آہ بشارت اللہ کھوکھر۔ ایک فرد اور ایک ادارہ!


عام طور پر ان لوگوں کی اموات یا برسیوں کے مرثیے لکھے جاتے ہیں جنہیں مشہور شخصیات کے طور پر جانا یا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کونے کے آس پاس بہت سے گمنام ہیرو موجود ہوتے ہیں۔ وہ ہماری زندگیوں کو بہت سے طریقوں سے اور بہت ساری زندگیوں کو کچھ طریقوں سے متاثر کرتے ہیں۔ وہ کمیونٹی، ساتھیوں، دوستوں، قبیلوں اور ذاتوں اور گوتوں کے سامنے ایک ماڈل ہوتے ہیں۔ بشارت اللہ کھوکھر بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔

وہ بچپن کے پیارے دوست، سرپرست، استاد، کزن اور صحیح معنوں میں میرے یار غار تھے۔ بشارت اللہ 8 اپریل 2023 کو کینسر سے ایک سالہ جنگ کے بعد 47 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
اور مجھے تنہا کر گئے۔

کُنجِ تنہائی میں دیتا ہوں دلاسے کیا کیا
‏دِلِ بیتاب کو میں، اور دِلِ بے تاب مجھے

ان کی دوسری برسی منانے کا مجھے یہی طریقہ سمجھ آیا کہ میں ان کے لیے عمرہ کروں اور دربار خداوندی اور دربار رسالت مآب میں حاضری بھروں جو ان کا دیرینہ خواب تھا۔ آج روزہ مبارک اور جنت البقیع کے سامنے بیٹھے ہوئے وہ مجھے بہت یاد آ رہے ہیں۔

بشارت اللہ چنیوٹ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا اور پرورش پائی، وہیں اس نے اپنی پوری زندگی گزاری۔ اس نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایگرونومی میں ایم فل کیا تھا، اور وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد تھا جو اپنی مقامی روایات سے گہرا اور بھرپور جڑا ہوا تھا۔ بشارت اللہ کا مٹی سے گہرا رشتہ تھا، اور وہ ایک ترقی یافتہ اور ترقی پسند کسان تھے۔ بشارت اللہ بدیہی طور پر عقلمند انسان تھے جو دیہی زندگی سے پیدا ہونے والے یا زراعت اور لینڈ ریونیو کے کسی بھی مسئلے کا تیار حل پیش کر سکتے تھے۔ اسے انسانی فطرت کا گہرا احساس تھا اور وہ کسی بھی انسان کی قدر کا تعین کر سکتا تھا اور وہ اپنے تجزیے میں قطعی طور پر بات چیت کرتا تھا۔ اس صلاحیت کی میرے میں کمی ہے لیکن وہ انسان کو جانچنے اور پرکھنے پر بھرپور مہارت رکھتا تھا۔ اس پر مستزاد اس کی مستقبل بینی کی حد کو چھوتی ہوئی دوراندیشی! وہ کھلا بولنے والا تھا اور ہمیشہ کھرا سچ کہتا تھا، اتنا سچ ہمارا معاشرہ شاید ہضم نہی کر سکتا تھا اور اس پر میری اس سے اکثر بحث ہو جاتی تھی۔

وہ خطرات کو سونگھ سکتا تھا اور ان کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کر سکتا تھا۔ مشکل ترین جھگڑوں کو حل کروانا اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے متحارب گروہوں کو پنچایت فیصلوں کے ذریعے اکٹھا بٹھانا اور حل پر مطمئن کرنا اس کا ایسا آرٹ تھا جو اسے اپنے والد ملک محمد زوار سے ورثے میں ملا تھا۔ اپنے علم اور مہارت کے باوجود، بشارت اللہ نے کبھی اپنا گاؤں چھوڑ کر شہری زندگی اختیار کرنے کا خیال نہیں کیا۔ وہ لبرل انسان تھا لیکن اسلام کی ترقی پسند روایات کا شاندار امین اور بینکنگ کا بھرپور کیریر اس نے صرف سودی آمدنی سے جان چھڑانے کے لیے چھوڑ دیا۔ اسی طرح عشر انتہائی باقاعدگی سے دیتا۔ گاؤں کے لیے صاف پینے کے پانی کی مستقل فراہمی کا انتظام اس کا صدقہ جاریہ ہے ورنہ فیصل آباد کی انڈسٹری کے فضلے کو دریائے چناب میں ڈالنے والی نہر گاؤں سے جتنا قریب گزرتی ہے اور زیر زمین پانی کو تباہ کرچکی ہے وہ گاؤں بلکہ پورے چنیوٹ اور بھوانہ کی تحصیلوں کے لیے بیماریوں کا ایک مستقل ذریعہ ہے۔

کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ضلع چنیوٹ تیس سے چالیس دیو ہیکل ٹیوب ویلوں کے ذریعے فیصل آباد شہر کو گزشتہ چالیس سال سے کتنے ہی ملین گیلن پانی روزانہ مفت فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں واٹر لیول دس فٹ سے گر کر دو سو فٹ تک چلا گیا ہے جس کے وجہ سے زرعی ٹیوب ویلوں کے لگانے اور چلانے کی قیمت بیس سے تیس گنا بڑھ گئی ہے لیکن فیصل آباد، چنیوٹ کے کسانوں کو کوئی سبسڈی نہی دیتا الٹا ہزاروں بیماریاں دو نہروں کی شکل میں ہر لمحہ دیتا ہے۔ بشارت اللہ نے دو تین دفعہ اس مسئلے پر کمیونٹی کو منظم کرنے کی بھی کوشش کی لیکن بے چارہ کسان جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوں وہ اپنے حقوق کی طویل اور جاں گسل جنگ کیسے لڑے۔ اس کا دوسرا دیرینہ خواب جو شاید ہی شرمندہ تعبیر ہو سکے وہ گاؤں کے نزدیک کسی پرانی تہذیب کی باقیات ”پکی ماڑی“ اور ”کچی ماڑی“ کی سائنسی بنیادوں پر کھدائی ہے۔ یہاں لوگوں کو ہزاروں سال پرانے سکے، برتن، تابوت وغیرہ ملتے رہتے ہیں۔ اس کے لیے اس نے کئی دفعہ کچھ محکموں کی پتھر دیواروں سے سر پھٹول کی لیکن بے سود۔

بشارت اللہ انتہائی وسیع المطالعہ تھے۔ راجہ انور کی کتاب ”جھوٹے روپ کے درشن“ انہوں نے مجھے بار بار کہ کر پڑھائی۔ سید ابوالاعلی مودودی صاحب کی ”خلافت و ملوکیت“ میں سہ نہ سکا ان دنوں میں گاؤں کے ماحول کے عین مطابق تحقیق پر مبنی کتابوں سے دور رہتا تھا۔ ان کے اصرار کے باوجود چند صفحات بعد چھوڑ دی۔ وہ اپنی جڑوں سے وابستہ تھے اور اپنی برادری سے گہری محبت رکھتے تھے۔ وہ اپنے خاندان اور دوستوں کے لیے طاقت کا ستون تھا، اور اس نے اپنے گاؤں اور اس سے باہر کے بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو چھوا۔ بشارت اللہ کو ان کا خاندان، دوست اور کمیونٹی بہت یاد کرے گی جس کی انہوں نے بہت اچھی خدمت کی۔ اس کی میراث ان زندگیوں کے ذریعے زندہ رہے گی جو اس نے چھوئیں اور اسباق جو اس نے سکھائے۔

ذاتی طور پر بشارت کی رحلت نے مجھے موت سے کسی اور لیول پر متعارف کروایا ہے۔ موت کو آتے ہوئے انچ انچ بڑھتے ہوئے دیکھنا ایک عجیب و غریب تجربہ ہے۔ مجھے پہلی دفعہ اندازہ ہوا کہ موت کے بھی قدم ہوتے ہیں اور ان کی چاپ بھی ہوتی ہے۔ ہم سب دوست اور فیملی ممبرز جانتے تھے کہ کیا ہونے والا ہے لیکن سب یوں ظاہر کرتے تھے جیسے کسی کو کوئی علم نہی! بشارت کے الفاظ ”Qasim! Game is over“ میری سماعتوں سے پلٹ کر ٹکراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہر ذی روح کو جانا ہے! اس کی زندگی برف کی طرح پگھل رہی تھی قطرہ قطرہ! سانس بہ سانس۔ وہ جا رہا تھا دلیری کے ساتھ، سکون کے ساتھ، صبر اور حوصلے کے ساتھ۔ کراہے بغیر، تڑپے بغیر، خوف زدہ ہوئے بغیر۔ ان کی روح کو ابدی سکون نصیب ہو۔

Facebook Comments HS

محمد قاسم کھوکھر

محمد قاسم کھوکھر نے انجینئرنگ میں ایم فل کیا ہے اور تاریخ خصوصاً قدیم تاریخ، عمرانیات، بشریات، فلسفہ، معاشیات اور انتظامی سائنس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ توانائی، تجارت اور تاریخ پر مختلف روزناموں میں کالم لکھ چکے ہیں۔ امجد نواز وڑائچ کی کتاب ”پنجاب کٹہرے میں“ کے ان کے جائزے کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ روزنامہ سماء میں بھی یہ قسط وارشائع ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل خصوصاً جذباتی ذہانت، انٹیگریٹی مینجمنٹ اور ڈپریشن پر بات کرتے رہتے ہیں۔ غلام مرتضیٰ کے ساتھ مل کر ان کی کتاب ”دی ڈیوائن پرنٹس“ فی الحال زیرِ اشاعت ہے۔

muhammad-qasim-khokhar has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-qasim-khokhar