ہم حادثہ ہیں، پر انتشار سے خالی نہیں


تمہاری زندگی ایک حادثاتی پیدائش کا نتیجہ ہے، یہ بات سنتے ہی تم حیران ہو گے۔ اگر تم غور کرو تو لاکھوں تولیدی خلیات کی دوڑ میں صرف تم ہی کیوں کامیاب ہوئے؟ یہی کامیابی تمہارے وجود کی بنیاد بنتی ہے۔ تو اس پر اترانا کیسا؟ فخر کیسا؟ یا اسے تحفہ سمجھنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ کیا تمہاری پیدائش کے عمل میں کوئی قدرتی منصوبہ بندی تھی یا محض حیاتیاتی عمل؟ کیا اس پیدائش سے قبل تمہارا کوئی وجود یا اس کا کوئی ثبوت یا شعوری طاقت موجود تھی؟ اگر تھی تو کہاں تھی اس کا کوئی ثبوت کہاں ہے۔

کبھی رکے ہو؟
سوچا ہے کہ تم کیوں ہو؟
کیسے ہو؟
اور کیوں اب ہو؟
تم ہو۔ کیونکہ ایک تولیدی دوڑ میں تم جیت گئے۔
نہ کوئی طبل بجا، نہ کوئی آسمان چمکا، نہ بجلیاں کڑکیں، نہ بادل گرجے، نہ طوفان آیا۔
تم ہو۔ کیونکہ حادثہ ہوا۔
لیکن اس حادثے کے ساتھ ہی تم پر ایک ان کہی، گہری، اور خاموش ذمہ داری آن پڑی ہے،
تمہیں خود کو معنی دینا ہے،
زندگی کو بنانا ہے، جینا ہے،
اپنے اُصول گھڑنے ہیں،
انسانیت سیکھنی ہے، گیان سیکھنا ہے، اور اِیک دن مرنا ہے۔

اب اس سے متعلق کچھ گفتگو کرتے ہیں، اگر ہم وجودیت (Existentialism) کے فلسفے کے مطابق دیکھیں تو، زندگی ہمیں دی نہیں گئی، بلکہ ہم اسے بناتے ہیں۔ زندگی وہ نہیں جسے آپ تحفہ سمجھیں یا عظیم کارنامہ، بلکہ زندگی وہ ہے جسے آپ با معنی خود بنائیں۔ وجودی فلسفہ کہتا ہے کہ انسان پہلے پیدا ہوتا ہے، پھر اپنے عمل، خیال اور رویے سے اپنے وجود کو معنی دیتا ہے۔ قسمت، مقدر یا کوئی مافوق الفطرت قوت ہمیں معنی عطا نہیں کرتی، بلکہ ہم خود اپنی زندگی کو بامقصد بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنی ہر حرکت کی ذمہ داری لینا ہوتی ہے۔ ہمیں پیدا ہوتے ہی اس دنیا میں ایک خلا کا سامنا ہوتا ہے، جسے ہم نے اپنے جذبات، محبت، خدمت اور تخلیق کے ذریعے پُر کرنا ہوتا ہے۔ یہ خلا ہمیں آواز دیتا ہے کہ ہم کچھ بنیں، کچھ کریں، اور دوسروں کی زندگی میں بہتری لائیں۔ اس لئے آپ کو کسی چیز پر انحصار کر کے معنی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لئے آپ کو گھنٹوں لیکچر سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اب اس کے ساتھ ہی آپ پر یہ بھی ذمہ داری آن کھڑی ہوتی ہے کہ مستقبل میں جن بچوں کو آپ دنیا میں لانا چا رہے ہیں، اس کو بھی اتنا ہی پیار، محبت، تعلیم، سکون ملنا چاہیے جتنا آپ اپنے لئے تصور کر سکتے ہیں کیونکہ وجود ایک بوجھ ہے، اگر اسے اچھے طریقے سے اٹھانے کے لئے اسباب میسر نہ ہوں تو یہ ایک تکلیف دہ اذیت ہے۔

اسی بات کو خوبصورتی سے اُردو کے عظیم شاعر ن۔ م۔ راشد اپنی نظم ”زندگی سے ڈرتے ہو؟“ میں لکھتے ہیں، میں مخصوص اشعار کو نیچے درج کر رہا ہوں،

زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے
”ان کہی“ سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
پہلے بھی تو گزرے ہیں
دور نارسائی کے ”بے ریا“ خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندی
روشنی سے ڈرتے ہو
روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں

راشد ہمیں چیلنج کرتے ہیں کہ ہم خواب دیکھیں، اپنی مرضی سے زندگی کو معنی دیں، اور خود کو دریافت کریں۔ ان کے کلام میں زندگی سے محبت، خودی، اور بغاوت کی ایک جھلک ہے، جو وجودی فلسفے کا مرکزی نقطہ ہے۔

آخر میں، یہ کہنا درست ہو گا کہ زندگی ایک حادثہ ہو سکتی ہے، غیر یقینی ہو سکتی ہے، مگر اسے خوبصورت، بامعنی، اور بامقصد بنانے کا عمل مکمل طور پر ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں انتظار نہیں کرنا کہ کوئی اور ہمیں راستہ دکھائے، ہماری مشعل پکڑے، ہمیں راہ دکھائے، بلکہ ہمیں خود ہی اپنے وجود کا چراغ روشن کرنا ہے۔ ہمیں خود ہی جلنا ہے، سُلگنا ہے، روشنی کا مینار بننا ہے، اپنے لیے، اپنے قریب راہ تلاش کرتے ننھے معصوم ماہی گیروں کے لیے جو اندھیری رات میں کنارے سے بھٹک کر بیچ سمندر عازِم سفر ہوچکے ہیں۔

Facebook Comments HS