شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے


لاہور کی تاریخ میں 60 کی دہائی بدمعاشوں اور جرائم پیشہ افراد کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب وطن عزیز میں ابھی کلاشنکوف کلچر متعارف نہیں ہوا تھا اور پستول کسی کسی کے پاس ہوتا تھا۔ اس زمانے میں ”گراری“ والے چاقو کی ایک طرح سے حکمرانی تھی۔ کوئی بدمعاش جب مخالف کے سامنے کڑ کڑ کرتا ہوا گراری والا چاقو کھولتا تو نازک طبع افراد کے دل دھل جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہم سکول جاتے تھے۔ لاہور میں اس زمانے کے چند مشہور بدمعاشوں میں کاکا لوہار سر فہرست تھا۔ یہ باغبانپورہ کا رہنے والا تھا۔ اس کے گھر کے قریب ہی میرا سکول تھا۔ لیکن اس کو کبھی دیکھا نہیں تھا۔ ہمارے سکول کے قریب ہی پتنگ فروش صادق شاہ کی دکان تھی۔ بچوں کے سینہ گزٹ کے مطابق صادق شاہ کاکے لوہار کا دوست اور ساتھی تھا۔ میں سکول سے واپسی پر اکثر اس سے گڈی یا پتنگ خرید لیتا۔ میں کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اسے پیسے دیتا اور ڈرتے ڈرتے پتنگ یا ڈور اس کے ہاتھ سے پکڑتا۔ وہ بھی رعونت سے پیسے پکڑتا اور اکڑ کر پتنگ یا ڈور میرے حوالے کرتا۔

اس زمانے میں پتنگ بازی بچوں اور بڑوں کا ہردلعزیز کھیل تھا۔ فروری کے دوسرے ہفتے میں بسنت ایک تہوار کی طرح منائی جاتی تھی اور لاہور کی فضاء رنگ برنگی تتلیوں کی طرح اڑتی ہوئی پتنگوں سے بھر جاتی۔ ہم بچوں کے نازک دل بھی پتنگوں کے ساتھ فضاؤں میں اڑتے تھے اور انہی کی طرح ہواؤں میں لہراتے اور پھڑپھڑاتے تھے۔ اس زمانے کی سب سے بڑی تمنا یہ ہوتی تھی کہ ڈور ہو اور بہت زیادہ ہو۔ پتنگیں ہوں تو بیشمار ہوں۔ اور پھر ہم پیچ لڑائیں تو مزہ آ جائے۔ ابھی چین کی گلے کاٹنے والی کیمیکل والی قاتل ڈور متعارف نہیں ہوئی تھی۔ مقامی پتنگ بازی کی صنعت اپنے عروج پر تھی۔ لاہور کے ہر علاقے میں فٹ پاتھ پر پتنگ اڑانے والی ڈور بنانے کے ’اڈے‘ لگے ہوتے تھے جہاں اس صنعت سے وابستہ لوگ دھاگے کو رنگ برنگے مانجے لگاتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔

فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت تھی لیکن موسیٰ خان مغربی پاکستان کے گورنر مقرر نہیں ہوئے تھے۔ پتنگ فروش صادق شاہ کے علاوہ اور بہت سے لوگ کاکا لوہار کے ساتھی تھے۔ بدمعاشوں کی تاریخ لکھی جائے تو موسیٰ خان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوگی۔ انہوں نے گورنر بنتے ہی بدمعاشوں کے خلاف پورے ”مغربی پاکستان“ میں آپریشن شروع کیا تھا۔ بڑے بڑے پھنے خان بدمعاش ان کے عتاب سے چھپتے پھر رہے تھے۔ باغبانپورہ اس زمانے میں بدمعاشی کا گڑھ تھا۔ یہاں بچے بھی بدمعاش تھے اور بڑے بھی بدمعاش تھے۔ سب اپنے اپنے لیول کے بدمعاش تھے۔ یہ جو واقعہ بیان کرنے لگا ہوں یہ گرمیوں کی چھٹیوں میں پیش آیا تھا۔

باغبانپورہ سے ملحقہ ایک علاقے میں پنجابی، ضلع ہزارہ کے ہندکو بولنے والے، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگ اور دیر کے پشتون اکٹھے رہتے تھے۔ اس لیے میں ہندکو کے علاوہ پشتو بھی اچھی خاصی سیکھ گیا تھا۔ غالباً اتوار کا دن تھا۔ ابھی شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے کا وقت تھا۔ سورج تپش کھو رہا تھا اور غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ ہم باہر ”پتے“ کھیل رہے تھے۔ پتوں کا کھیل یہ تھا کہ سگریٹ کی خالی ڈبیوں کو کاٹ کر پتے بنائے جاتے تھے۔ ہر سگریٹ کے برینڈ کے پتے ہوتے تھے۔ اس زمانے میں پتے بھی بچوں کا پسندیدہ کھیل تھا۔ ابھی ہم بچے کھیل رہے تھے کہ ایک دھوتی کرتا پہنے شخص بھاگتا ہوا آیا۔ وہاں پر پنجابی، پٹھان اور ہزارہ کے لوگ کھڑے تھے۔ اس شخص کی عمر پچاس کے قریب رہی ہوگی۔ بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا۔ قد کوئی چھ فٹ کے قریب ہو گا۔ اس نے بتایا کہ کچھ لوگ اسے جان سے مارنا چاہتے ہیں اور وہ اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ لوگوں نے اسے حوصلہ دیا کہ گھبراؤ نہیں۔ ہم اتنے سارے لوگ یہاں کھڑے ہیں۔ کسی کی کیا مجال کہ تمہیں ہاتھ بھی لگائے۔ تم فکر نہ کرو کچھ نہیں ہو گا۔

کچھ دیر بعد ایک مضبوط جسم کا بڑی بڑی مونچھوں والا بدمعاش، جس نے اس زمانے کے بدمعاشوں کا ہر دلعزیز لباس، بوسکی کی قمیض اور سفید شلوار پہنی ہوئی تھی آیا اور دور سے اس شخص کو للکارا کہ ”اوئے تو نس کے کتھے جائیں گا (اوئے تو دوڑ کر کدھر جائے گا)“ ۔ ہم بچے تو وہیں سہم گئے۔ اس کے ساتھ دو غنڈے اور تھے۔ دو بندوں نے مزاحمت کی کوشش کی تو بدمعاش نے ساتھیوں سے کہا ”پھڑو ایہناں نوں“ (پکڑو انہیں)۔ ان کے پاس ڈنڈے تھے جس سے انہوں نے ”مزاحمت کاروں“ کو مارنا شروع کر دیا۔ بدمعاش اس شخص کی طرف جانے لگا تو ایک پٹھان بابا راستے میں حائل ہو گیا۔ وہ جس طرف سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا بابا آگے آ جاتا۔ تنگ آ کر اس نے بابے کو دھکا دے کر ایک طرف کر دیا۔ جیب سے خوفناک گراریوں والا چاقو کڑ کڑ کی آواز کے ساتھ کھولا۔ ہم بچوں کے تو دل دھل گئے۔ اس نے اس شخص کی چھاتی پر چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی تو اس کے منہ سے خوفناک چیخ نکل گئی۔ لیکن اللہ کا شکر کہ وہ تیزی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ اب وہ بدمعاش بابے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ بابا پشتو میں صفائیاں دینے لگا جس کی سمجھ بدمعاش کو نہیں آ رہی تھی۔ بہرحال بدمعاش اور اس کے ساتھیوں نے اس شخص کا مزید پیچھا نہیں کیا حالانکہ اس بندے کی دھوتی آگے کھیت میں لگائی گئی تاروں کی باڑ میں الجھ گئی تھی۔ بدمعاش ساتھیوں کے ساتھ واپس چلا گیا۔ سب کچھ آناً فاناً ہو گیا تھا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ ایک بہت بڑا طوفان آیا اور چلا گیا اور پیچھے ہزیمت، اذیت، دہشت اور بے عزتی کی داستان چھوڑ گیا۔ کچھ دیر تو شدید خوف و ہراس کی کیفیت رہی اور موت کی سی خاموشی چھائی رہی۔ پھر اس واقعے پر چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں اور خفت کے مارے کھسیانے لوگ پھس پھس کر کے ایک دوسرے کو صفائیاں دینے لگے کہ جی ہم کیا کرتے۔ اس بدمعاش کے پاس تو ”ہتھیار“ تھے اور ہم خالی ہاتھ تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ بدمعاش کاکا لوہار تھا۔

اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ہمارے سکول کھل گئے۔ ایک دن سکول کے راستے میں جگہ جگہ دو دو چار چار لوگوں کی ٹولیاں کھڑی نظر آئیں۔ بڑی گہما گہمی تھی۔ کچھ لوگوں نے اخبار پکڑے ہوئے تھے۔ سکول میں لڑکوں سے پتہ چلا کہ کاکا لوہار قتل ہو گیا ہے۔ اس کے کسی دوست نے کوآپریٹو سٹور کے علاقے میں اسے دھوکے سے بلایا جہاں دشمن پہلے ہی اس کی گھات میں تھے۔ اس طرح کاکا لوہار اپنے انجام کو پہنچا۔ لاہور میں خوف، دہشت اور غنڈہ گردی کا ایک باب ختم ہوا۔

سنا ہے کہ کاکا لوہار کو بدمعاش اس کی ماں نے بنایا تھا۔ اور یہ کہ کاکا لوہار اپنے محلے میں بدمعاشی نہیں کرتا تھا بلکہ محلے داروں سے عزت سے پیش آتا تھا۔

Facebook Comments HS