بلوچستان۔ انگریز جنرل ”ڈائر“ کی ڈائری سے ایک ورق


ہم انگریزوں کے ڈپلومیسی اور سیاسی چالبازیوں سے متعلق جو بھی رائے رکھتے ہیں لیکن ان کی جراءت، استقلال اور حاکمانہ صلاحیتوں کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ انگریز جو نہ یہاں کے زبان سے واقفیت رکھتے تھے، نہ یہاں کے رسم و رواج سے اور نہ یہاں اس سر زمین پاک و ہند کے نشیب و فراز اور اب و ہوا سے، سات سمندر پار سے آ کر یہاں کے بسنے والوں سے پہلے رابطے قائم کرتے ہیں، پھر لڑتے ہیں، دربار منعقد کرتے ہیں، عہد و پیمان اور قول و قرار کے طومار باندھتے ہیں اور نہ صرف یہاں کے حکمرانوں سے تخت چھین لیتے ہیں بلکہ یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک بھی بن جاتے ہیں۔ انگریزوں نے نہ صرف بندوبستی علاقوں پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیے ساتھ ساتھ اپنی طاقت کے جلوے ان سرزمینوں میں بھی دکھا دے دیں جو آج تک ہمارے لیے درد سر اور ایک قسم کے نو گو ایریاز بنے ہوئے ہیں جس میں فاٹا کے قبائلی علاقے اور بلوچستان کا خطہ قابل ذکر ہیں۔

آج کے نسبتاً ترقی یافتہ اور روشن دور میں بھی جبکہ ہر طرف بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے، ٹرین اور مسافر بردار بسیں دوڑتی پھرتی ہیں، اس کے باوجود آج بھی اس علاقے میں سفر کرتے ہوئے دلوں میں ایک ہول سا اٹھتا محسوس ہوتا ہے تو اس طول و طویل اور بے برگ و بار سر زمین اس کے تپتے ہوئے صحرائے اور سنگلاخ چٹانیں انگریز سوا صدی پہلے اس وقت اپنے گرفت میں لائے جب رسل و رسائل اور نقل و حرکت کے ذرائع نہایت محدود تھے۔

ہندوستان کے جلیانوالہ باغ امرتسر کے مشہور عالم واقع کے بدنام زمانہ قاتل جنرل ڈائر اپنی سرگزشت کے ایک حصے کے طور پر ”ریڈرز اف دی سرحد“ کے نام سے چھاپہ مار بلوچوں کی ایک روئداد لکھا ہے جو ”بلوچستان کے سرحدی چھاپہ مار“ کے نام سے میر گل خان نصیر نے ترجمہ کیا ہوا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک مہم کی روئداد ہے بلکہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت سے سیاسی حکمت عملی، سپاہیانہ جراءت و استقلال اور حاکمانہ تدبر کی منہ بولتی ثبوت بھی ہے۔ کتاب اس وقت کے ایک ایسی مہم کے روئداد ہے جو جنگ عظیم اول کے دوران فارس اور بلوچستان کے سرحدی راہزنوں کے خلاف مسلح طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ دھونس اور دھمکیوں سے روبہ عمل آئی۔

جنرل ڈائر بلوچ چھاپہ ماروں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”اگر چہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کا برتاؤ بالکل وحشیانہ ہوتا ہے لیکن اپنے بین القبائلی چند اصولوں کی وہ سخت پابندی کرتے ہیں“ ۔ ”ان کے کچھ اپنے اخلاقی ضابطے بھی ہیں جن کہ وہ سختی سے پابندی کرتے ہیں مثال کے طور پر اگر وہ ایک مدعو مہمان کے حیثیت سے آپ کے پڑاؤ میں آئیں یا آپ ایک مدعو مہمان کے حیثیت سے ان کے پڑاؤ میں جائیں تب دغا بازی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“ ۔ ”یہ لوگ چھوٹی موٹی لڑائیاں بہت اچھی طرح سے لڑتے ہیں اور اگر ان کی صحیح رہنمائی کی جائے تو یہ ہر لڑائی بڑی بہادری سے لڑیں گے۔ یہ لوگ اپنے رہنماؤں پر مکمل اعتماد کرتے ہیں“ ۔

ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ جسے آج ہمارے ذہن ساز سمجھ نہیں پا رہے ان جیسے خواتین کے بارے میں ڈائر لکھتے ہیں کہ ”بلوچ عورتیں بالخصوص خوبصورت ہوتی ہیں اور ان کا رنگ عموماً مردوں سے نکھرا ہوا ہوتا ہے۔ ان عورتوں کی قوت برداشت بھی حیرت انگیز ہوتی ہے۔ وہ سنگلاخ چٹانوں پر بھی اپنے مردوں کے طرح چابک دستی سے چڑھتی ہیں۔ اپنی گردشوں کی دوران طویل مسافتیں طے کرتیں اور گرمیوں کے جھلسا دینے والے دنوں اور سردیوں کی یخ بستہ راتوں کی تکالیف کو بھی بڑی ہمت اور استقلال سے برداشت کرتی ہیں“ ۔

ہمارے فیصلہ ساز جو صرف طاقت پہ یقین رکھتے ہیں اور ہر مسئلے کا حل بندوق کے نوک پہ ہی چاہتے ہیں۔ ہمیشہ سے ہی ہم نے معاملات سمجھنے سلجھانے سے پہلے صرف طاقت کے استعمال پہ ہی اکتفاء کیا، جزوی طور پہ تو حالات کچھ بہتر ہوئی پر دور رس نتائج پر افروز نہیں نکلیں۔

بلوچ چھاپہ ماروں کے شورش کو ختم کرنے کے لیے جنرل ڈائر اپنی تعیناتی کی دن سے ہی اپنے لیے مستقبل کا نقشہ کچھ اس طرح سے کھینچا ”کہ ابتدائی کارروائی کے طور پر پہلے یہ ٹھیک ٹھیک معلوم کروں کہ ان چھاپہ ماروں کی اصل حقیقت کیا ہے۔ انتہائی کوشش کر کے ان پر یہ ثابت کردوں گا کہ وہ اپنے حرکتوں کے پاداش سے آئندہ نہیں بچ سکیں گے۔ اس بات کے ذہن نشین کرانے کے بعد میں ان سے دوستانہ تعلقات استوار کر کے ان کو پھر اپنا طرف دار بنانے کا کوشش کروں گا اور اس طرح ان کو بلوچستان کی سرحد کے دروازے کا ایک ایسا محافظ بنا دوں گا کہ ان کے رائفلوں کا رخ ہمارے بجائے ہمارے دشمنوں کی طرف ہو گا“ ۔

انسانی حقوق کے تحفظ، دستیاب قدرتی وسائل کا منصفانہ تقسیم، ریاستی اداروں کا اپنے حدود میں رہنا، کسی بھی گروہ و فرقے کے ریاستی سرپرستی نہ کرنا، منصفانہ و شفاف انتخابات اور جینوئن بلوچ قیادت کو قومی و صوبائی بھاگ دوڑ میں حصہ دار بنا دینے سے ہم بھی بلوچ کو ریاست کا محافظ بنا سکتے ہیں۔ بس یہی تھوڑی سی گزارش تھی۔

Facebook Comments HS