بہار آئی کہ جیسے یک بار کھل اٹھے ہیں گلاب سارے


شاہدہ سردار کا میسج آیا کہ روٹری کلب کی جانب سے عید ملن گالا کا اہتمام کیا گیا ہے جو اس دفعہ میجر عامر کے فارم ہاؤس میں ہونا قرار پایا ہے۔ میں، جو بوجہ بیماری دو ڈھائی سال سے کاروانِ حوّا کی ساتھیوں اور ایسی تمام محفلوں سے دور رہی لیکن اب دل نے کہا کہ چلو چلو نیسا پور چلو کچھ بہار کے رنگ دیکھو،

چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
پھول کھلے ہیں پات ہرے ہیں کم کم باد و باراں ہے

لیکن دل کی اس خواہش پر دماغ نے فوراً سرزنش کی کہ واکر کے ساتھ کہاں اتنا چل پائیں گی آرام سے گھر بیٹھیں۔ اپنی اس گومگو کیفیت کا شاہدہ سے ذکر کیا، تو اس نے کہا چھوڑیں خود کو 16 سال کا سمجھیں اور آ جائیں ہم سب آپ کے ساتھ ہوں گے۔ ہم نے کہا ہاں ”دل تو بچہ ہے جی“ اور ہم۔ نے اس بچے اور 16 سال کی لڑکی کو زندہ رکھا ہوا ہے لیکن جسم کچھ اور کہہ رہا ہے۔ بہرحال جانے کا فیصلہ کر لیا اور چھ اپریل کے خوشگوار اور روشن دن اپنی گاڑی پر نسیم اور پوتی یمنیٰ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ پہلے طعام و قیام پر پشاور سے آنے والے کاروانِ حوا کے قافلے کا انتظار کرنے لگے، شاہدہ مسلسل رابطے میں رہیں۔ تھوڑی دیر میں ان کی فلائنگ کوچ آ گئی اور موٹر وے پر یہ قافلہ روانہ ہوا۔ کاروانِ حوّا کی ساتھیوں کے علاوہ انر ویل کلب اور روٹری کلب کے ممبران کی دو اور کوسٹرز اور موٹریں بھی ہمارے قافلے میں شامل تھیں۔ صوابی موٹروے سے اتر کر نیسا پور کی جانب مڑے، دونوں جانب سرسبز کھیت ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ راستہ کہیں ہموار، کہیں پتھریلا اور کہیں گرد آلود تھا۔ راستے کی مشکلات دیکھتے ہوئے سوچنے لگی ہر اچھی چیز کو پانے کے لیے ایک مشکل راستے کو لازماً عبور کرنا پڑتا ہے۔ میجر عامر کے خوبصورت فارم ہاؤس تک پہنچنے کے لیے بھی تھوڑے سے مشکل راستے سے گزرنا پڑا۔ نیسا پور پہنچے تو بہار کے کِھلے پھولوں اور سرسبز و شاداب درختوں نے استقبال کیا۔ وسیع و عریض لان میں شامیانے لگے تھے اور یہ وسیع لان مہمانوں خواتین و حضرات اور بچوں سے بھر گیا تھا۔ سرسبز و شاداب لان، خوبصورت بارہ دریاں اور ساتھ بہتا ہوا دریائے سندھ اس منظر کو مزید دلربا بنا رہا تھا۔ ڈھائی سال بعد کاروانِ حوّا کی ساتھیوں سے مل کر خوشی ہوئی۔ دریا کے کنارے گول میز کے گرد شاہین جمیل کے ساتھ نشست سنبھالی۔ میری پوتی یمنیٰ بھی میرے ساتھ تھی۔ صدر روٹری کلب کی جانب سے تمام شرکاء کو شرٹس، پرس اور بچوں کو تحائف دیے گئے۔ عبدالرؤف روہیلہ صاحب اپنی ناسازی طبع کے باوجود سب شرکا میں خوش دلی کے ساتھ تحائف بانٹتے رہے، یمنیٰ کسی تتلی کی طرح اِدھر اُدھر اڑتی پھری۔ وہ تمام چیزوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی جبکہ میں اور شاہین گپ شپ کرنے لگے۔ یہاں بیٹھے بیٹھے محترم ناصر علی سید صاحب اور اپنی پیاری بھابی رفعت علی سید کو یاد کیا کہ پہلے ان کی معیت میں نیسا پور شبِ مہتاب دیکھنے آئے تھے۔ رفعت کے ساتھ ایک بہت ہی حسین اور یادگار وقت گزرا تھا۔ تمام فارم ہاؤس کا چکر لگایا نایاب قسم کے آموں کے درخت کے پاس میری اور رفعت کی بہت خوبصورت تصویریں تھیں۔ ابتسام علی سید بھی یاد آئے جو بھاگ بھاگ کر گاڑی سے میرے لئے کتابیں نکال کر لاتے رہے۔ دل ہی دل میں ان سے مکالمہ کیا کہ ان کے سنگ اس فارم ہاؤس کا رنگ ہی کچھ اور تھا پھر دریا کنارے وہ شب مہتاب تھی، یہ ٹانگیں بھی تو سلامت تھیں واقعی وقت بدل جاتا ہے کبھی انسان خود ویسا نہیں رہتا کبھی دل کے قریب لوگ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔

چلتی ہی جا رہی ہے یہ عمرِ رواں کی ریل

مہر عالم تاب اپنی تمام تر تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ آج فارم ہاؤس کا رنگ ڈھنگ کچھ اور تھا، مہر عالم تاب کی تابانیوں کے ساتھ ساتھ تاباں و روشن عید ملن کی اس منفرد تقریب سے ماحول روشن تھا، ہر سال روٹری کلب کی جانب سے یہ تقریب کنڈ پارک میں منعقد کی جاتی رہی اس دفعہ اس روایت سے ہٹ کے فارم ہاؤس میں منعقد کی گئی۔

تقریب کا آغاز کلامِ پاک کی تلاوت اور قومی ترانے سے کیا گیا، یہاں بیٹھے بیٹھے ان تمام لوگوں کو یاد کیا جو شریک نہیں ہو سکے۔ کاروانِ حوّا کی چیئر پرسن بشریٰ فرخ اور تابندہ بھی نہ آ سکیں لیکن اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب ثمینہ قادر کے ساتھ بشریٰ فرخ اور تابندہ ہنستی مسکراتی آ کے گلے لگیں۔

ڈاکٹر شاہدہ سردار، بشریٰ فرخ، سلمیٰ قاصر، روشن کلیم اور ثمینہ قادر نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے داد وصول کی۔

آفتاب جیسے جیسے نصف النہار کی طرف بڑھتا گیا تو گرمی کی شدت اور حدت میں بھی اضافہ ہو تا چلا گیا۔ دل چاہا کاش بادل آ جائیں مگر اس شدت اور حدت میں بھی حاضرین کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اور وہ مختلف مقابلوں میں حصہ لیتے رہے، رسہ کشی اور مختلف مقابلے جاری رہے لوگ خوش دلی کے ساتھ ان میں حصہ لیتے رہے۔ ہم جہاں بیٹھے تھے، بیٹھے رہے، دریائے سندھ ہمارے بائیں ہاتھ پر نرم روئی سے بہہ رہا تھا۔ چمکتی دھوپ میں اس کی نیلی رنگت نظروں کو بھا رہی تھی۔ دھوپ کی شدت اور تیزی میں دریائے سندھ بھی نیم خوابیدہ سا لگ رہا تھا۔ بادل ہوتے تو یہ منظر اور بھی سندر اور من موہنا رنگ اختیار کر لیتا لیکن آج مہر عالم تاب نے بھی پوری شان سے چمکنے کی ٹھان رکھی تھی۔ تھوڑی دیر میں گرم گرم پکوڑے اور چائے پیش کی گئی، گرمی کے باوجود گرم گرم پکوڑوں نے بھوک میں مزہ دیا۔

نماز کا وقفہ ہوا میں گرمی سے نڈھال ہونے کو تھی کہ اتنے میں بشریٰ فرخ نے کہا اندر آئیں چند سیڑھیاں چڑھ کے اندر فارم ہاؤس کے شاندار کمرے میں گئے اور پنکھے کے نیچے آرام سے پاؤں پسارے تو دل سے بشریٰ فرح کو بہت سی دعائیں دیں۔ کاروانِ حوّا کی ساری ممبرز صوفے پر نیم دراز ہوکے آرام کرنے لگیں۔ کچھ دیر بعد سامنے بہت خوبصورت لان میں نکلے جہاں ڈاکٹر صائمہ اور ڈاکٹر شاہدہ نے سب کی تصاویر لیں، کبھی دریا کنارے، کبھی درختوں کے بیچ ہنستے کھیلتے سب اپنے آپ کو بقول شاہدہ سردار کڑیاں سمجھتی ہوئی تصاویر لیتی اور ان پُر لطف لمحات کو محفوظ کرتی رہیں۔ ثمینہ قادر نے اپنی خوبصورت زلفیں بکھرا کے دل آویز پوز بنائے۔ ان کی زندہ دلی اچھی لگی۔ سلمیٰ قاصر نے جو پھول پکڑ کر تصویر بنائی وہ انداز تو سب کو ایسا بھایا کہ سب نے باری باری اسی انداز میں تصویر بنائی۔ یوں کافی دیر ہنسی مذاق اور عکس بندی ہوتی رہی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ظہرانے کے لیے سب باہر چلے گئے۔ میرے لیے کھانا اندر لے آئے دیکھا تو تھوڑی دیر بعد کاروان کی ساری ممبرز اندر ہی تشریف لے آئیں شاہدہ اور شمشاد نازلی زمین پر بے تکلفی سے بیٹھ گئیں۔ ظہرانے سے انصاف کرنے کے بعد شاہدہ اور شمشاد نازلی نے مل کر ٹپے اور گانے گائے۔ باقی سب نے تالیاں بجا کر ساتھ دیا۔ یوں گپ شپ اور خوش گوار ماحول میں سب نے واپسی کی تیاری کی۔ کارونِ حوّا لیٹریری فورم ایک منفرد تنظیم ہے جس کی چیئر پرسن بشریٰ فرخ پرائڈ آف پرفارمنس لے چکی ہیں اس کے علاوہ بہت سے انعامات، اعزازات اور ایوارڈ ان کے حصے میں آئے۔ بہت سی کتابوں کی خالق ہیں ہماری یہ تنظیم ایک ایسی کہکشاں ہے جس کا ہر ممبر اپنی جگہ ایک ستارہ ہے جگمگاتا ہوا ڈاکٹر شاہد ثمینہ قادر، ڈاکٹر روشن مشرف مبشر، ناز پروین، نیلو، سیما شفیع، شاہین امین، شمشاد نازلی، تابندہ فرخ، عطیہ ہدایت اللہ، شمیم فضل خالق یہ تمام لکھاری خواتین کئی کتابوں کی خالق ہیں۔ اور ان سب کے ساتھ ساتھ آپس میں ایک محبت بھرا تعلق اور یگانگت مثالی ہے میں دو ڈھائی برسوں بعد کسی تقریب میں شامل ہوئی اور جب ثمینہ قادر اور روشن جو پشتو زبان کی مشہور شاعرات ہیں فوراً بڑھ کر میرے جوگرز اتارے اور پہنائے ان کی اس خدمت اور محبت پر میرے دل سے دعا نکلی کہ اللّہ انہیں ہمیشہ سر بلند رکھے اسی طرح برآمدے کی سیڑھیاں اترتے ہوئے نیلم قا صر نے مجھے سہارا دیا۔ مشرف مبشر بھی بار بار محبت کا اظہار کرتے رہی۔ شاہدہ سب کا خیال رکھتی رہی اپنی ان تمام بہنوں کے لیے میرے دل سے دعائیں نکلتی رہیں۔ شاہین جمیل اس تنظیم کی بانی ممبران میں سے ہیں۔ بہت مدبر اور شفیق جو ہمہ وقت میرے ساتھ رہیں۔

ایک خوشگوار روشن دن گزار کے جب باہر آئے پھولوں کی مہک کے ساتھ ساتھ خلوص اور اپنائیت کی مہک نے تادیر سرشار رکھا، نیسا پور کے اس پُر شکوہ فارم ہاؤس میں سبزہ زار، کنج درختاں، بارہ دری اور پہلو میں خراماں خراماں دریائے سندھ فطرت کی دلربائی اور سندرتا کی کہانی سناتے ہیں۔ فطرت یہاں محوِ کلام دکھائی دیتی ہے۔ اللّہ میجر عامر کے حسن ذوق اور اس فارم کو دائم آباد رکھے۔

گاڑی میں بیٹھ کر واپسی کی راہ لی، واپسی کا سفر کیسے جلدی طے ہو جاتا ہے یہ سوچ کر اداس ہوئی۔ گھر پہنچ کے اللّہ کا شکر ادا کیا اور اپنے نصف بہتر کے لیے ڈھیروں دعائیں کی، جن کے ساتھ اور سنگت نے جانا ممکن بنایا۔ اللّہ انہیں سلامت رکھے۔ آمین

Facebook Comments HS