افغان مہاجرین کا انخلا
افغان مہاجرین کی واپسی کے سلسلے میں یکم اپریل سے شروع ہونے والے آپریشن میں مجموعی طور پر طورخم کے راستے اب تک 1 ہزار 355 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈر اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے پاکستان بدر کر دیے گئے ہیں، اس حوالے سے محکمہ داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال ستمبر سے اب تک 4 لاکھ 81 ہزار 285 افغان باشندوں کو طورخم کے راستے افغانستان بھیجا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں پچھلی چار دہائیوں سے مقیم لاکھوں افغان مہاجرین کو گزشتہ ماہ حکومت پاکستان نے ملک چھوڑنے کے لیے 31 مارچ تک کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ یہ اقدام گزشتہ چند سالوں میں افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے پاکستان کی مہم کا ایک اور مرحلہ ہے۔
سیاسی اور سماج حلقوں میں یہ سوال شد و مد سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر اچانک ایسی کون سی افتاد ٹوٹ پڑی ہے جس سے مجبور ہو کر پاکستان نے چار دہائیوں سے یہاں رہائش پذیر افغان پناہ گزینوں کو ایک شارٹ نوٹس پر پاکستان سے نکلنے کا حکم دیا ہے جس نے لاکھوں افراد کو شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جب کہ دوسری جانب یہ حکم ایسے حالات میں جاری کیا گیا ہے جب افغانستان کے اپنے حالات امن وامان کے علاوہ سماجی اور کاروباری لحاظ سے انتہائی دگرگوں ہیں۔ اس فیصلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل حکومت اپنے ملک میں پناہ لینے والے شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر رہی ہے جب کہ اس دوران پاکستان میں خاص طور پر سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے تنگ آ کر پاکستان کو یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا ہے جس پر افغان حکام نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی مرحلہ وار واپسی کے لیے مشترکہ طریقہ کار تیار کیا جائے اور کہا ہے کہ جبری بے دخلی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے۔ وزارت مہاجرین و واپسی کے ترجمان مفتی عبدالمطلب حقانی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کو واپس لانا افغان حکومت کی پالیسی ہے لیکن یہ عمل پاکستان کے ساتھ مشترکہ طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے تاکہ پناہ گزینوں کی واپسی آہستہ آہستہ اور باعزت طریقے سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہماری درخواست ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو زبردستی بے دخل نہ کیا جائے کیونکہ یہ عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے بلکہ اسلامی اقدار اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے بھی خلاف ہے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک کمیشن قائم کیا ہے جو پناہ گزینوں کی حفاظت اور مدد کرے گا، انہیں ملک کے مختلف حصوں میں زمین دی جائے گی اور ہنر مند پناہ گزینوں کو ملازمتیں دی جائیں گی۔ جو لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، ان پر پانچ سال تک کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، اور جو کچھ وہ ملک میں لائیں گے، اس پر بھی کوئی ٹیکس نہیں ہو گا۔
درحقیقت پاکستان اور افغانستان کے مابین رشتہ صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، مذہب اور انسانیت کا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے دامن میں پناہ دی۔ ان مہاجرین میں بچے، خواتین، بزرگ اور وہ خاندان شامل تھے جو اپنے وطن میں جنگ، بدامنی اور افلاس سے تنگ آ کر یہاں آئے۔ تاہم حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی واپسی کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، وہ نہ صرف ایک بڑی انتظامی تبدیلی ہے بلکہ اس کے سیاسی، سماجی اور سفارتی پہلو بھی گہرے اثرات رکھتے ہیں۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ پاکستان جو چار دہائیوں تک مہاجرین کی میزبانی کرتا رہا ہے کو اچانک اس انخلاء کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا ہے اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما بتائے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک اہم وجہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ کو قرار دیا جاتا ہے، جن میں کچھ شدت پسند عناصر کی افغانستان سے وابستگی کی رپورٹس بھی سامنے آئیں ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے خبردار کیا کہ غیر رجسٹرڈ افراد کی موجودگی داخلی امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی طرح لاکھوں افغان باشندے پاکستان میں بغیر کسی قانونی حیثیت کے مقیم تھے۔ ان کی شناخت، ٹریکنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے متعدد سماجی و انتظامی مسائل نے جنم لیا۔ پاکستان کو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور مالی عدم استحکام جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں ایک بڑی تعداد میں غیر ملکی آبادی کے قیام نے حکومتی وسائل پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے اس وجہ کو بھی افغان مہاجرین کے انخلاء کے فیصلے سے جوڑا جا رہا ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقوں میں مقامی عوام میں یہ تاثر بڑھ رہا تھا کہ مہاجرین مقامی روزگار، تعلیم اور صحت جیسی سہولیات پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ اس تناظر میں حکومت پر فوری اقدام کا دباؤ بڑھا۔ اسی طرح مہاجرین کی کفالت میں بین الاقوامی برادری کی دلچسپی میں کمی اور امداد کی کمی نے بھی پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔ یہ فیصلہ اگرچہ ملکی سلامتی اور نظم و نسق کے تناظر میں جائز ہو سکتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد میں یقیناً کئی چیلنجز حائل ہیں مثلاً واپسی کے لیے مہاجرین کو درکار رہائش، خوراک، علاج اور ٹرانسپورٹ جیسی سہولیات ناکافی ہیں۔ بہت سے افراد کے پاس مہاجر کارڈ یا شناختی دستاویزات نہیں، جس سے ان کی قانونی حیثیت اور واپسی میں دشواری ہو رہی ہے افغانستان واپس جانے والے افراد کے لیے روزگار، تحفظ، اور رہائش کی سہولیات محدود ہیں، جس سے ان کی دوبارہ ہجرت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح افغان مہاجرین کی اچانک واپسی نے پاک افغان تعلقات میں بھی ایک نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے، افغان حکومت اسے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف سمجھتی ہے، جس سے دوطرفہ اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ عوامی سطح پر منفی جذبات ابھرنے کے امکانات ہیں، جو عوامی سفارتکاری اور ثقافتی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر مہاجرین کی نقل و حرکت کو مناسب انداز میں منظم نہ کیا گیا تو اس کے انتہائی منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے جیسے اقوام متحدہ، مہاجرین کے حقوق کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ ڈال سکتے ہیں جس سے سفارتی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت دونوں ممالک کے لیے حکمت، دور اندیشی اور باہمی احترام سے فیصلے کرنے کا ہے۔ واپسی کے عمل کو تدریجی اور منظم انداز میں مکمل کیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں واپس جانے والے مہاجرین کی بحالی کے لیے فنڈز اور تکنیکی معاونت فراہم کرے۔ پاکستان اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ کھلے دل سے مذاکرات کریں اور ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کریں جس میں انسانی حقوق، قومی سلامتی، اور علاقائی ہم آہنگی کا توازن برقرار رکھا جا سکے اور یہ سارا عمل دو طرفہ تعاون، مشاورت اور باہمی رضامندی اور خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے یہ طرز عمل دونوں برادر پڑوسی ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہو گا بصورت دیگر پہلے سے موجود غلط فہمیوں اور تناؤ میں مزید اضافے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔


