جسٹس منصور کا مصنوعی ذہانت پر فیصلہ


جسٹس منصور علی شاہ نے ایک کرایہ دار کی بے دخلی کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انضمام پر بحث کی جو عدالتی کارکردگی کو بڑھانے اور کیس مینجمنٹ میں نظامی تاخیر کو دور کرنے کی اس کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے۔ جسٹس صاحب نے مصنوعی ذہانت کی اہمیت اور موجودہ وقت میں اس کی افادیت کا بخوبی تجزیہ کیا ہے اور حکومت کو اس بابت قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ ذیل میں ہم ان امور کا اختصار سے جائزہ لیتے ہیں۔

جدت ضروری ہے

عدلیہ میں تاخیر کی نظامی وجوہات کا جائزہ لینے اور جدید عدالتی اور کیس مینجمنٹ نظاموں کو نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے، خاص طور پر ضلعی عدلیہ کی سطح پر۔

مصنوعی ذہانت کا انضمام آپریشنل اصلاحات کے لیے ایک امید افزا راستہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، بشرطیکہ یہ آئین کی حدود، خاص طور پر آئین پاکستان کے آرٹیکل 10 (الف) اور 37 (ڈی) جو منصفانہ اور فوری انصاف کے حق کو یقینی بناتے ہیں، کی پابندی کرے۔

مصنوعی ذہانت میں عالمی دلچسپی

دنیا بھر کے جج قانونی تحقیق، مسودہ سازی اور فیصلہ سازی میں معاونت کے لیے اے آئی پلیٹ فارمز چیٹ جی پی ٹی وغیرہ میں تیزی سے دلچسپی لے رہے ہیں۔

قابل ذکر مثالوں میں ایک کولمبیا کے جج کا چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے ایک فیصلہ کا مسودہ تیار کرنا اور ایک پاکستانی جج کا دیوانی اور فوجداری دونوں مقدمات میں اس کا استعمال کرنا شامل ہے، جس سے سرکاری فیصلوں میں اے آئی کی مناسبت پر بحث چھڑ گئی ہے۔

عدلیہ میں مصنوعی ذہانت کے اطلاق

مصنوعی ذہانت انسانی فیصلے کی جگہ لینے کے بجائے عدالتی افعال کی تکمیل کر کے عدالتی اور ادارہ جاتی پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے، جیسے :

سمارٹ قانونی تحقیق اے ائی ٹولز کے ذریعہ وسیع قانونی ڈیٹا بیس پر کارروائی کر کے متعلقہ نظائر اور قانونی دفعات نکال سکتے ہیں، جس سے عدالتی تحقیق کی درستگی اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔

اے آئی ٹولز کی مثالوں میں Westlaw، LexisNexis AI، Casetext اور ChatGPT شامل ہیں۔

اخلاقی اصول و ضوابط

جسٹس صاحب مصنوعی ذہانت کو اپناتے وقت عدالتی آزادی اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

آٹومیشن تعصب ”کے بارے میں خدشات اور اے آئی کی مدد سے کئیے جانے والے فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

منصفانہ سماعت کے حق کو اے آئی کی وجہ سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور اے آئی کے نفاذ میں شفافیت اور احتساب ضروری ہے۔

مصنوعی ذہانت کے چیلنجز

نظام (اے آئی سسٹمز) تعصبات سے پاک ہو اور اسے عدالتی استدلال پر منفی اثر نہیں ڈالنا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کی لغزش (اے آئی ہیلوسینیشن) جیسے مسائل، جہاں اے آئی من گھڑت نتائج پیدا کرتا ہے، خاص طور پر قانونی سیاق و سباق میں جہاں درستگی سب سے اہم عنصر ہے۔

ریگولیٹری فریم ورک

مختلف بین الاقوامی رہنما اصول اور اخلاقی منشور عدالتی نظاموں کے اندر اے آئی کے استعمال میں شفافیت، احتساب اور نگرانی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

فیصلہ یورپی کمیشن کے اخلاقی چارٹر اور یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن کا حوالہ دیتا ہے، جو اہم قانونی مضمرات کے ساتھ مکمل طور پر خودکار فیصلوں کو محدود کرتا ہے۔

عدالتی فیصلہ کارکردگی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ بنیادی حقوق اور اخلاقی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے عدلیہ میں اے آئی کے سوچ سمجھ کر اور اصولی طور پر اپنانے کی وکالت کرتا ہے۔ اے آئی ٹولز کا انضمام عدالتی عمل کی نمایاں طور پر حمایت کر سکتا ہے، لیکن تعصبات سے بچنے اور قانونی نظام کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔

جسٹس منصور علی شاہ ایک بار پھر وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ قانون کو ہم آہنگ کرنے میں سبقت لے گئے ہیں یہ فیصلہ یقینی طور پر موجودہ وقت کے ایک اہم مسئلہ پر خاص و عام کی توجہ حاصل کرے گا کہ مصنوعی ذہانت سے کیسے فائدہ اُٹھانا ہے اور اس سے کیسے خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ عدالتی فیصلہ میں یقینی طور پر اے آئی کے تعصب یا جانبداری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن عدالتی معاملات کو اس جانبداری سے کیسے محفوظ بنانا ہے یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کیوں کہ اے آئی کا سارا انحصار ڈیٹا پر ہے جو کچھ ڈیٹا میں موجود ہے اے آئی اسی کے مطابق نتائج مرتب کر سکتی ہے۔ جیسے کہ پیکا ایکٹ میں دہشت گردی کی مبہم تعریف۔ اسی طرح اے آئی ہیلوسینیشن کا چیلنج بھی ہے اے آئی آپ کی بات کو کس انداز میں سمجھ رہی ہے جیسے ”روکو مت جانے دو“ کے دو مطلب نکل سکتے ہیں جو کہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اے آئی سسٹمزکو یورپی یونین اے آئی ایکٹ میں درج قواعد کے تحت لاگو کرنے کے لئے پاکستان میں ابھی کام ہونا باقی ہے جس پر یہاں بحث کی گنجائش نہیں ہے۔

مصنوعی ذہانت شعبہ قانون کے لئے جہاں ایک بہت بڑا فائدہ ہے وہاں پر اس شعبہ قانون اور اس سے وابستہ لوگوں کو اس سے خطرہ بھی ہے جو شعبہ جات مصنوعی ذہانت کے پھلنے پھولنے سے سکڑنے والے ہیں ان میں یہ شعبہ بھی شامل ہے مگر ہمیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم تبدیلی کو اتنی جلدی قبول نہیں کرتے۔ اس فیصلہ میں جوڈیشل اکیڈمی میں ججز کو اے آئی کی تربیتی کلاسز دینے اور مصنوعی ذہانت سے روشناس کرانے کی بات کی گئی اس حوالہ سے میری گزارش ہے کہ ججز کو پراپمٹ انجینئرنگ سے روشناس کرانا نہایت ضروری ہے جس طرح شہادت قلمبند کراتے ہوئے کون سا سوال پوچھنا چاہیے اور کون سا نہیں بہت اہمیت کا حامل ہے اسی طرح اے آئی سے صحیح سوال پوچھنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اے آئی سے بالآخر وہی مستفید ہو پائے گا جو اے آئی سے سوال پوچھنے کا فن جان لے گا۔

Facebook Comments HS