جلیانوالہ والا باغ کے قتل عام کا 106 واں برس
یکم بیساکھ 1976 بکرمی بہ مطابق 13 اپریل 1919 عیسوی کو مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر کے بیچ میں واقعہ جلیانوالہ باغ میں کرنل ریجنالڈ ڈائر کے حکم سے نہتے مسلمان، ہندو اور سکھ شہریوں پر برطانوی فوج کے پچاس سپاہیوں نے براہ راست گولیاں چلا کر ان کا ظالمانہ قتل عام کیا۔
اس قتل عام کا باعث برطانوی ہند کا بد نام زمانہ رولٹ ایکٹ مجریہ 21 مارچ 1919 تھا جس کے مطابق مظاہروں اور ہڑتالوں پر پابندی لگانا تھا اور چار سے زائد شہریوں کا اکٹھا ہونا بھی ممنوع تھا اور اسی ایکٹ کے تحت کرفیو بھی نافذ کیا جا سکتا تھا۔ اس قانون کا مقصد ہند کے شہریوں کے بنیادی حقوق پر پابندی لگانا تھا۔
اس دن یکم بیساکھ تھی۔ امرتسر میں گندم کی کٹائی کا تہوار اور میلہ بیساکھی شروع تھا۔ سب لوگ، خصوصاً سکھ کثیر تعداد میں جلیانوالہ باغ میں موجود تھے۔ جلیانوالہ باغ امرتسر شہر کے درمیان میں واقع تھا جس کا رقبہ چھ یا سات ایکڑ تھا۔ اس کے پانچ داخلی اور خارجی راستے تھے۔ اس میں موسمی سبزیاں اور فصلیں بھی کاشت ہوتی تھیں، لیکن زیادہ تر یہ باغ عوامی اجتماعات، میلوں ٹھیلوں اور سیرو تفریح کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔
برطانوی کرنل ریجنالڈ ڈائر کو خبر ملی تو اس نے ہوائی جہاز سے اس اجتماع کا جائزہ لیا اور اپنے پچاس فوجیوں کو مختلف قسم کی بندوقوں سے لیس کر کے نہتے شہریوں پر غیر علانیہ گولی چلانے کا حکم دے دیا۔ برطانوی سپاہی اس وقت تک گولیوں کی بوچھاڑ کرتے رہے جب تک ان کی گولیاں ختم نہ ہو گئی تھیں برطانوی فوجی 10 منٹ تک لگاتار گولیاں چلاتے رہے جن کی تعداد 1650 تھی۔ چشم زدن میں سینکڑوں شہری لقمہ اجل بن گئے، گولی چلنے سے ایک بھگڈر مچ گئی اور بہت سے لوگ پاؤں تلے آ کر کچلے گئے۔ کچھ لوگ باغ کے درمیان میں واقع کنویں میں گر کر جان بحق ہو گئے۔ کنویں سے تقریباً 150 لاشیں نکالی گئیں۔ کرفیو کے باعث لاشیں اٹھانا اور ان کی آخری رسومات ادا کرنا بھی ناممکن تھا۔ اس قتل عام سے پورے ہندوستان میں ایک کہرام مچ گیا اور ہر جگہ مظاہرے شروع ہو گئے۔ سب سے پہلا مظاہرہ 15 اپریل 1919 ء کو گوجرانوالا میں ہوا۔ اس واقعہ کے خلاف رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنا سر کا خطاب واپس کر دیا۔ مہاتما گاندھی نے انگریزی حکومت کے خلاف عدم تعاون تحریک شروع کر دی۔ اس واقعہ سے انگریزی حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ جلیانوالا باغ کے قتل عام کو ہندوستان کی تحریک آزادی میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور اسے برطانوی حکومت کے ظلم و ستم کے ایک بڑے واقعہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق اس قتل عام میں 380 افراد ہلاک ہوئے اور 1100 افراد زخمی ہوئے جب کہ دوسرے ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 1000 سے زائد تھی اور زخمی افراد 1500 تھے۔ برطانوی لفٹیننٹ جنرل مائیکل اوڈوائر اور کرنل ریجنالڈ ڈائر کی برطانیہ میں بہت تعریف کی گئی جس کے باعث ہند میں مزید اشتعال پیدا ہو گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل مائیکل اوڈوائر کو لندن کنگسٹن ہال میں اودھم سنگھ نے 21 برس بعد 13 مارچ 1940 کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اودھم سنگھ کو بعد ازاں 31 جولائی 1940 کو اس جرم کے باعث پھانسی دے دی گئی۔ وزیر اعظم ہندوستان نہرو نے اودھم سنگھ کو شہید اعظم قرار دیا اور اسے جنگ آزادی کا ایک عظیم سپوت قرار دیا۔ کرنل ریجنالڈ ڈائر بھی 1927 کو راہی ملک عدم ہوا۔
جلیانوالہ والا باغ کے اس قتل عام کو بہت سی فلموں، کتابوں، ڈراموں اور تحاریر کا موضوع بنایا گیا ہے۔
1977 ء میں جلیانوالہ باغ کے نام سے ہندی زبان میں فلم بنائی گئی۔
1980 ء میں سلمان رشدی کے ناول مڈ نائٹ چلڈرن میں اس واقعہ کا تذکرہ کیا گیا۔
1982 ء کی فلم گاندھی میں بھی اس واقعہ کو عکس بند کیا گیا ہے۔
2002 ء میں لیجینڈ آف بھگت سنگھ
2006 کی ہندی فلم رنگ دے بسنتی
2009 میں بالی رائے کے ناول سٹی آف گھوسٹس اور 2014 کے انگریزی ڈرامہ ڈاؤن ٹاؤن میں اس قتل عام کے جزوی یا مکمل واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

