انڈس کوئین: تاریخ سے ورثے تک کا سفر


انڈس کوئین، جو کبھی ریاست بہاولپور کی بحری تاریخ کا ایک گوہر نایاب تھی، اپنے ساتھ ایک ایسی کہانی لے کر چلتی ہے جو خود اُن دریاؤں کی طرح طوفانی اور دیرپا ہے جن پر یہ کبھی رواں دواں تھی۔ برطانیہ کا یہ جنگی بہری جہاز جس نے سترویں صدی کے اوائل میں جنم لیا۔ اٹھارہویں صدی میں اس پرانے جہاز کو جب برطانوی حکومت نے بیچنے کا ارادہ کیا تو نواب آف بہاولپور نے اسے خریدا۔ اے اپنی سفری ضرورت کے لئے شاہی سواری کے طور پر ازسر نو تعمیر کروا کر ستلج کوئین کا نام دیا۔ یہ عظیم الشان جہاز سکاٹ لینڈ کی شپ یارڈز میں تیار کیا گیا، اور سمندروں اور براعظموں کو عبور کرتا ہوا بہاولپور کے نوابوں کی شاہی سواری بنا۔ فرانس کے ماہر ڈیزائنر نے اس کی تزئین و آرائش کی۔ منقش ڈیک، شاندار کیبن چار سو لوگوں کے سفر کرنے کی وسعت رکھتا تھا اور اپنے زمانے سے آگے کا ڈیزل انجن سجائے ایک شاہکار سواری کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یہ جہاز شاہی تقریبات سے لے کر زائرین تک کو سمیٹتا تھا، اُس دور کی عظمت کا آئینہ دار تھا جب دریا تہذیب کی رگوں میں دوڑتے تھے۔

انیسویں صدی کے شروع میں بننے والے ہیڈ ورکس نے اس جہاز کے سفر کو دریا سے سمندر تک سے سمیٹ کر دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک محدود کر دیا۔ یہ جہاز اب زائرین کو دریا کے ایک کنارے کوٹ مٹھن سے دوسرے کنارے چاچڑاں لے جانے کے کام آتا رہا۔ یوں دربار خواجہ غلام فرید پر جانے والے مریدین کی خدمت بجا لاتا رہا۔ سندھ طاس معاہدے نے اس کے سفر کو ستلج کی طرح مزید سکیڑ دیا اور بیسویں صدی کے آخر تک، یہ اپنے ساتھی دریا جس سے یہ منسوب تھا اس کی خشکی کی وجہ سے ایک نئے نام انڈس کوئین سے منسوب کر دیا گیا اور اس کا سفر بھی نیا تھا اور مقصد بھی۔

پانی مزید کم ہونے پر یہ دیو قامت جہاز کم پانی میں چلنے سے قاصر ہو گیا اور دریا کے کنارے لاپرواہی اور بدقسمتی کا شکار ہو چکا تھا۔ نوے کی دہائی میں آتش زدگی کے بعد کوٹ مٹھن کے کنارے پھنس کر، یہ جہاز دہائیوں تک زنگ آلودہ ہو کر کھنڈر بن گیا، جیسے وقت کے ساتھ بہہ جانے والی شان کا گواہ۔ دراصل اس برباد جہاز کو سندھ طاس معاہدے کے ماحولیاتی اثرات نے مزید تنہا کر دیا، جو بتاتا ہے کہ بدلتی دنیا میں ورثے کو بچانا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔

2017 میں، بہاولپور کی شاہی تاریخ کے محافظ عباسی خاندان نے نور محل میوزیم کی بحالی کے دوران نور محل مینجمنٹ کمیٹی کو انڈس کوئین کو نور محل منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ مگر جہاز کی شکستہ حالت نے اسے وہاں لے جانا ناممکن بنا دیا۔ گاہے بگاہے مختلف خیالات پنپتے اور دمُ توڑ جاتے مگر ہم نے بھی ہمت نہ ہاری اور مسلسل اس کا ذکر جاری رکھا، اور 2021 میں ہماری تجویز پر ایک انوکھے حل کا اعلان ہوا: اصلی جہاز کی عین نقل تیار کر کے اس کی کہانی کو نئی زندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور اسی سال ہی اس تجویز کو پاکستان آرمی نے عملی جامہ پہنایا۔

2022 میں اس کا باقاعدہ افتتاح پاک فوج کے آرمی چیف نے کیا۔ اور اب نور محل میں کھلنے والی انڈس کوئین کی نقل ثقافتی احیا کی علامت بن چکی ہے۔ یہ محض ایک نمائش نہیں، بلکہ ایک آب کنارے ریستوراں ہے جہاں مہمان اس کے شاہی انداز کے کیبن میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، جبکہ دیواروں پر لگی تاریخی تصویریں فلمیں اور نوادرات اُس کے سنہری ماضی کو زندہ کرتے ہیں۔ نقل کی ڈیزائن جیسے اصلی کا 150 فٹ لمبا ڈھانچہ، لوہے کے جنگلے، اور مرد و خواتین کے الگ حصے اور تو اور ریاست بہاولپور اور ولی عہد کے پرچم سے مزین یہ جہاز ریاست بہاولپور کی بحری عظمت کی ایک جیتی جاگتی یادگار ہے۔

انڈس کوئین کی یہ نئی زندگی ایک اہم سبق دیتی ہے : جب اصلی کو بچانا ممکن نہ ہو، تو نقلوں کو تاریخ کا محافظ بنایا جا سکتا ہے۔ مصر کے ازسرِنو تعمیر شدہ مقبروں سے لے کر وینس کے پُل تک، ایسے منصوبے ماضی اور حال کے درمیان پُل بن جاتے ہیں۔ پاکستان جہاں موسمیاتی تبدیلیاں، لاپرواہی، اور وسائل کی کمی ورثے کو نگل رہی ہے، وہاں یہ طریقہ امید کی کرن ہے۔ یہ نقل نہ صرف جہاز کی تاریخ کو سلام کرتی ہے بلکہ اسے سیاحت اور تعلیم کا مرکز بنا کر زندہ کر دیتی ہے۔

آج، انڈس کوئین کی نقل دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہے، جہاں اس کے ڈیک پر نوابوں، صوفی زائرین، اور پرانی یادیں گونجتی ہیں۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ تاریخ کے مٹتے نشان بھی اگر حوصلے سے سنبھالے جائیں، تو اُن کی روح کو دوبارہ جگایا جا سکتا ہے۔ جب مہمان ”نئی“ کوئین پر روایتی پکوانوں کا لطف لیتے ہیں، تو وہ ایک ازسرِنو جنم لینے والی داستان کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ یاد دہانی کہ ماضی کی عزت اور جدت پسندی مل کر ورثے کو جدید دور میں زندہ رکھ سکتی ہیں۔

ایسے خزانوں کو بچاتے ہوئے، پاکستان نہ صرف اپنی شناخت کو محفوظ کرتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ پر فخر کے ساتھ چلیں۔ انڈس کوئین شاید اب دریا پر نہ چلتی ہو، مگر نور محل میں یہ وقت کے سمندر پر ضرور سفر کر رہی ہے۔

نور محل کے ہالوں میں گھومنے والوں کو یہ نقل سرگوشی کرتی ہے : ”تاریخ گم نہیں ہوئی، یہ دوبارہ سنائے جانے کا انتظار کر رہی ہے۔“

یہ تحریر ڈاکٹر معظم خان درانی کی ہے جو کہ شعبہ بشریات دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کے استاد ہیں اور نور محل میوزیم کی تزئین و آرائش میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہسا پراجیکٹ ساتھ مل کر تاریخ کو جدید تناظر جمع کرنے پر کام کر رہے ہیں

Facebook Comments HS

ڈاکٹر معظم خان درانی

ڈاکٹر معظم خان درانی شعبہ بشریات، اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور میں استاد ہیں اور نور محل میوزیم کی تزئین و آرائش میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیمریج کے ماہسا پرجیکٹ ساتھ مل کر تاریخ کو جدید تناظر جمع کرنے پر کام کر رہے ہیں

moazzam-khan-durrani has 9 posts and counting.See all posts by moazzam-khan-durrani