ٹیرف جنگ کا فاتح کون؟


عالمی منظر نامے پر طاقتور ممالک کے درمیان ٹیرف جنگ جاری ہے جس کی شروعات امریکہ بہادر نے کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں بھی کئی ممالک پر ٹیرف عائد کیے تھے۔ اب دوبارہ آفس سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے انھوں نے اپنی کابینہ کو نئے ٹیرف کی تیاری کا حکم دیا اور پھر عمومی طور پر تمام ممالک پر درآمدات کی مد میں 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یورپی یونین پر 20 فیصد، بھارت پر 26 فیصد اور چین پر 34 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا۔ علاوہ ازیں، کینیڈا پر بھی ٹیرف عائد کیے گئے جس کے جواب میں کینیڈا کی جانب سے بھی امریکہ پر جوابی ٹیرف عائد کیے گئے اور چین بھی اس میں پیش پیش ہے۔ موجودہ عالمی صورتحال کا بنیادی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے طاقتور ممالک آپس میں گتھم گتھا ہیں دوسری جانب ہمارا ملک اس میں کہیں نمایاں کردار ادا کرتا ہوا نظر نہیں آ رہا حتیٰ کہ کوئی بھی اسلامی ملک اس عالمی کشیدگی میں برسرپیکار نظر نہیں آتا، اکثر اوقات امریکہ کو آنکھیں دکھانے والا ایران بھی نہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم محض بلند و بالا دعوے کرنے میں سر فہرست ہیں، خود کو ایک مستحکم اور با وقار قوم خیال کرتے ہیں اور اس بنا پر کئی ممالک سے کشیدگی بھی اختیار کرتے ہیں لیکن جب عالمی سطح پر زور آزمائی کا موقع ملا تو حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ بشمول ہمارے اسلامی ممالک کس قدر مضبوط اور دفاعی صلاحیتوں کی حامل ہیں کہ امریکہ کی ٹیرف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھی سکت باقی نہیں رہی کیونکہ سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے حالات اس جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔

اس وقت جبکہ ہم دنیا سے مالی معاونت کے درپے ہیں، جبکہ حالات میں پہلے سے کچھ بہتری رونما ہو رہی ہے بجلی، پیٹرول سستا ہو رہا ہے۔ ایسے میں امریکہ کے جوابی ٹیرف برداشت کرنے کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ایران پہلے ہی امریکہ سے لڑائی مول لیتے لیتے ایسی صورتحال کا شکا ر ہے جہاں امریکہ کے خلاف مزید اقدامات اس کو عالمی سطح پر شکست خوردہ بنا دیں گے۔ امریکہ کی جانب سے عالمی جبر کے خلاف اپنی عزت کا دفاع صرف مضبوط اور مستحکم ممالک کر سکتے ہیں جو دفاعی اور معاشی لحاظ سے مضبوط ہیں اور ایسا ہی عیاں ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں امریکہ اور چین کے کردار پر تبصرہ ضروری ہے۔ سرد جنگ میں کامیابی کے بعد امریکہ کا کردار آمرانہ رہا ہے اور اس کے فیصلوں میں ہمیشہ سے جبر کا عنصر واضح رہا ہے جیسا کہ اس نے محض طاقتور ہونے کی بنیاد پر عراق، شام اور لیبیا کو تباہ کیا۔ خاص کر جب امریکہ نے بلا وجہ روس پر حاکمیت واضح کرنے کے لئے نیٹو کا قیام برقرار رکھا اور روس کے پر امن ہونے کے باوجود اس پر یوکرین کی جانب سے دباؤ بڑھایا جس کی بدولت روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہوئی جس کو ختم کروانے کے لئے اب امریکہ مضطرب نظر آتا ہے لیکن تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے امریکہ پھر وہی غلطی کر رہا ہے اور دنیا پر سبقت حاصل کرنے کی خواہش میں دنیا کو نئی آگ میں جھونک رہا ہے جس کی لپیٹ میں اس کو خود بھی آنا ہو گا کیونکہ مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کے بعد امریکہ کو طاقتور ممالک کی جانب سے جوابی ٹیرف کا سامنا ہے۔ کینیڈا نے امریکہ کے اسٹیل اور ایلومونیم پر ٹیرف کے جواب میں اس پر 52 فیصد ٹیرف اس کی کچھ مصنوعات اور دیگر تمام درآمدات پر عائد کیا ہے۔ جبکہ چین نے حال ہی میں امریکہ پر 125 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔

ٹیرف کو بچوں کا کھیل سمجھا جا رہا ہے اور امریکہ کے غیر سنجیدہ اقدام کی بدولت عالمی سطح پر ہلچل مچ چکی ہے، اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان برقرار ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول وہ یہ اقدامات امریکی معیشت کی بہتری کے لئے اٹھا رہے ہیں۔ ان کے یہ فیصلے کسی حد تک سود مند ثابت ہو سکتے ہیں لیکن بڑے پیمانے پر ان فیصلوں کے نتائج امریکہ کے لئے منفی ثابت ہو سکتے ہیں۔ امریکہ تن تنہا عالمی طاقت نہیں بن سکتا اس کے لئے اس کو تمام ممالک کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں امریکہ عالمی سطح پر تنہا رہ جائے گا۔ امریکی معیشت کی بہتری تمام ممالک کے ساتھ تعاون ہی سے ممکن ہے جس کو وہ اپنے غیر دانشمندانہ اقدامات سے کھو رہا ہے۔ امریکہ پہلے بھی خود کو دنیا کی واحد طاقت خیال کرتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ غاصبانہ رویہ اختیار کرتا رہا ہے اور اس کے یہ فیصلے غلط ثابت ہوتے رہے ہیں کیونکہ دنیا میں مزید طاقتیں بھی موجود ہیں جس کا احساس اس کو آگے چل کر ہو جائے گا جیسا کہ چین امریکہ کو جبر کا منہ توڑ جواب دے رہا ہے اور یہ جنگ روکی نہ گئی تو دنیا کو ایک نئے معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے جس کا شکار خود امریکہ بھی ہو گا۔ امریکہ کی معاشرتی سطح پر پائی جانے والی انفرادیت اس کے ریاست کے فیصلوں میں بھی عیاں ہے جہاں اس کے لئے عالمی فلاح و بہبود پر صرف اپنا مفاد عزیز ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے فیصلوں میں اکثر اجتماعی ترقی کی بجائے کشیدگی اور بے اعتنائی نظر آتی ہے۔ میرے نزدیک امریکیوں کی ترقی ان کو ورثے میں ملی ہے کیونکہ ان کا معاشرتی اور ریاستی مزاج ترقی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا جس میں باہمی تعاون اور امتزاج شامل ہے اور جلد ہی اس کی تشبیہ پاکستان سے کی جائے گی۔ ہماری ریاستی پالیسی میں بھی یہی عنصر نظر آتا ہے اور بطور معاشرہ اور ریاست امریکہ کی طرز پر ہماری توجہ اپنی صورتحال بہتر بنانے کی بجائے کشیدگی اختیار کرنے کی ہے اور ہم خارجی امور کے حوالے سے مختلف مشکلات سے در کنار ہوتے ہیں۔ جبکہ چین کا رویہ اس ضمن میں قابل غور ہے۔

چین کے لوگوں میں کسی قوم کے لئے بھی نفرت اور تعصب نہیں پایا جاتا اور ایسے معاملات میں ان کی قوم میں لاعلمی اور خاموشی پائی جاتی ہے اور ان کی تمام تر توجہ صرف محنت کے ساتھ اپنے کام پر مرکوز ہوتی ہے۔ یہی رویہ چین کا ریاستی سطح پر بھی نمایاں ہے، امریکہ کی طرح بجائے دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے کے چین کی توجہ دنیا کے ساتھ اشتراک کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے پر ہے، جہاں وہ مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے توسیع کر رہے ہیں دوسری طرف امریکہ سب سے لڑائی مول لے کر اپنے لئے مزید تنگی پیدا کر رہا ہے۔ چین کے اس معاشرتی اور ریاستی مزاج کی وجہ کچھ اس کی اپنی اقدار بھی ہیں جن میں کنفوشین ازم نمایاں ہے۔ اپنی روایات او ر اقدار کی بدولت بھی چین کے عمومی مزاج میں سب کو ساتھ لے کر چلنا اور مشترکہ مفاد کو اہمیت دینا ہے۔ دوسری جانب ہمارے سامنے امریکی اقدار ہیں جو انفرادیت سے زیادہ خود پسندی پر مبنی ہے اور یہی صورتحال ہماری اور دیگر اسلامی ممالک کی بھی ہے جو اپنی اقدار سے غافل نظر آتے ہیں۔ ہمیں بالخصوص چین سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے خاموشی کے ساتھ اپنی معیشت کی بہتری کے لئے ریاستی اور معاشرتی سطح پر، متوازن خارجی معاملات کے ساتھ آگے بڑھا جائے اور جب ضرورت ہو تو بیرونی عناصر کا بھرپور جواب بھی دیا جائے۔ ہماری توجہ اپنی معیشت اور معاشرتی ترقی کی بجائے کشیدگی اختیار کرنے پر ہوتی ہے اور جب بیرونی اثر و رسوخ سے نبرد آزما ہونے کا وقت ہوتا ہے تو اس وقت ہم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ امریکہ، پاکستان اور دیگر کئی ممالک کو چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کن صورتوں میں خاموشی اختیار کرنی چاہیے اور کب جواب دینا چاہیے۔ اگر ریاستی سطح کے فیصلوں میں حکمت اور دور اندیشی کی بجائے جذباتیت، تنگ نظری اور رعونت ہوگی تو نتیجہ وہی ہو گا جو اس وقت عالمی بحران کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

Facebook Comments HS