امریکی محصولات اور پاکستانی برآمدات: خدشات و توقعات


امریکہ کی طرف سے دوسرے ممالک کی اشیاء پر محصولات لگانے کے بعد پاکستان کے لئے مشکلات اور مواقع دونوں موجود ہیں۔ اگرچہ امریکہ کی طرف سے کچھ ممالک پر لگائے گئے محصولات کی شرح پاکستان پر لگائے گئے محصولات کی نسبت زیادہ ہے جس سے کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی قیمت کچھ دوسرے ممالک کی برآمدات کی نسبت کم ہوگی جس سے پاکستانی برآمدات بڑھنے کے امکانات ہیں جو کہ درست تجزیہ ہے مگر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دوسرے ممالک امریکہ کے ساتھ بات چیت اور سودے بازی کے نتیجے میں اپنی برآمدات پر امریکی محصولات کی شرح کم یا ختم کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان ممالک کی اشیاء امریکی منڈی میں کم قیمت کی حامل ہونے کی وجہ سے زیادہ پذیرائی حاصل کر سکتی ہیں اس صورت میں امریکی منڈی میں پاکستانی اشیاء کی قیمت مقابلتا مہنگی ہونے کی وجہ پاکستانی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ عناصر اس مسئلے کا حل پاکستانی کرنسی کی قدر گرانے میں پنہاں سمجھیں مگر ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پاکستانی روپے کی قدر گرانے سے مہنگائی کا طوفان آ جائے گا، خام مال بالخصوص درآمدی مال، پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور مزدوروں کے معاوضے میں اضافے وغیرہ کی وجہ سے اشیاء کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی جس کی وجہ سے برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ ممکن نہیں ہو گا بلکہ اس سے ملک میں پہلے سے حاصل اقتصادی و سیاسی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے لئے قابل عمل اور زیادہ مفید حل امریکہ کے ساتھ دوطرفہ بنیادوں پر محصولات کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کو آزادانہ تجارت کے معاہدے کے لئے فوری طور پر مذاکرات کر کے حتمی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ مزید برآں پاکستانی روپے کی قدر کو مزید مستحکم کر کے اسے اڑھائی سو روپے فی ڈالر کے قریب لایا جائے جس سے ملک میں اشیاء کی قیمتیں کم ہوں گی، بالخصوص پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتیں کم ہوں گی ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہوں گے، شرح سود میں کمی اور اس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو کم شرح پر قرض کی فراہمی ممکن ہو گی، ان اقدامات کی وجہ سے اشیاء کی پیداواری قیمت میں کمی ہوگی اور برآمدی صلاحیت بڑھے گی۔ اس وقت پاکستانی برآمدات کا زیادہ انحصار امریکہ اور یورپی ممالک کی منڈیوں پر ہے، ممکن ہے کہ امریکی صدر کی طرف سے شروع کی گئی تجارتی جنگ کے نتیجے میں عالمی کساد بازاری کا آغاز ہو جائے جس کے نتیجے میں امریکہ و یورپی ممالک میں ترقی کی رفتار میں کمی اور مہنگائی کی وجہ سے پاکستانی برآمدات پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، ان خدشات کے پیش نظر خاص طور پر اور برآمدات کے لئے چند بڑے ممالک پر انحصار کم کرنے اور دیرپا اقتصادی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ مغربی ممالک کے علاوہ دیگر خطوں اور ممالک کے لئے برآمدات بڑھانے پر توجہ دے، بالخصوص مشرق وسطیٰ خاص طور پر خلیجی ملکوں، نیز چین وسط ایشیا، روس، مشرقی و جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک، افریقہ و لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ باہمی تجارت بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لئے کوشش کرے۔ کہتے ہیں کہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے اسی نکتے کے گرد برآمدات میں اضافے کے اہداف کو رکھنا چاہیے، چھوٹے سے چھوٹے ملک کو چند ملین کی برآمدات کرنے کا ہدف رکھنا چاہیے، دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک کو تھوڑی بہت برآمد کرنے کا ہدف رکھنا چاہیے، دنیا کے صرف سو چھوٹے ملکوں کو دس دس ملین ڈالر کی برآمدات کرنے کا ہدف رکھا جائے تو بھی دس بلین ڈالر کی برآمدات کی جا سکتی ہیں۔

چین کے ساتھ تجارتی خسارہ بہت زیادہ ہے اس پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے، خلیجی ممالک کے لئے برآمدات بہت کم ہیں، اس نکتے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ خلیجی ممالک کے لئے برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ کس طرح ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ان ممالک کے ساتھ قرضوں کے حصول کی بجائے پاکستانی برآمدات کے لئے منڈی تک رسائی کے معاملات پر توجہ دی جانی چاہیے۔ مگر ان سب نکات سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورت ہے، اس وقت برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل اور کچھ زرعی مصنوعات پر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مزید شعبہ جات سے برآمدات بڑھانے کی سعی کی جائے، مختلف سیکٹرز کو اہداف دیے جائیں کہ ہر سیکٹر نے کم سے کم کتنی برآمدات کرنی ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف وزارتوں، اور دیگر ادارہ جات بشمول دفاعی پیداوار کی وزارت اور اس کے ماتحت اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ مقررہ برآمدی اہداف کو حاصل کریں۔ پاکستان کے معاشی مسائل دراصل کم برآمدات کے گرد گھومتے ہیں، اس مسئلے پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور حکومت کے تمام اداروں کو اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کر کے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط اور خودمختار ملک بنانے کی منزل حاصل کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS