساری گفتگو سے مجھے محسوس ہوا کہ انہوں نے ابا جی کو بھی اپنی تنقید اور تضحیک کا ہدف بنایا ہے۔ یہ بات مجھے سخت ناگوار گزری لیکن میں خاموشی سے بیٹھ گیا۔ چھٹی کے بعد جب میں گھر واپس آیا تو میں نے ابا جی کو واشگاف الفاظ میں بتایا کہ میں نے سکول پڑھنے نہیں جانا۔ وہ بہت پریشان ہوئے اور مجھ سے وجہ دریافت کی لیکن میری ایک ہی رٹ تھی کہ بس میں نے نہیں پڑھنا۔ مجھے اس واقعہ سے اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ عزت ِ نفس بچوں میں بھی ہوتی ہے۔
اس ایک چھوٹے سے واقعے نے میری آئندہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے اور میں نے اپنی چھتیس سالہ طویل تدریسی زندگی میں اپنے طلبا کو کبھی تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا۔ ہمیشہ انہیں پورے نام سے پکارتا اور اُن کی عزت ِ نفس کا پورا پورا خیال رکھتا۔ ابا جی کے اصرار پر میں نے مختصراً سارا قصہ بیان کر دیا۔ بات اُن کی سمجھ میں آ گئی مجھے کہنے لگے آپ کو کسی دوسرے سیکشن میں داخل کرا دیتے ہیں۔ جہاں عبدالمجید صاحب کا کوئی پیریڈ نہ ہو۔ میں اس شرط پر سکول جانے میں رضا مند ہو گیا۔ اگلے دن جب ابا جی عبدالمجید صاحب سے ملے اور انہیں بتایا کہ ہم اپنے بچے کا سیکشن تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ تو ہماری کلاس کا بہت اچھا سٹوڈنٹ ہے۔ ہم اُسے سیکشن تبدیل نہیں کرنے دیں گے۔ آپ ایک بار اس کو مجھ سے ملوائیں میں اس کی غلط فہمی کو دور کرتا ہوں۔ میں نے تو کوئی ایسی ناخوشگوار بات نہیں کی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر درست ہوں لیکن مجھے ابا جی کی تضحیک کا بڑی شدت سے احساس تھا۔ اس لیے میں نے سکول جانے سے صاف انکار کر دیا۔
چار و نا چار میرا سیکشن تبدیل کر دیا گیا۔ نئی کلاس کے انچارج خوشی محمد صاحب تھے اور ہمارے انگلش ٹیچر کا نام بھی خوشی محمد صاحب ہی تھا۔ جو خوشی محمد سپاں والے کے نام سے مشہور تھے۔ اُن کی شکل و شباہت کسی حد تک سکول کے مین گیٹ کے سامنے بازار میں سانپوں کا مجمع لگانے والے سے ملتی جلتی تھی۔ لیکن اُن کی شخصیت، اُن کا طرز تدریس اور طلبا کے ساتھ اُن کا حُسنِ سلوک اس قدر خوبصورت تھا کہ اُن کے طلبا انہیں باقاعدہ آئیڈیالائز کیا کرتے۔ اُن کا اپنا کوئی بچی بچہ نہیں تھا۔ وہ تمام طلبا کو اپنے بچے ہی خیال کیا کرتے۔
اس وقت ایم سی ہائی سکول میں ہر کلاس کے چھ چھ سات سات سیکشن ہوا کرتے تھے اور وہ واحد انگلش ٹیچر تھے جو بچوں کو انگلش جیسا خشک اور مشکل مضمون ایسے انوکھے اور دل چسپ انداز میں پڑھایا کرتے کہ اُن کے طلبا کو یوں محسوس ہوتا کہ جیسے وہ پڑھنے کی بجائے کھلونوں کے ساتھ کھیل رہے ہوں۔ انگلش کے پیریڈ میں اُن کے سامنے پڑا ہوا میز رنگ برنگے کھلونوں سے بھرا ہوتا۔ وہ ایک کھلونا اُٹھاتے اور بچوں سے پوچھتے What is This سارے طلبا بیک زبان اونچی آواز میں جواب دیتے۔ This is a dog۔ اور اس طرح وہ کھیل ہی کھیل میں بچوں کو انگریزی سکھاتے جاتے۔ اُن کا لہجہ نہایت دھیما اور شفقت سے لبریز ہوتا۔ اُن کے طلبا اُن سے ڈرنے کی بجائے دل کی گہرائیوں سے انہیں عزت و احترام دیا کرتے تھے۔ اُن کو کلاس میں کبھی بھی ہم نے غصے کی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔
یہ 1964 کا وہ دور تھا جس میں طالب علموں کی ہڈیاں گھر والوں کی اور گوشت اساتذہ کرام کا سمجھا جاتا تھا لیکن وہ اس دور میں بھی اپنے طلبا کو جسمانی سزا دینے سے حتی الوسع گریز کرتے تھے۔ کبھی کبھار اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی موٹر بائیک کی چابی سے سٹوڈنٹس کے اُلٹے ہاتھ پر دوچار ہلکی ہلکی ضربیں لگا دیتے۔ جو ہم لوگوں کو شرمسار کرنے کے لئے کافی ہوتیں۔
آٹھویں جماعت تک وہ ہمارے انگلش ٹیچر رہے لیکن نویں جماعت میں وہ ہمارے کلاس انچارج بھی تھے۔ اُن کے شاگردوں کو اپنے استاد کی شفقت پر اس قدر بھروسا تھا کہ اگر کسی طالب علم کو یہ خطرہ ہوتا کہ آج مجھے فلاں ٹیچر سزا دیں گے تو وہ اپنی گلو خلاصی کرانے کے لیے بے جھجک اُن سے جا ملتمس ہوتا اور وہ بھی اس کے اعتماد پر پورا اُترتے ہوئے ٹیچر مذکور سے اس کی سفارش کر کے معافی تلافی کر وا دیتے۔
میرے بعد میرے چھوٹے بھائی ارشد کو بھی اُن سے پڑھنے کا اعزاز حاصل رہا۔ ہمارے ساتھ اُن کے تعلقات گھریلو نوعیت کے استوار ہو گئے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں وہ اکثر ماں جی کو ساتھ لے کر ہمارے ننہالی گاؤں میں چلے جایا کرتے تھے۔ ہم تمام طالب علم اُن کی اہلیہ کو ماں جی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ اُن کا ڈیرا باہر زمینوں میں لگا کرتا تھا۔ اس گاؤں کے ساتھ ہی بڈھا دریا بہا کرتا تھا۔ جو گرمیوں میں واقعی دریا کی شکل اختیار کر لیتا اور برسات کے موسم میں تو اس دریا کا پانی گاؤں کو چاروں طرف سے گھیر کر اُسے ایک جزیرے کی شکل میں تبدیل کر دیتا۔
اس زمانے میں زمینداروں کے ڈھور ڈنگر مستقل طور پر گھروں سے باہر زمینوں پر ہی رکھے جاتے تھے اور ہمارے ننہال کے مال مویشی بھی دریا کے کنارے پر موجود اُن کی زمینوں پر رکھے ہوتے اور اس طرح ماسٹر صاحب کا ڈیرہ بھی اُسی دریا کے کنارے پر رہتا اور ماں جی گھر میں خواتین کے ساتھ رہا کرتیں۔ بلکہ گھریلو کام کاج میں اُن کا ہاتھ بھی بٹا دیا کرتیں۔
میرا بی۔ ایس۔ سی کا نتیجہ آیا تو میں تمام مضامین میں فیل تھا۔ کالج سے واپس آ رہا تھا کہ راستے میں وہ مل گئے۔ انہیں صورتِ حال کا علم ہوا تو دریافت فرمایا کہ اب کیا پروگرام ہے تو میں نے انہیں بتایا کہ اب تو تقریباً ڈیڑھ دو ماہ کے بعد سپلیمنٹری امتحان ہے وقت بہت کم ہے۔ اب اگلے سال سالانہ امتحان میں ہی شرکت کرنے کا پروگرام ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تم ریاضی اور انگلش کے پرچوں کی تیاری کرو اور ان کا امتحان سپلیمنٹری میں دے دو اور فزکس کیمسٹری کا امتحان سالانہ میں دے لینا۔ اس سے تیاری بھی بہتر ہو جائے گی اور بوجھ بھی کم پڑے گا اور ایسے کرو کہ آج ہی گھر چلے جاؤ اور وہاں سے اپنی کتابیں اور کپڑے اُٹھا کر ہمارے گھر میں چلے آؤ اور وہاں پر بیٹھک میں اپنا ڈیرہ جمالو۔ تمہاری رہائش کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور تمہاری ماں جی کے پاس رونق بن جائے گی۔ میں نے ایسا ہی کیا، جب ڈیٹ شیٹ آئی تو فزکس اور کیمسٹری کے پرچوں کے ساتھ چار چار پانچ پانچ دن کی چھٹیاں تھیں۔ میں نے چھٹیوں کے دنوں میں ان مضامین کے پرچوں کی تیاری کر کے وہ پرچے بھی دے دیے اور جب میرا نتیجہ آیا تو میں بی۔ ایس۔ سی پاس کرچکا تھا۔ ایسے محبت شفقت اور ہمدردی کے جذبات رکھنے والے اساتذہ اب کہاں ملتے ہیں۔


