پھر یہ سودا گراں نہ ہو جائے
سیدنا نظام الدین اولیاؒ کے ملفوظات کا مجموعہ فوائد الفواد (یعنی قلوب کا فائدہ) ان کے مرید خاص علائوالدین سنجری نے مرتب کیا ہے۔ راہ سلوک کا مسافر اگر طلب صادق رکھتا ہو تو تالیف قلب کے لیے یہ بے حد عمدہ کتاب ہے۔ اس میں کچھ بہت نایاب وظائف بھی ہیں جو بہت سوں کے لیے باعث فیض رہے ہیں۔ آپ کے بستر کے سرہانے رہنے کے لائق کتاب کو گاہے گاہے پڑھا کیجیے۔ اس کتاب میں خانقاہِ نظامیہ پر ہونے والی مجالس اور وہاں ہونے والی گفتگو کا احوال درج ہے۔ ایک ایسی ہی مجلس 28 محرم الحرام 714 ہجری میں منعقد ہوئی یعنی آج سے ٹھیک 723 سال پہلے۔ یہ لگ بھگ سن 1293 عیسوی بنتا ہے۔ سن و سال کا ذکر اس لیے لازم ہے کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ لاہور کے حالات کچھ زیادہ نہیں بدلے۔ بے ایمانی کا جو ریت رواج 1293 میں تھا وہ آٹھ صدیاں گزرنے کے بعد بھی یونہی جاری ہے۔
22
سیدنا نظام الدین اولیاؒ لاہور پر نازل ہونے والی آفات کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ لاہور کے کچھ تاجر مال تجارت لے کر گجرات گئے۔ ان دنوں بھارت کا یہ علاقہ ہندوؤں کے زیر تسلط تھا۔ خریدار حیران تھے کہ لاہور کے مسلمان تاجر ہر شے کا دام ابتدا میں دگنا بتاتے ہیں اور نصف سے بھی کم پر بھاؤ تاؤ کم کر کے فروخت پر رضامند ہو جاتے ہیں۔ گجرات کے ہندو تاجروں کے لیے بہت اچنبھے کی بات تھی۔ وہ سودے کے بہت کھرے تھے۔ کم منافع رکھ کر ایک دام بتاتے تھے۔ بتائی گئی قیمت میں ہرگز کسی طور کمی نہ کرتے تھے۔ وہاں کے خریداروں کو بھی بھاؤ تاؤ کی عادت نہ تھی۔ انہیں سودے اور دام دونوں ہی پر مکمل وشواس ہوتا تھا۔
لاہور کے تاجروں سے اہل گجرات نے پوچھا کہ وہاں سودا ایسے ہی ہوتا ہے تو وہ کہنے لگے کہ ہمارے ہاں کا طور طریقہ تو یہی ہے کہ ٹھوک کر دام مانگتے ہیں، پھر گاہک جتنے میں کٹ جائے۔ گجرات کے باسی کہنے لگے ”حیرت ہے اس بے ایمانی پر بھی وہ شہر آباد ہے۔ غارت نہیں ہوتا“ ۔ تاجروں کا یہ قافلہ واپس لاہور لوٹ رہا تھا تو اطلاع ملی کہ پنجاب پر منگولوں نے حملہ کر دیا ہے۔ لاہور اب بھی کچھ مختلف نہیں لگتا۔ دبئی میں ایک بچے نے دوسرے بچے سے کہا :ہم اب گوشت صرف بقر عید پر کھاتے ہیں تو اس کے دوست نے کہا ”کیا تم لوگ غریب ہو تو جواب ملا نہیں ہم لاہور میں رہتے ہیں“۔ سرکار کے مختلف پروجیکٹس کا ریکارڈ جس تواتر سے جلتا رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ کہ وہاں سودے میں بہت گڑبڑ ہے۔
آئیں گجرات کے ہندووں کی دیانت داری سے منھ موڑ کر امریکا میں موجودہ دین اسلام سے بے نیاز لوگوں کی تجارت میں ایمانداری کی بات کریں۔
مین ہیٹن نیویارک میں پاکستانی سفارت خانے سے ذرا ہٹ کر مشہور برانڈ نائیکی کا Ship Flag اسٹور ہے، اسے نائیکی ٹاؤن کہتے ہیں۔ ہمیں اپنے لیے جاگرز کی تلاش تھی۔ جس خاتون نے ہمارے مسئلے کو اسٹور میں غور سے سنا، اس نے دھیرج سے بٹھایا اور تھوڑی دیر میں ہماری جانب کولہے ہلاتا ہوا، پھولدار چسپاں ٹیک پینٹس میں ملبوس، کانوں میں بڑا سا بالا لٹکائے ان کا سیلز پرسن پرنس آ گیا۔ کان میں لال موتی سے جھلملاتا تنہا بالا دیکھ کر ہمارا خیال تھا کہ ہم تک پہنچتے پہنچتے وہ کہیں گانا چھیڑ بیٹھے کہ ڈھونڈو ڈھونڈو رے ساجنا ڈھونڈو مورے کان کا بالا، مورا بالا چندا کا جیسے ہالا رے۔ قریب آیا تو ایک پیکر دلبری و خوش مزاجی لگا۔
اسے ہم نے مسئلہ بتایا تو اس نے پاس کھڑی لڑکی کو پیروں کا ناپ لے کر ایک فرمہ لانے کو کہا اور خود ایک جاگنگ مشین جس پر اسکرین مانیٹر لگے تھے ہمیں کھڑا کر کے کہنے لگا کہ اس پر ایک دم آہستہ، درمیانہ رفتار اور پھر تیز تیز دوڑو۔ آپ کی چھوٹی سی فلم بنے گی۔ وہ ہم آپ کو ای میل بھی کر دیں گے۔ اس فلم کی روشنی میں ہم آپ کے چلنے کا جائزہ لے کر اسی مناسبت سے جوتے پہنائیں گے۔ فلم دیکھ کر اس نے بہت آہستگی سے معذرت کی کہ اگر اس کا بیانیہ ہمیں ناگوار گزرے تو یہ محض ایک مسئلے کی نشاندہی ہے، تنقید ذات اور ہدفِ تضحیک نہیں اس کا ہماری ذات گرامی قدر کے دیگر کوائف سے کوئی تعلق نہیں۔
وہ گویا ہوا کہ ”فلم دیکھ کر لگا کہ یہ ایک ایسے فرد کی چال ہے جسے پیدل چلنے کی عادت نہیں۔ وہ بہت بد دلی سے قدم اٹھاتا ہے اور جیسے تیسے پیر زمین پر پٹختا ہے۔ اس شخص کی کمر میں بھی اکثر درد رہتا ہو گا، کیوں کہ وہ نہ تو صحیح سے گھٹنا موڑتا ہے اور زمین پر پیر بھی پنجے کی بجائے ایڑی کے سہارے پٹختا ہے۔ جس کی وجہ سے سا را Impact اس کی ریڑھ کی ہڈی پر پڑتا ہے جو احتجاجاً درد سے کراہنے لگتی ہے۔ اس شخص کو اگر ان مشکلات سے نجات پانی ہے تو قدم اٹھاتے ہوئے گھٹنے موڑنے ہوں گے۔ پیر پنجے کے بل زمین پر رکھنا ہو گا۔“ ہمیں خیال ہوا کہ اپنے بیانیے کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے اس نے واحد غائب کا صیغہ یعنی Third Person Singular کا صیغہ استعمال کیا تھا۔ خاکسار کو لگا کہ یہ مکتب سے زیادہ اس کی جنسی ترجیحات کے حوالے سے جن محافل اور روابط کو نبھانا پڑا ہو گا اس کی تعلیم ہے۔ آپ اگر بیرون ملک Gays، Lesbian، Cross Dressers کی بارز اور محافل میں شریک ہوں تو آپ کو لگے گا کہ جوش، فراق گورکھپوری کی طرح یہ زبان اورCulturation کی اور ہی دنیا میں رہتے ہیں۔
اس نے ہمارے لیے جن جاگرز کا انتخاب کیا اس کے پنجے اور ایڑی دونوں میں لینڈنگ کے وقت جھٹکا سہنے کی خوب طاقت تھی۔ کہنے لگا کہ ایک ماہ کی وارنٹی ہے سارے امریکا میں کہیں بھی واپس کرو، جوتے پہنے ہوئے بھی ہوں تو رقم بغیر سوال جواب کے پوری لوٹا دی جائے گی۔ ہم نے کہا ہم تو پاکستان میں رہتے ہیں ہم کہاں ایک ماہ میں واپس کرنے آئیں گے۔ وہ اپنی سپروائزر کو لے آیا تو وہ کہنے لگی آپ کے لیے تو میں ساری عمر کی گارنٹی دے دیتی ہوں۔ ادائیگی کر کے چلنے لگے تو وہ تھرکوا ہمیں اور اپنی سپروائزر کو چھیڑتے ہوئے کہنے لگا۔ ان کو وارن کر دیں کہ یہ وارنٹی اسی وقت قابل قبول ہوگی جب یہ اپنا موجودہ اسٹائل چھوڑ کر میری طرح چلنا شروع کر دیں گے۔ ہم نے بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور کہہ دیا ایسی Hip Swing سیکھنے کے لیے تو ہمیں Gigi Hadid (عربی النسل مشہور امریکی ماڈل) کی مدد لینے پڑی گی تو اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر کچھ اس ادا سے ہمیں کلر (قاتل) کہا کہ مادھوری ڈکشٹ کا فلم دیوداس والا ’اللہ مار ڈالا‘ یاد آ گیا۔
ان کم بختوں کی تجارت میں ایمانداری کا دوسرا واقعہ۔ پہلے ماحول بنانے کے لیے مصطفے زیدی مرحوم کا یہ قطعہ یاد کرلیتے ہیں
یوں ہم کہاں، شراب کہاں، لیکن ایک شام
کچھ یار دوست ساتھ تھے، کچھ ہم اداس تھے
اس کی نظر کے فیض سے، غم اور بڑھ گیا
پہلے بھی ہم اداس تھے، پر کم اداس تھے
مین ہٹن میں مراکش نامی اس ریستوراں میں جب ہم نے دو رات پہلے کھانا کھایا تو بغیر سلائی کا ڈوریوں سے بندھا گاؤن پہنے جب وہ آرڈر لے رہی تھی تو اس کا حسن، ادائیں اور اداکاری دیکھ کر ہمیں لگا کہ قلوپطرہ نے اپنی کسی قریبی رشتہ دار کو ہماری خدمت پر بھیج دیا ہے۔
اپنے سینے سے ڈولتی پھولدار ڈوری پر Queen Nefertitti کی نیم پلیٹ لگا لیتی تو واقعی ملکہ مصر لگتی
شام کہسار جیسا دھواں دھواں سراپا دیکھ کر کئی لوگ اسے فرعون کے خانوادے سے تسلیم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا نام ایڈنا تھا۔ دو دن بعد ہم جب ایک شام وہاں سے گزر رہے تھے تو یکایک بارش شروع ہو گئی۔ ہم نے جلد ہی مراکش میں Duck کیا تو ایڈنا دکھائی دی۔ آج وہ شام کی شفٹ میں تھی۔ ہم نے اس کو شیشہ لانے کا کہا تو مشروب کا بھی پوچھنے لگی۔ شائے مع لیمون مع نعنا Tea with lemon and mint۔ تھوڑے سے لوگ تھے۔ باہر آتے جاتے لوگ شیشے کی بڑی کھڑکی سے دیکھو تو اچھے لگتے تھے
شیشہ پہلے آ گیا اور چائے کی جگمگاتی قدیم طرز کی کیتلی بعد میں۔ مینو کے حساب سے دونوں ہی بیس بیس ڈالر کے تھے
یہ کیتلی ایڈنا نے نہیں لا کر رکھی بلکہ وہی ویٹر جو شیشہ رکھ کر گیا تھا وہ لایا تھا۔ ہم دیکھ سکتے تھے ایڈنا ادھر ادھر منڈلا تو رہی ہے مگر ہماری طرف نہیں آتی۔ چائے کی کیتلی میں نہ پودینہ تھا نہ پلیٹ میں لیموں۔ ہم نے بھی سوچا کہ اب اس پر کیا بات کریں ہو سکتا ہے اس بے چاری کی کھنچائی ہو جائے۔ اٹھنے لگے اور بل کا اشارہ کیا تو بل البتہ ایڈنا ہی لے کر آئی، جس میں شیشے کے بیس ڈالر تو درج تھے مگر اس چائے کی لبالب بھری کیتلی کا کا کوئی ذکر نہ تھا جس کا معاوضہ بیس ڈالر تھا اور جسے ہم نے مزے لے لے کر پیا تھا۔ اس بھول چوک پر ہم نے توجہ دلائی تو کہنے لگی کہ یہ تو وہ چائے نہیں جو آپ نے مانگی تھی۔ اس میں پودینہ اور لیموں نہیں۔ جب یہ وہ چائے نہیں تو اس کا معاوضہ کیسا۔ یہاں آج ہوٹل میں ہم چار لوگ ہی ہیں۔ بارش کی وجہ سے بھیج کر یہ اشیا منگانا بھی مشکل تھا لہذا ہم نے چائے کے پیسے نہیں لگائے۔ ہم نے بہرحال وہ بیس ڈالر بطور ٹپ For you کہہ کر چھوڑے تو ایڈنا نے خود باہر جاتے وقت دروازہ کھولا، گلی کے نکڑ تک ہاتھ ہلاتی رہی اور ہمیں لگا کہ اس کی نظر کے فیض سے سارے مین ہیٹن میں ایک استقبالی ریڈ کارپٹ سا بچھ گیا ہے اور ہمارا کیا ہے
پہلے بھی ہم اداس تھے پر کم اداس تھے۔










لیجئے ملتے جلتے یا مرکب الفاظ سے کیا کیا دھوکہ نہیں ہوتا۔
کراچی کے کلفٹن والے علاقے میں دو سوسائیٹیاں عرصہ پہلے قائم ہوئی تھیؐ۔ نیو دہلی پنجابی سوداگراں سوسائٹی اور دہلی مرکنٹائل سوسائٹی مضمون کی سرخی پڑھ کر یوں لگا جیسے یہاں بھی کچھ سوداگراں گروپ کی کہانی ہوگی۔ ویسے بھی صاحب تحریر یوں تو میمن بھی ہے، مسلم بھی ہے، بیوروکریٹ بھی ہے اور کلفٹن کا رہائشی بھی۔
یہ سبھی کچھ ہے کوئی پوچھے کیا ۔۔۔۔۔۔ بھی ہے ؟
–
لیکن جب پڑھا تو سمجھ آیا کہ معاملہ کتابچہ کو کتے کا بچہ پڑھنے جیسے تھا۔
حضرت نظام رح کا انتقال April 1325 AD میں ہوا جب ہجری مہینہ Rabi Al-Thani 725 AH چل رہا تھا۔ یوں محرم 714 ھ میں سن عیسوی 1314 رہا ہوگا۔ انٹرنیٹ چیک کرنے کا موڈ نہیں۔ لیکن یہ 20 سال کا گھپلا ہوجاتا ہے۔
–
متعدد لوگ اس بات سے لاعلم ہیں کہ ہر 33 عیسوی سال کے بعد پورا ایک ہجری سال بڑھ جاتا ہے یعنی 33 عیسوی سال برابر ہوتے ہیں 34 ہجری سال۔ یوں یکم محرم 1400 کو جو عیسوی مہینہ اور تاریخ ہوگی یکم محرم 1434 کو بھی وہی عیسوی مہینہ یا تاریخ ہوگی اور سال کا فرق 33 کا۔ محض ایک آدھ دن کسی بھی پشاوری مولانا کے طفیل کم زیادہ ہوسکتا ہے۔-
حضرت دانا صاحب علی ہجویری 1050 ء کے آس پاس لاہور آچکے تھے ان کی آمد کی ایک بڑی وجہ جو لوگ یاد نہیں رکھتے وہ یہ ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب غزنی افغانستان کے حاکم محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملے شروع کر رکھے تھے ۔ لاہور راستے میں پڑتا تھا۔ داتا صاحب کی پیدائش بھی غزنی افغانستان تھی اور لاہور ایک نئی مارکیٹ کے روپ میں غزنیوں کے لئے نمودار ہوچکا تھا۔ مارکیٹ چاہے مالی ہو علمی یا روحانی۔
–
اس وقت لاہور بالعموم ہندو اکثریتی علاقہ تھا۔ مسلمان بس خال خال ہی تھے اور اصل رہائش قلعے سے باہر۔ داتا صاحب بھی اس وقت کے شہر سے باہر رہتے تھے۔
–
محمود غزنوی کے ہندوستانی حملے 1001 ء میں شروع ہوئے 1018 میں اس نے متھرا کو تہس نہس کیا اور پھر 1030 میں مرنے سے 5 سال پہلے 1025 میں سوم ناتھ کو تباہ کیا۔یہ بھی یاد رہے کہ یہ غزنوی فتوحات صلاح الدین ایوبی کے دور1137 سے 1193 تک یعنی سو سال پہلے کی ہیں۔محمود کی متعدد جنگوں میں البیرونی اس کے ساتھ ہوتا تھا یہی وجہ ہے کہ اس زمانے کی ہندوستان پرعہد ساز کتاب تاریخ الہند وجود میں آئی۔–
داتا صاحب کا دور 1009 سے 1077 اسی سلسلے یعنی حمود غزنوی کی فتوحات کی ایک کڑی تھا۔
اس کے بعد خواجہ معین الدین چشتی المعروف خواجہ غریب نواز کا 1143 سے 1236 کا دور آتا ہے جنہوں نے راجھستانی صحرا کے وسط میں ایک شہر اجمیر کو آباد کردیا۔
اس کے بعد پاک پتن کے بابا فرید الدین گنج شکر کا دور آتا ہے 1173 سے 1265 تک۔
جب کہ حضرت نظام الدین اولیاء مدفون دہلی کا دور 1238 سے 1325 عیسوی رہا۔
–
داتا صاحب کے بعد آنے والے تینوں بزرگ اور متعدد دوسرے لوگوں کے لئے داتا صاحب کا مزار ۔۔۔ صوفیوں کے مکہ جیسی اہمیت رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نظام ہوں، غرئب نواز یا خود بابا فرید ان سب نے داتا صاحب کے مزار پر چلے کاٹے۔ اور اپنے روحانی درجات بلند کئے۔
تجارت یا باہمی معاہدوں میں امانت اور دیانت کی پاس داری کا بڑا تعلق علاقہ اور جینز یعنی نطفوں سے بھی ہے۔ اہل لاہور کو رونے کی بجائے جب ان علاقوں کے ان دنوں کے مسائل اور مصائب کو دیکھیں کہ ہی پانچ دس سال بعد کوئی افغان، سکھ یا پندو راج پوت یا مرہٹہ ہی نہیں مسلمان فوجی یا ڈاکو بھی سلطان بننے کی خواہش میں لاہور پر حملہ آور ہورہا ہوتا تھا۔ یوں بارگین ان کی زندگیوں کا اہم حصہ تھا۔ یہاں قابژ ایک سمت سے آتے اور دوسری سمت سے نکل جاتے تھے۔ پڑاؤ اور ٹہراؤ اسی وقت تک رہتا جب تک راوی میں سیلابی پانی ہوتا۔
–
ہندوستان کے ساحلی علاقے گجرات (کاٹھیاواڑ والا) کی بات ہو جو کراچی سے زیادہ نزدیک ہے بہ نسبت لاہور کے پڑوسی جی ٹی روڈ گجرات سے وہاں حملہ آوروں کے پاس آنے کا راستہ تو ہوتا تھا لیکن آگے جانا ممکن نہیں تھا کہ سامنے سمندر ہوتا تھا وہی بحیرہ عرب۔ اس لئے گجراتیوں کی تجارت لاہوریوں سے مختلف رہی۔ ویسے اس دور میں بھی لاہور مسلمانوں کا گڑھ نہیں تھا کہ شہر کی خاصیت دودھ والے گوجر اور دریا پر بننے والے جہاز اور کشتیاں بھی تھیں جو راوی سے نکل کر بحر ہند پورے ہندوستان اورپھر بحر ہند سے ہوتی ہوئی دنیا بھر کو جاتے تھے۔
–
لوگوں کے رویے کس طرح ان کے خاندانوں اور شہروں کی عکاسی کرتے ہیں اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جو ایک کراچی والے "اردو اسپیکنگ” کی خود نوشت میں پڑھنے کو ملا تھا۔
–
اپریل کا پہلا ہفتہ تھا اور سال 1988 میں کراچی سے کوہاٹ، آئی ایس ایس بی کے لئے چلا تھا۔ عمر کوئی 23 ساال ہوگی۔ والدین کا تعلق لکھنوء سے۔ یونیوسٹی سے تازہ تازہ گریجویٹ۔
اسلام آباد کسی رشتے دار کے گھر عارضی پڑاؤ کے لئے جانا تھا سو ریلوے اسٹیشن سے ایک جی ٹی ایس کی بس میں ٹکٹ لیا منزل کراچی کمپنی کا اسٹاپ تھا۔
کنڈکٹر کو دس روپے دیئے ساتھ اسٹوڈنٹ کا کارڈ دکھایا تو اس نے برا سا منہ بنایا اور کہا کہ باقی پیسے بعد میں دونگا۔ طالب علم نے مان لیا۔
سیٹ پر بیٹھا تھا کہ مسافروں کی تعداد بڑھی۔ ایک بزرگ نظر آئے (بزرگ کی تعریف ان کے لئے ہر وہ شخص تھا جو ان سے عمر میں بڑا ہو یا عور ت ہو)۔ بزرگ کی تعظیم میں یہ سیٹ سے کھڑے ہوئے اور بزرگ کو بٹھادیا۔ وہ بیٹھ اور یہ کھڑے ہوگئے۔
کچھ دیر بعد ایک سیٹ خالی ہوئی تو یہ پھر بیٹھ گیا۔ کراچی کمپنی اب بھی بہت دور بلکہ آخری اسٹاپ میں سے تھا۔
یہ بیٹھے اور کچھ دیر بعد کھڑے ہوچکے تھے۔ بقول ان کے یہ اٹھک بیٹھک تین بار ہوچکی تھی۔ بس اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوچکی تھی جب کنڈکٹر نے ان کے پاس آکر99 روپے آٹھ آنے واپس کئے۔ یہ کراچی والا اسٹوڈنٹ بولا۔ یہ کیا ہے۔ وہ کہنے لگا باقی پیسے۔ اسٹوڈنٹ نے بے نیازی سے کہا کہ اس نے دس 10 کا نوٹ دیا تھا سو 100 کا نہیں۔ کنڈکٹر نے غصے سے کہا مذاق مت کرو۔ یہ بھی سنجیدہ ۔ بحث مباحثے کے بعد کنڈکٹر نے اضافی 90 روپے اس بات سے لئے کہ کچھ ہوجائے وہ اب یہ پیسے واپس نہیں کرے گا۔ یہ اس وقت کھڑے تھے۔
اتنے میں ایک بزرگ جن کویہ اپنی سیٹ پر بٹھاچکے تھے۔ اپنے پڑوسی سیٹ والے سے کچھ کہا اور دونوں نے اس دبلے پتلے طالب علم کو اپنے درمیان بٹھالیا۔
اب جو کچھ اس بڑے میاں نے ان کو کہا۔ بقول ان کے میری زندگی کے سنہرے الفاظ تھے۔ بڑے میاں بولےَ
"میاں صاحب زادے لگتا ہے باہر کسی دوسرے شہر سے آئے ہو۔ شاید کراچی سے”۔ یہ بولے "ہاں ۔ آپ کو کیسے علم ہوا”۔
–
کہنے لگے یہ جو اتنی دیر سے تم حرکتیں کررہے ہو۔ یہ یہاں کے لوگوں کا چلن نہیں۔ یہ کسی ایسے اہل تہذیب بچے کی حرکتیں ہیں جو خاندانی ہو۔ یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کون طالب علم ہوگا جو نوے روپوں کو اس طرح چھوڑ دے اور بزرگوں کی تعظیم میں کرسی سے الگ ہوجائے”۔
ماضی میں مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون ہوتا تھا یہ کسی شخص کا نام نہیں تھا۔ ایسے ہی جیسے خلیفہ راشد کسی شخص کا نام نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے اولین سیاسی راہ نما کا نام تھا جو محمد ﷺ کے بعد تخت مدینہ پر براجمان ہوئے۔
فراعین میں سے دو فرعون خواتین بھی گزری ہیں۔ ان میں ایک نیفریٹی (نیفریطی) کے علاوہ جو خاتون فرعون سب سے زیادہ مشہور ہوئی اس کا نام قلوپطرہ ہے۔ یعنی قلوپطرہ ایک مصری فرعون خاتون تھی۔
شائے کی کیتلیوں کی غلط جگہ پر پیسٹنگ نے ایک بار پھر رنگ میں بھنگ ڈالا۔
عربی چائے گویا قہوے، سودا-گراں اور سوداگراں سے ہوتے ہوئے کتابچہ اور کتے کا بچہ اپنی جگہ ایک دل چسپ بات اور یاد آئی۔
–
قہوہ جسے بعض عرب ق کو گ (جب کے عربی میں گ نہیں ہوتا) بولتے ہیں کی وجہ سے گہوہ بن جاتا ہے۔ اس کی مخصوص کیتلی کے لئے ایک لفظ "دلہ” بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لفظ کو ہم اردو والے عام طور طور پر بھڑوے یعنی گالی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ یہی دلا یا دلہ مختلف اعراب کے ساتھ کئی معنی رکھتا ہے۔ مثلاً دلا بھٹی میں دلا پیش کے ساتھ دُلا ہوتا ہے جو سفید عقیق کا قیمتی پتھر ہوتا ہے۔ زیر کے ساتھ استعمال کریں تو یہ جوتے کے تلوے یا سول کے لئے استعمال ہوتا ہے کسی کو کچھ دینا دلانا بھی ایسا ہی لفظ ہے۔
–
سعودیہ اور کچھ مزید ممالک میں ٹریفک لائسنس جاری کرنا سرکاری کام نہیں بلکہ ایک پرائیویٹ کمپنی کو اس کا ٹھیکہ دہائیوں سے ملا ہوا ہے جس کمپنی کا نام "دلہ” ہے اور اس کی نشان بھی یہی قہوے کی کیتلی ہے۔ سعودیہ میں عام لفظ یہی بولا جاتا ہے کہ یار دلہ میں کوئی جاننے والا یا کسی دلے کو جانتے ہو۔ وجہ یا لائسنس لینا ہوتا ہے یا گاڑی کی ٹیسٹنگ کرانی ہوتی ہے۔
–
یہ کتھا آپ کے دلہ یعنی گہوے کی کیتلی دیکھ کر یاد آیا