جام صاحب کی سٹائلش محبوبہ


جام صاحب ایک سال سے یونیورسٹی کے ایک ”پلاٹ“ پر نظریں جمائے ہوئے تھے، روز وہاں جا کر نظر دوڑاتے کہ یہ اب تک خالی ہے یا پھر کسی اور نے بکنگ کروا لی؟ لیکن ہم سے یہ خفیہ مہم ایسے چھپائی گئی جیسے پلاٹ نہ ہو کوئی نیوکلیئر پروگرام ہو۔

اب صورتحال یہ تھی کہ ہمیں ”پلاٹ وزٹ“ کی دعوت ملنے لگی، یعنی چلو تمہیں بھی دکھائیں تاکہ ہم اپنی ماہرِ نفسیات جیسی آنکھوں سے اندازہ لگائیں کہ وہ محترمہ بھی جام صاحب میں کچھ دلچسپی رکھتی ہیں یا نہیں۔ اب جام صاحب کو کون بتائے کہ جس کو آپ یہ کہہ رہے ہیں وہ تو اپنے دل کے معاملے میں بھی اندھا نکلا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ حقیقت بتائی بھی نہیں جا سکتی تھی اور نہ ہی انکار کیا جاسکتا تھا، کیوں کہ آپ کا رویہ کچھ ایسا تھا جیسے کسی سرکاری دفتر میں درخواست لے کر جانے والے کا ہوتا ہے۔ یعنی ”ایک بار دیکھ تو لوں۔ خیر، ہم نے سوچا، چلو، تفریح ہی سہی اور دوسرا حقیقت بتانے پر جام صاحب کے دل میں جو تھوڑا بہت ہمارے اہل نظر ہونے کا دبدبہ بیٹھا ہوا تھا وہ بھی جاتا رہتا۔

اگلے دن یونیورسٹی میں تلاشِ بے قراری کے سفر پر مجاہد نکلے تو محترمہ کہیں دور دور تک نظر نہ آئیں، لیکن قسمت مہربان تھی کہ کینٹین اور پوائنٹ پلیس کے بیچوں بیچ محترمہ باقی تمام طلبہ سے بالکل الگ تھلگ، مکمل طور پر لاتعلق کھڑی یونیورسٹی کی بس کا انتظار کر رہی تھیں۔

محترمہ نے گلابی دوپٹے کے ساتھ سفید شلوار، اور اوپر سے چھتری ایسے لیے کھڑی تھیں جیسے پانی نہیں بلکہ اخلاقیات کی بارش ہو رہی ہو۔ چھتری کو پکڑے ہوئے محترمہ کا انداز کچھ ایسا تھا کہ جیسے کسی مفتی اعظم نے فتویٰ جاری کیا ہو: ”چھتری کے بغیر باہر نکلنا بے حیائی کے زمرے میں آتا ہے۔

ہم نے دس منٹ تک غیرتِ دوستی اور تجسسِ ذاتی کے تحت جائزہ لیا کہ آیا محترمہ کی یہ ساکت کیفیت کوئی وقتی معاملہ ہے یا ہمیشہ سے ایسے ہی کھڑی رہتی ہیں؟

ایک لمحے کے لئے لگا کہ واقعی جام صاحب کی محبت سچی ہے، جس کی نشانی یہ تھی کہ پوری کائنات کا منظر ساکت تھا، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ لیکن اگلے ہی لمحے دماغ نے عقل کے جھاڑو سے صفائی کی اور کہا، کہ محبت تو جام صاحب کو ہے ناکہ آپ کو۔ ہم نے ادھر ادھر دیکھا تو صرف محترمہ ہی ساکت کھڑی تھی جبکہ باقی کائنات تو پورے زور و شور سے حسبِ معمول چل رہی تھی۔

وہ لڑکی کم، ”سانس لیتا مجسمہ زیادہ لگتی تھی، نہ مسکراہٹ، نہ ہلی، نہ جُلی، نہ آنکھوں میں شرارت، کمال کی بات یہ تھی کہ نہ صرف خاموش کھڑی تھیں بلکہ ہونٹ بھی سلے ہوئے تھے۔

وہ جو صدیوں پرانے محاورے ہیں نا کہ ”عورت اور خاموشی۔ تو وہ سب ہم نے اس دن دھو ڈالے۔ کیوں کہ محترمہ جس وقار اور سادگی سے خاموشی کا مجسمہ بنی کھڑی تھیں، لگتا تھا جیسے خود سکوتِ صحرا نے جسم دھارن کر لیا ہو۔ ہم نے جو گونگی بیگم کی خواہش پال رکھی تھی، وہ آپ کی بابرکت اور“ خاموشی سے دہشت پھیلانے والی ”صورتِ شریف کو دیکھ کر ہمیشہ کے لیے دفن کر دی۔

اب اگر کوئی ہمیں یہ کہتا ہے کہ ”خاموشی نعمت ہے“ ، تو ہم صاف کہہ دیتے ہیں، مگر تب جب وہ بندہ خاموش ہو جسے بولنے سے روکا نہ جا سکے۔

ہم نے پوچھا جام صاحب، ایمانداری سے بتائیں، اس میں اور مونا لیزا کی پینٹنگ کے درمیان کیا فرق ہے؟ ہمارے تجسس بھرے سوال پر جام صاحب نے جواب دیا: ”یہی تو اس کا اسٹائل ہے“ ۔ ہم حیران تھے کہ یہ کب نیا اسٹائل مارکیٹ میں آ گیا ہے؟ اب ہو بھی سکتا ہے کیوں کہ جس طرح ہم پاکستانیوں کا ذائقہ ہے۔ ہم نے جام صاحب سے التجا کی، یار! اگر یہی اسٹائل ہی دکھانا تھا تو ایک عدد اس کی تصویر ہی دکھا دیتے۔ کم از کم ہماری آنکھیں تو نہ جلتی۔

جام صاحب کی پسند نرالی تو ہمیشہ سے تھی، لیکن اتنی نرالی ہوگی، یہ تو ہم نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ یہ وہی جام صاحب تھے جو خریداری کرتے وقت اپنی پانچوں حِسوں کو اس قدر استعمال میں لاتے تھے جیسے کوئی قوال محفل میں بیٹھے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے سارے راگ آزماتا ہے۔

اب ہمیں جام صاحب کی پسند پر سنجیدہ تحقیق کی ضرورت محسوس ہوئی۔ بندہ خوشبو خریدنے جائے تو دکاندار کا آدھا اسٹاک سونگھ کر ختم کر دیتا ہے، جوتے خریدے تو پہلے زمین پر مار کر اس کی جانچ کرے گا، ناصرف دیکھتا ہے، بلکہ اسے چکھنا، سونگھنا، ہاتھ لگا کر محسوس کرنا اور کان لگا کر اس کی دھڑکن بھی ضرور سنتا ہے کہ زندہ ہے کہ نہیں؟ جب باری آئی ہمسفر کی، تو بس ”دور سے دیکھ کے دل دے بیٹھے۔ اب ایسے نفیس ذوق والے شخص نے پسند کیا تو کیا؟ وہی حال جو پاکستانی عوام کے ساتھ ہر الیکشن کے بعد ہوتا ہے۔ ہر بار پوری تحقیق، عقل، تجربہ اور تجزیے کے باوجود تین سے چار سال بعد وہی پرانا انتخاب۔ کچھ عرصہ پہلے ہم مزار قائد پر گئے تو وہاں پر باہر کھڑا گن مین جس طرح مجسمہ کی حالت میں کھڑا ہوتا ہے کچھ اس سے مختلف موصوفہ نہیں تھی۔

گن مین تو خیر اپنے فرائض نبھا رہا تھا، لیکن یہ جو جام صاحب کی ”نگاہِ عقیدت“ ایک سال سے ایک ہی مقام پر جما دی گئی تھی، یہ تو کسی بھی طبیعیاتی قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

ہم حیران تھے کہ جام صاحب کو اس پتھر میں ایسا کیا دیکھ گیا کہ پورا ایک سال اس کے طواف میں نکال دیا۔

یہ کچھ حیران کرنے کے لئے کم تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ محترمہ کو دیکھنے کے بعد ہر دلعزیز شخصیت معصوم نیوٹن صاحب کا تیسرا قانون بھی ہماری نظر میں غلط ہو گیا۔ کیوں کہ آپ کے بقول ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ہوتا ہے جو مقدار میں مساوی لیکن سمت میں مختلف۔ یہاں پر جام صاحب کے سارے کے سارے ایکشن کے باوجود ایک ری ایکشن بھی دوسری جانب نہیں آیا اور جو نیوٹن جیسے سائنسدان کو غلط ثابت کردے پھر ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔ اگر نیوٹن یہ منظر دیکھ لیتا، تو وہ یقیناً اپنے سارے اصول دوبارہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا۔ شاید وہ اپنے تیسرے قانون کو کچھ یوں دوبارہ تحریر کرتا: ”ہر ایکشن کا ری ایکشن ضرور ہوتا ہے، بشرطیکہ سامنے والی پارٹی کسی اور سیارے کی مخلوق نہ ہو۔

ہمیں تو لگتا ہے کہ جام صاحب کا یہ واقعہ سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا نیا میدان کھول سکتا ہے۔ اگر یہ راز کھل جائے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک سال کے متواتر ایکشن کے باوجود دوسری طرف سے کوئی بھی ردِعمل نہیں آیا، تو شاید فزکس کا نوبل انعام بھی جام صاحب کے نام ہو جائے۔

جام صاحب کی ”فیشن بصیرت“ کا یہ عالم تھا کہ لڑکی اپنے جوتے کے تسمے بھی باندھ رہی ہوتی، تو انہیں اس میں ماڈل نظر آتی۔ اگر گلی میں کوئی بھینس گاجر چبا رہی ہو، تو انہیں لگتا وہ مغربی فیشن کی نئی علامت ہے اور اگر کوئی سنجیدہ خاتون کم ہنستی، تو آپ کو اس میں ”گہرائی اور فلسفہ“ دکھائی دیتا۔ یعنی، جو بھی ہلکی پھلکی سی عجیب و غریب خاتون دیکھتے تو آپ کے نزدیک وہ ”سٹائلش“ تھی۔

اب دوسروں کے بارے میں تو چلو کسی حد تک مان بھی لیتا کہ کہیں نہ کہیں کوئی فیشن، کوئی انداز ہو سکتا ہے، لیکن اس محترمہ میں؟

اسٹائل تو وہ ہوتا ہے جو بندے میں حرکت، جاذبیت اور تھوڑی بہت زندگی کی رمق دکھائے، مگر محترمہ تو یوں کھڑی تھیں جیسے کسی مجسمہ ساز نے رقم نہ ملنے کی باعث اپنا کام ادھورا چھوڑ دیا ہو۔ قبر میں لیٹے ہوئے مردے بھی شاید کروٹ بدل لیں، مگر یہ؟ فرق بس اتنا تھا کہ وہ لیٹے ہوتے ہیں، اور یہ کھڑی تھیں۔

سنا تو تھا پیار اندھا ہوتا ہے لیکن دیکھ ہم جام صاحب کی صورت میں رہے تھے۔

ہمیں محترمہ کا اس طرح کھڑا ہونا اسٹائل کم سزا زیادہ لگا اور اگر خدا نخواستہ ہمیں کچھ وقت کے لئے اس طرح کھڑے ہونے کو کہا جاتا تو ہم مرنا پسند کرتے لیکن اس طرح کھڑے ہرگز نہ ہوتے۔

اگر ہمیں جام صاحب عزیز نہ ہوتے تو ہم محترمہ کے اس ”انقلابی اسٹائل“ پر اتنا کچھ لکھتے کہ فیشن کی دنیا میں تہلکہ مچ جاتا اور شاید محترمہ کو کسی عجائب گھر میں رکھوا دیا جاتا کہ ”یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے کھڑے ہونے کو اپنی قابلیت کے بل بوتے پر آرٹ میں تبدیل کر دیا۔

Facebook Comments HS