سنگل پاور امریکہ


جب ہم ٹرمپ کے امریکہ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ مزید سپر پاور رہنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ امریکہ دنیا بھر میں صرف سنگل پاور بننا چاہتا ہے۔ یہ مرض کوئی خاص امریکہ کو لاحق نہیں ہے۔ طاقت کی دوڑ میں شامل ہر فرد، گروہ، سماج اور ملک اس قسم کے وہم کا شکار ہو جاتا ہے جب اس کو لگتا ہے کہ ساری دنیا کی طاقت پر صرف اسی کا حق ہے۔ امریکہ نے اپنی جارحانہ پالیسی کے سامنے کسی دوست اور دشمن کا فرق نہیں رکھا ہے۔ پالیسی چاہے داخلہ ہو یا خارجہ، اس میں شدت اور جارحیت کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ امریکہ اندر اور باہر، دونوں طرف سے بہت ہی تیز اور ہنگامی تبدیلی کی زد میں ہے۔

امریکی رویہ یکسر بدل چکا ہے۔ اب امریکہ کو کسی بھی انسانی فلاح و بہبود کی تنظیم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ امریکہ ایسے تمام اداروں سے دست بردار ہو رہا ہے۔ یہاں بہت اہم سوال ہے کہ اس سے پہلے بھی امریکی کو واقعی انسانی حقوق اور فلاح سے غرض تھی یا پھر اس غرض کے نام پر وہ اپنے دوسرے اغراض و مقاصد حاصل کر رہا تھا۔ امریکہ کو اگر انسانی فلاح سے واقعی کوئی غرض ہوتی تو وہ فلسطین کو تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالرز کا فنڈ مختص نہ کرتا۔ امریکہ بس طاقت کا کھلاڑی جس کا نہ پہلے کوئی انسان اور انسانیت سے تعلق تھا نہ اب ہے۔ برسوں سے امریکہ میں پناہ گزین اور شہریت رکھنے والوں کو اچانک یہ خبر سنائی جاتی ہے کہ آپ کے پاس ملک چھوڑنے کے لیے ایک خاص مہلت ہے ورنہ آپ کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔

تجارتی تعلقات میں بھی امریکہ اب تجارت نہیں ٹیرف کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔ وہ امریکہ جو خود کو انسانیت کے تحفظ کا علمبردار کہتا تھا وہ اب اپنے ویزہ اور پاسپورٹ کی پالیسی میں انتہائی سختی اور تنگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ جس امریکہ کو دنیا بھر میں علم کی شمع جلانے کی چاہت تھی وہ طالب علموں کے ویزے منسوخ کر کے ان کی تعلیمی مستقبل کو راکھ کرتا نظر آتا ہے۔ پہلے امریکہ کی پالیسی دوسرے چھوٹے ممالک سے دفاعی الحاق کی تھی لیکن اب وہی امریکہ دوسرے ممالک کو اپنی کالونی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوکرین سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کو ترک کرنے کے منصوبے پر آمادہ کرنے والا امریکہ اب اسی یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ میں دھکیل کر مزید تعاون کے لیے ان سے معدنی ذخائر پر قبضہ مانگ رہا ہے۔ بھارت کو دوست کہنے والا امریکہ سب سے پہلے بھارتی شہری ملک بدر کر رہا ہے۔ نیٹو اور یورپی یونین کو پل بھر میں تنہا چھوڑ کر امریکہ اپنی راہ چلتا بنا ہے۔ امریکہ یہ سب کچھ ایسے کر رہا ہے جیسے کوئی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے۔ امریکہ میں ایک اکھاڑ پچھاڑ کا عمل شروع ہے جس کی زد سے بچنا بہت ہی مشکل یو چکا ہے۔

دنیا بھر میں جارحیت پھیلانے کی کوشش میں مصروف امریکہ انتہائی حیرت انگیز طور پر اپنے سب سے بڑے دشمن روس کے ساتھ امن کا خواہاں ہے۔ اپنے دوست یوکرین کو ذلیل کر کے روس کو جنگ بندی کے معاہدے میں برتر سطح پر پہنچانے والا اور کوئی نہیں صرف امریکہ ہے۔ روس نے ہی جنگ مسلط کی اور روس کی شرائط پر جنگ بندی کی طرف حالات کو لے کر جانے میں امریکی ہاتھ بالکل سرگرداں اور نمایاں نظر آتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں میں صرف اتنا کہوں گا کہ ان کی دانش مندی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے مدبر ہونے کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں روس کے صدر ان کو ذہین و فطین گردانتے ہیں۔ آپ خود ہی سوچیں کہ وہ صدر کتنا امریکہ دوست ہو گا جس کو اس کا سب سے بڑا دشمن قابل اور ماہر کہتا ہے۔

اس وقت امریکہ پر جو پالیسی غالب، اسرائیل کی وضع کر دہ پالیسی ہے۔ امریکہ کو صرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے ہیں اور سب سے زیادہ اس کا تحفظ کرنا ہے چاہے اس کے لیے لاکھوں فلسطینی شہریوں کا قتل کرنا پڑے، پناہ گاہوں پر بمباری کرنی پڑے، گھروں پر بھاری بم گرانے پڑ جائیں، طبی امداد کو روکنا پڑ جائے، طبی ماہرین کو اور صحت کے مراکز کو جلانا پڑے، کوئی بھی ایسی چیز جو امریکہ کی نظر میں اسرائیل کو ناپسند ہو، امریکہ اس پر بم گرانے کو تیار ہے۔

امریکہ اس وقت دنیا کو ایک سنگین بحران میں دھکیل رہے لیکن وہ خود بھی اس میں گر رہا ہے۔ امریکہ ہر جگہ ہنگامہ آرائی پر اتر آیا ہے۔ اس نے دفاعی، تجارتی، خارجی، سفارتی، الغرض ہر ایک جگہ پر محاذ آرائی شروع کی ہے۔ امریکہ ایک خلا پیدا کر رہا ہے اور اس خلا کی وجہ سے بہت سے فسادات برپا ہو رہے ہیں اور مزید بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس تمام صورتحال میں ہونے والی تباہی کا اندازہ اس وقت ہو گا جب یہ بے ہنگم طوفان تھم جائے گا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

Facebook Comments HS