حیات بعد از ممات


موت زندگی کی اٹل سچائی ہے۔ ایک ایسا بھید جسے پانے کے لئے مرنا ضروری ہے۔ اور آج تک کوئی واپس آ کر اس راز کو فاش نہیں کر سکا۔ موت کو لے کر میرا تجسس ایک عرصے سے ہے۔ شاید اس لیے کہ کسی قریبی کی جدائی کے کرب سے نا آشنا ہوں۔ مگر بیرونی دنیا میں اس کے عملی مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر بھی متشدد ویڈیوز کی شکل میں ڈھیروں مواد ایک کلک کی دوری پر موجود ہے۔ جہاں انسان کا حقیقی چہرہ نظر آتا ہے، کٹی پھٹی اور جلی ہوئی لاشیں دیکھنے سے ایک جھرجھری سی ہوتی ہے جو ساتھ میں مظلوم کی دارالمصائب سے آزادی، وقتی ذہنی سکون بھی دیتی ہے۔ موت کے بعد کیا ہے۔ عقیدہ آخرت کو لے کر دنیا میں بہت سی آرا موجود ہیں۔ عام آدمی کے لیے انصاف کی آخری امید مرنے کے بعد خدائے برتر کی عدالت میں ہی ممکن ہے۔ جو دعویٰ کرتا ہے کہ ایک بکری جسے سینگوں والی دوسری بکری نے زخمی کیا۔ اسے بھی سینگ دے کر کہے گا کہ آج لو بدلہ۔ لیکن ہم نے اس کی صفات عدل پر بھی شوگر کوٹ کر کے بچاؤ کی راہ نکال لی ہے۔ لیکن موت بہر حال ہماری چال بازیوں اور ذہنی پرواز سے پار کوئی چیز ہے۔ جسے ہم جھٹلا نہیں سکتے۔ نا مانوس طریقے سے ہمیں آ دبوچے گی۔ کوئی تو ہسپتال میں پیاروں کے بیچ نعرہ مارے گا اور کوئی سر بازار میٹھی گولی نگلے گا۔ مگر موت کو لے کر ہماری ساری رومانوی قیاس آرائیاں ایک طرف اور وہ چند منٹ کی چبھن ایک طرف۔ بعض لوگ تو بستر مرگ پر بیس بیس سال محتاجی جھیل کر مرتے ہیں۔ موت کی ایک صورت خودکشی بھی ہے۔ جب فیصلہ ہو جائے تو جیل کے قیدی اپنی زبان چبا کر بھی زندگی کی مالا کو اُتار پھینکتے ہیں۔ لیکن خوف بہر حال برقرار ہے روز محشر اگر خدا نے حق جان، حق ورثا اور حق خالق کی ڈیمانڈ کر دی تو وقت کے فرعون دیت میں کیا دیں گے۔ لیکن خدا ضرور انسانی سمجھ سے کچھ اُوپر کی چیز ہے۔ میں قوانین فطرت اور سائنس میں کوئی غیر معمولی کھوج کا دعویٰ نہیں کرتا۔ حالانکہ طلبہ کو اناٹومی پڑھاتے وقت ڈینگ مارنے کا سنہرا موقع ہوتا ہے اور اس سے انا کی عجیب سی تسکین بھی ہوتی ہے۔ یہ دنیا اور بذات خود انسان جتنا اچھا بننے کی اداکاری کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ اندوہناک ہیں۔ جس کی سفاکی کی نظیر نہیں ملتی۔ آٹھ ارب انسانوں نے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے۔ موجودہ سائنس میں انسان کی عظمت اور اس کے گھناونے جرائم کو تولا جائے تو پلڑا کس طرف بیٹھے گا۔ لو جی! میں نے یہاں بھی حق و باطل کی جنگ چھیڑ دی یقین جانیے اس میں میرے سے زیادہ میرے پرکھوں کا قصور ہے۔

باوجود اس ساری بحث کے موت کا فرسٹ ہینڈ ایکسپیرینس ہم سب نے کرنا ہے۔ پتا نہیں کون سی تھیوری ٹھیک ہے لیکن بازار میں انت کے کئی سارے ورژن موجود ہیں۔ لیکن بہرحال انتظار کرنا ہو گا۔ اس بے ہودہ زندگی کے سال ہا سال بقول استاد جی ”جھک“ مارنے کے بعد اپنے تعصب سے بھرے اعمال نامے کی جانچ کروانی ہوگی۔ اور اس کے بعد ایک لامتناہی جبر کا آغاز ہو گا۔ کیا یہ زندگی اس قابل ہے جس کے لیے جنموں کا عذاب جھیلا جائے۔ ہر انسان کی سمجھ اور لالچ مختلف ہے۔ اخلاقیات اور تعلیمات کی تو بات ہی نہیں ہو رہی۔ یہ زندگی ایک جبر بے جا ہے، جنہیں سمجھ آ جاتی ہے اُنکے نام سرخیوں میں آتے رہتے ہیں۔ یہ کارخانہ اسی طرح ازل سے چل رہا ہے۔ لیکن جو چیز اس منتقلی کے عمل کو قابل برداشت بناتی ہے وہ رومانوی تجسس ہو سکتا ہے۔ لیکن آخر ونسٹن اور جو لیا بھی تو ایک دوسرے سے دستبردار ہو گئے تھے اور دور سے ہی دیکھ کر نظریں چرا کر اپنی پرانی حماقت پر دو لفظ بھیجتے ہیں اور اجنبیوں کی طرح اپنی راہ لیتے ہیں۔ اگر اسی بدبختی کے گڑھ کے لیے آدم نے ممنوع پھل توڑا اور آسمان سے نکالا گیا۔ اُس کے لڑکے نے اپنے بھائی کو ذبح کیا تو پھر بھول جاؤ کہ کوئی نروان نامی شے بھی ہے۔ اس آگ کو صرف جلتی چربی کی تری بجھائے تو بجھائے۔ اور کوئی حل نہیں۔

Facebook Comments HS